یہ معلوم کرنے کے لیے کہ زوجین میں سے ہر ایک نے کسی دبائو کے بغیر اپنی رضامندی سے ایجاب و قبول کیا ہے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
جواب
قانونی اغراض کے لیے ایجابی طور پر یہ معلوم ہونا ضروری نہیں ہے کہ نکاح کے فریقین نے اپنی رضامندی سے نکاح کیا ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کسی فریق نے دبائو کے تحت بلا رضا و رغبت مجبوراً ایجاب و قبول کیا ہے۔ اس وقت تک ہر نکاح کے متعلق یہی فرض کیا جائے گا کہ وہ برضا و رغبت ہوا ہے۔ اسلام میں ایجاب و قبول لازماً دو گواہوں کے سامنے ہوتا ہے۔ بالغ لڑکے کا نکاح اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک وہ گواہوں کے سامنے بالفاظ صریح اسے قبول نہ کرے۔ لڑکی کے لیے (اگر وہ باکرہ ہو) زبانی اقرار ضروری نہیں ہے، لیکن اگر وہ بآوازِ بلند روے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے نکاح منظور نہیں ۔ اس طرح شریعت نے خودرضامندی متحقق کرنے کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے، اور یہ بالکل کافی ہے۔ پس پردہ اگر لڑکے یا لڑکی پر کوئی دبائو ڈالا گیا ہو تو اس کا ثبوت مدعی کو لانا چاہیے۔ قانون ایسے کسی دبائو کے عدم کے لیے ثبوت کا طالب نہیں ہے بلکہ اس کے وجود کا ثبوت مانگتا ہے اگر کوئی اس کا دعویٰ کرے۔ دبائو کے عدم کا ثبوت لازم کر دینے سے نہ صرف یہ کہ قانون کا منشا الٹ جائے گا بلکہ اس سے عملاً سخت مشکلات رونما ہوں گی۔

Leave a Comment