تقلیدِ ائمہ اربعہ کو گروہِ’’ اہل حدیث‘‘ حرام وشرک بتاتا ہے ۔کیا یہ صحیح ہے؟کیا مقلدین اہل حدیث نہیں ہیں ؟تقلید اصل میں کیا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟
جواب
اسلام میں دراصل تقلید سواے رسول اﷲ ﷺکے اور کسی کی نہیں ہے اور رسول اﷲ ﷺ کی تقلید بھی اس بِنا پر ہے کہ آپؐ جو کچھ فرماتے اور عمل کرتے ہیں وہ اﷲ کے اِذن اور فرمان کی بِنا پر ہے ۔ورنہ اصل میں تو مطاع اور آمر اﷲتعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ۔ ائمہ کی پیروی کی حقیقت صرف یہ ہے کہ ان ائمہ نے اﷲ اوررسولؐ کے احکام کی چھان بین کی،آیاتِ قرآنی اور سنتِ رسولؐ سے معلوم کیا کہ مسلمان کو عبادات اور معاملات میں کس طریقے پر چلنا چاہیے، اوراُصولِ شریعت سے جزئی احکام کا استنباط کیا۔ لہٰذا وہ بجاے خود آمروناہی نہیں ہیں ، نہ بذات خود مطاع اور متبوع ہیں ،بلکہ علم نہ رکھنے والے کے لیے علم کا ایک معتبر ذریعہ ہیں ۔ جو شخص خود احکام الٰہی اور سنت نبوی میں نظر بالغ نہ رکھتا ہو اور خود اُصول سے فروع کا استنباط کرنے کا اہل نہ ہو،اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ علما اور ائمہ میں سے جس پر بھی اسے اعتماد ہو،اس کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کرے۔اگر کوئی شخص اِ س حقیقت سے ان کی پیروی کرتا ہے تو اس پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں ۔لیکن اگر کوئی شخص ان کو بطور خود آمرونا ہی سمجھے یا ان کی اطاعت اس انداز سے کرے جو اصل آمرونا ہی کی اطاعت ہی میں اختیار کیا جاسکتا ہے، یعنی ائمہ میں سے کسی کے مقرر کردہ طریقے سے ہٹنے کو اصل دین سے ہٹ جانے کا ہم معنی سمجھے اور اگر کسی ثابت شدہ حدیث یا صریح آیت قرآنی کے خلاف ان کا کوئی مسئلہ پایا جائے، تب بھی وہ اپنے امام ہی کی پیروی پر اصرار کرے،تو یہ بلاشبہہ شرک ہوگا۔ (ترجمان القرآن ،جولائی،اکتوبر ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment