کیا آپ کے نزدیک کم سِنی کی شادیوں کو روکنے کے لیے یہ قانون بنانا ضروری ہے کہ شادی کے وقت مرد کی عمر۱۸ سال سے کم اور عورت کی۱۵ سال سے کم نہ ہو۔
جواب
کم سنی کی شادیاں روکنے کے لیے کسی قانون کی حاجت نہیں ۔ اور اس کے لیے ۱۸ سال اور۱۵ سال کی عمر مقرر کر دینا بالکل غلط ہے۔ ہمارے ملک میں ۱۸ سال کی عمر سے بہت پہلے ایک لڑکا جسمانی طور پر بالغ ہو جاتا ہے اور لڑکیاں بھی ۱۵ سال سے پہلے جسمانی بلوغ کو پہنچ جاتی ہیں ۔ ان عمروں کو ازروے قانون نکاح کی کم سے کم عمر قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اس سے کم عمر والے لڑکوں اور لڑکیوں کی صرف شادی پر اعتراض ہے۔ کسی دوسرے طریقے سے جنسی تعلقات پیدا کر لینے پر کوئی اعتراض نہیں ۔ شریعت اسلام نے اس طرح کی مصنوعی حد بندیوں سے اسی لیے احتراز کیا ہے کہ یہ درحقیقت بالکل غیر معقول ہیں ۔ اس کے بجاے یہ بات لوگوں کے اپنے ہی اختیارِ تمیزی پر چھوڑ دینی چاہیے کہ وہ کب نکاح کریں اور کب نہ کریں ۔ لوگوں میں تعلیم اور عقلی نشوونما کے ذریعے سے جتنا زیادہ شعور پیدا ہو گا اسی قدر زیادہ صحیح طریقے سے وہ اپنے اس اختیارِ تمیزی کو استعمال کریں گے، اور کم سنی کے نا مناسب نکاحوں کا وقوع، جو اب بھی ہمارے معاشرے میں کچھ بہت زیادہ نہیں ہے روز بروز کم تر ہوتا چلا جائے گا۔ شرعاً ایسے نکاحوں کو جائز صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ بسا اوقات کسی خاندان کی حقیقی مصلحتیں اس کی متقاضی ہوتی ہیں ۔ اس ضرورت کی خاطر قانوناً اسے جائز ہی رہنا چاہیے اور اس کے نامناسب رواج کی روک تھام کے لیے قانون کے بجاے تعلیم اور عام بےداری کے وسائل پر اعتماد کرنا چاہیے۔ معاشرے کی ہر خرابی کا علاج قانون کا لٹھ ہی نہیں ہے۔

Leave a Comment