آپ کا جواب ملا۔مگر مجھے اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ آپ نے اسے بالکل معمولی مسئلہ قرار دیا۔ کام یاب شادی کی تمنا تو ایک جائز خواہش ہے اور ایسے حالات پیدا کرنا ،جن کی وجہ سے ایک شخص کے لیے اپنی پسند کی لڑکی چننے کا راستہ بندہوجائے،میں انسانی مسرت اور شخصیت کے ارتقا کے لیے مضر سمجھتا ہوں اور دین فطرت کے منافی۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ، ہمار ے مروّجہ طریقے کے مطابق عورت زیادہ سے زیادہ گھر کی منتظم ہوتی ہے اور خاوند کی اور اپنی جنسی تسکین کا ایک ذریعہ، لیکن دو افراد کے اپنے آپ کو پوری طرح ایک دوسرے کے حوالے کرنے اور زندگی کے فرائض ایک بار کے بجاے خوشی خوشی پورا کرنے کے لیے جو امکانات اپنی پسند اور ذوق کی شادی کرلینے میں ہوتے ہیں ،وہ اس صورت میں قطعاً ممکن نہیں کہ اپنی پسند اور بصیرت استعمال کیے بغیر کسی دوسرے کے انتخاب پر شادی کرلی جائے۔ میرا خیال ہے کہ ایک نوجوان محض جنسی تسکین کا خواہش مند نہیں ہوتا،وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ کسی کے لیے کچھ قربانی کرے،کسی سے محبت کرے،کسی کی خوشی کا خیال رکھے اور کوئی اس کی خوشی پر خوش ہو۔ اس جذبے کے فطری نکاس کا راستہ تو یہ ہے کہ وہ کسی ایسی لڑکی سے شادی کرے جسے اس نے تعلیم، اطوار،کردار اور دوسری خوبیوں کی بِنا پر اپنی طبیعت کے مطابق حاصل کیا ہے (حقیقی محبت کسی کی باطنی خوبیوں کے دیکھنے سے ہی پیدا ہوتی ہے نہ کہ شکل دیکھ لینے سے)۔ اور یہ بات ناممکنات میں ہے کہ پہلے تو کسی کی شادی کراد ی جائے اورپھر اس سے مطالبہ کیا جائے کہ اب اسے ہی چاہو اور یوں جیسے تم نے اس کو خود پسند کیا ہے۔ اس فطری محبت کا راستہ بند کرلینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ جذبہ اپنے لیے دوسرے راستے نکال لیتا ہے۔ پردے کی وجہ سے جو حالات پیدا ہیں ،ان میں حقیقتاً کردار دیکھ کر منگیترتلاش کرنا ممکن نہیں ۔ لڑکے کے با پ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ لڑکی کا پتا چلا سکے،لڑکی کی والدہ کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ لڑکے کے متعلق براہِ راست کچھ اندازہ لگا سکے۔کیوں کہ پردے کی وجہ سے ان افراد میں بھی تعلق اور آزادانہ گفتگو ناممکن ہے۔(خود لڑکے اور لڑکی کا ملنا تو ایک طرف رہا)، بڑی سے بڑی آزادی جو اسلام نے دی ہے وہ یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کی شکل دیکھ لے، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی کی شکل چند سکینڈ دیکھ لینے سے کیا ہوجاتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے،اب تو تمام علما نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ موجودہ تمدنی ضروریات پوری کرنے کے لیے علم کا حاصل کرنا عورتوں کے لیے ضروری ہے۔لیکن مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی کام کرسکتی ہیں ۔ یا تو اسلامی احکام کی پابند ی کریں یا علم حاصل کریں ۔ پردے کی پابند ہوتے ہوئے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ طبقات الارض، آثار قدیمہ، انجینئرنگ اور تمام ایسے علوم جن میں سروے اور دور دراز سفر کی ضرورت ہوتی ہے،ان علوم کے لیے خواتین کس طرح کام کرسکتی ہیں جب کہ محرم کے بغیر عورت کا تین دن سے زائد کی مسافت پر نکلنا بھی منع ہے۔اب کیا ہر جگہ وہ اپنے ساتھ محرم کو لیے لیے پھرے گی؟ یہ علوم تو ایک طرف رہے،میں تو ڈاکٹری اور پردے کو بھی ایک دوسرے کی ضد سمجھتا ہوں ۔ اوّل تو ڈاکٹری کی تعلیم ہی جو جسمانیات کی نگاہیں پھیلا دینے والی معلومات سے پر ہوتی ہے،حیا کے اس احساس کو ختم کردینے کے لیے کافی ہے جس کی مشرقی عورتوں سے توقع کی جاتی ہے، خواہ وہ ڈاکٹری پردے ہی میں سیکھی جائے اور پڑھانے والی تمام خواتین ہی کیوں نہ ہوں ۔ دوم ڈاکٹر بننے پر ایک خاتون کو مریضوں کے لواحقین سے روابط کی اس قدر ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے غیر مردوں سے بات چیت پر قدغن لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب اس کے پیش نظر اگر ہم خواتین کو ڈاکٹر بننے سے روکتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے گھروں کی مریض خواتین کے ہر مرض کے علاج کے لیے مرد ڈاکٹروں کی خدمات کی ضرورت پڑے گی اور رائج الوقت نظریۂ حیات کے مطابق یہ تو اس سے بھی زیادہ معیوب سمجھا جائے گا۔ جناب عالی آپ مجھے یہ بتائیں کہ ان معاشرتی اور تمدنی اُلجھنوں کا اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے کیا حل ہے؟
جواب
آپ کا دوسرا خط ملا۔شادی کے معاملے میں آپ نے جو اُلجھن بیان کی ہے ،وہ اپنی جگہ درست ہی سہی،اس کا حل کورٹ شپ کے سوا اور کیا ہے؟ظاہر ہے کہ جس تفصیل کے ساتھ رفیق زندگی بنانے سے پہلے لڑکی اورلڑکے کو ایک دوسرے کے اوصاف،مزاج، عادات،خصائل اور ذوق وذہن سے واقف ہونے کی ضرورت آپ محسوس کرتے ہیں ، ایسی تفصیلی واقفیت دو چار ملاقاتوں میں ،اور وہ بھی رشتہ داروں کی موجودگی میں حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے مہینوں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا، تنہائی میں بات چیت کرنا، سیر تفریح، سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا اور بے تکلف دوستی کی حد تک تعلقات پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ کیا واقعی آپ یہی چاہتے ہیں کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان اس اختلاط کے مواقع بہم پہنچنے چاہییں ۔ آپ کے خیال میں ان جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے اندر ان معصوم فلسفیوں کا فی صدی تنا سب کیا ہوگا جو بڑی سنجیدگی کے ساتھ صرف رفیق زندگی کی تلاش میں مخلصانہ تحقیقاتی روابط قائم کریں گے اور اس دوران میں شادی ہونے تک اس طبعی جذب وانجذاب کو قابو میں رکھیں گے جو خصوصیت کے ساتھ نوجوانی کی حالت میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے اپنے اندر رکھتے ہیں ؟بحث براے بحث اگر آپ نہ کرنا چاہتے ہوں تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ شاید دو تین فی صدی سے زیادہ ایسے لوگوں کا اوسط ہماری آبادی میں نہ نکلے گا۔ باقی اس امتحانی دور ہی میں فطرت کے تقاضے پورے کرچکے ہوں گے، اور وہ دو تین فی صدی جو اس سے بچ نکلیں گے،وہ بھی اس شبہہ سے نہ بچ سکیں گے کہ شاید وہ باہم ملوث ہو چکے ہوں ۔ پھر کیا یہ ضروری ہے کہ ہر لڑکا اور لڑکی جو اس تلاش وتحقیق کے لیے باہم خلا ملا کریں گے ،وہ لازماًایک دوسرے کو رفاقت کے لیے منتخب ہی کرلیں گے؟ ہوسکتا ہے کہ ۲۰ فی صدی دوستیوں کانتیجہ نکاح کی صورت میں برآمد ہو۔۸۰ فی صدی یا کم ازکم ۵۰ فی صدی کو دوسرے یا تیسرے تجربے کی ضرورت لاحق ہوگی۔ اس صورت میں ان ’’تعلقات‘‘ کی کیا پوزیشن ہوگی جو دوران تجربہ میں آئندہ نکاح کی اُمید پرپیدا ہوگئے تھے اوران شبہات کے کیا اثرات ہوں گے جو تعلقات نہ ہونے کے باوجود ان کے متعلق معاشرے میں پیدا ہوجائیں گے۔ پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ان مواقع کے دروازے کھولنے کے بعد انتخاب کا میدان لامحالہ بہت وسیع ہوجائے گا ۔ایک ایک لڑکے کے لیے صرف ایک ہی لڑکی مطمح نظر نہ ہوگی جس پر وہ اپنی نگاہ انتخاب مرکوز کرکے تحقیق وامتحان کے مراحل طے کرے گا، اورعلیٰ ہذا القیاس لڑکیوں میں سے بھی ہر ایک کے لیے ایک ہی ایک لڑکا امکانی شوہرکی حیثیت سے زیر امتحان نہ ہو گا۔ بلکہ شادی کی منڈی میں ہر طرف ایک سے ایک جاذب نظر مال موجود ہوگا جو امتحانی مراحل سے گزرتے ہوئے ہر لڑکے اور لڑکی کے سامنے بہتر انتخاب کے امکانات پیش کرتا رہے گا۔ اس وجہ سے اس امر کے امکانات روز بروز کم ہوتے جائیں گے کہ ابتداء ً جو دو فرد ایک دوسرے سے آزمائشی ملاقاتیں شروع کریں ، وہ آخر وقت تک اپنی اس آزمائش کو نباہیں اور بالآخر ان کی آزمائش شادی پر منتج ہو۔ اس کے علاوہ یہ ایک فطری امر ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ جو رومانی طرز کا کورٹ شپ کرتے ہیں ، ان میں دونوں ایک دوسرے کو اپنی زندگی کے روشن پہلو ہی دکھاتے ہیں ۔ مہینوں کی ملاقاتوں اور گہری دوستی کے باوجود ان کے کمزور پہلو ایک دوسرے کے سامنے پوری طرح نہیں آتے۔اس دوران میں شہوانی کشش اتنی بڑھ چکی ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے شادی کرلینا چاہتے ہیں ،اور اس غرض کے لیے دونوں ایک دوسرے سے ایسے ایسے پیمانِ وفا باندھتے ہیں ،اتنی محبت اور گرویدگی کا اظہار کرتے ہیں کہ شادی کے بعد معاملات کی زندگی میں وہ عاشق ومعشوق کے اس پارٹ کو زیادہ دیر تک کسی طرح نہیں نباہ سکتے،یہاں تک کہ جلدی ہی ایک دوسرے سے مایوس ہوکر طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔کیوں کہ دونوں اِ ن توقعات کو پورا نہیں کرسکتے جو عشق و محبت کے دور میں انھوں نے باہم قائم کی تھیں اور دونوں کے سامنے ایک دوسرے کے وہ کمزور پہلو آجاتے ہیں جو معاملات کی زندگی ہی میں ظاہر ہوا کرتے ہیں ۔عشق ومحبت کے دور میں کبھی نہیں کھلتے۔ اب آپ ان پہلوئوں پر بھی غور کرکے دیکھ لیں ۔پھر آپ مسلمانوں کے موجودہ طریقے کی مزعومہ قباحتوں اور اس کورٹ شپ کے طریقے کی قباحتوں کے درمیان موازنہ کرکے خود فیصلہ کریں کہ آپ کو ان دونوں میں سے کون سی قباحتیں زیادہ قابل قبول نظر آتی ہیں ۔اگر اس کے بعد بھی آپ کورٹ شپ ہی کو زیادہ قابل قبول سمجھتے ہیں تو مجھ سے بحث کی ضرورت نہیں ہے۔آپ کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس اسلام کے ساتھ آپ اپنا تعلق رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں جو اس راستے پر جانے کی اجازت دینے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہے۔یہ کام آپ کو کرنا ہو تو کوئی دوسرا معاشرہ تلاش کریں ۔ اسلام سے سرسر ی واقفیت بھی آپ کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اس دین کی حدود میں ’’کامیاب شادی‘‘ کا وہ نسخہ استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جسے آپ مباح کرنا چاہتے ہیں ۔ عورتوں کی تعلیم کے متعلق آپ نے جن مشکلات کا ذکر کیا ہے ،ان کے بارے میں بھی کوئی راے قائم کر نے سے پہلے آپ اس بات کو سمجھ لیں کہ فطرت نے عورت اور مرد کے دائرۂ کار الگ رکھے ہیں ۔اپنے دائرۂ کار کے فرائض انجام دینے کے لیے عورت کو جس بہتر سے بہتر تعلیم کی ضرورت ہے،وہ اسے ضرور ملنی چاہیے اور اسلامی حدود میں وہ پوری طرح دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح عورت کے لیے ایسی علمی وذہنی ترقی بھی ان حدود کے اندر رہتے ہوئے ممکن ہے جو عورت کو اپنے دائرۂ کار کے فرائض انجام دیتے ہوئے حاصل ہوسکتی ہے۔اس معاملے میں کوئی انتظامات نہ کرنا مسلمانوں کی کوتاہی ہے نہ کہ اسلام کی۔لیکن وہ تعلیم جو مرد کے دائرۂ کار کے لیے عورت کو تیار کرے،عورت ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہے اور اس کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے آپ میری کتاب’’ پردہ ‘‘ کو بغور ملاحظہ فرمائیں ۔ (ترجمان القرآن،جنوری ۱۹۶۱ء)

Leave a Comment