کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ معاہدۂ ازدواج میں ہر ایسی شرط درج ہو سکتی ہے جو اسلام اور اخلاق کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو اور عدالت اس کے ایفا پر مجبور کرے؟
جواب
اس سوال کے دو حصّے ہیں ۔ پہلا حصّہ یہ ہے کہ کیا ایسی شرطیں معاہدۂ ازدواج میں درج ہو سکتی ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہو سکتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسی کچھ شرائط ازروے قانون معاہدۂ نکاح کا لازمی جز بنا دی جائیں اور حکومت کی طرف سے شائع کردہ معیاری نکاح نامے میں ان کو شامل کر دیا جائے۔ شریعت نے اس معاملے کو ہر انفرادی نکاح کے فریقین پر چھوڑا ہے اور انھیں اختیار دیا ہے کہ جو مباح شرطیں بھی وہ چاہیں آپس میں طے کر لیں ۔ اس حد سے تجاوز کرکے بعض شرطوں کو قانون یا رواج کی حیثیت دے دینا اصول کے بھی خلاف ہے اور عملاً بھی اس سے بہت سی خرابیاں رونما ہو سکتی ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں جو بات تجربے سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ بالعموم کامیاب ازدواجی رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں فریقین نے باہمی اعتماد پر معاملہ کیا ہو اور طرح طرح کی شرطوں سے ایک دوسرے کو باندھنے کی کوشش نہ کی ہو۔ شرطوں کی بندشیں عام طور پر الٹی خرابی پیدا کر تی ہیں ۔ کیونکہ ان کی بدولت رشتے کا آغاز ہی بے اعتمادی سے ہوتا ہے۔ مصنوعی شرطوں کو رائج کرنے کے لیے صرف یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ وہ اسلام اور اصولِ اخلاق کے خلاف نہیں ہیں ۔ کسی چیز کے خلافِ اسلام اور خلافِ اخلاق نہ ہونے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ اسے ضرور کرنا چاہیے۔ سوال کا دوسرا حصّہ یہ ہے کہ کیا عدالتیں ایسی شرطوں کے ایفا پر حکماً مجبور کر سکتی ہیں جو معاہدۂ ازدواج میں درج ہوں اور خلافِ اسلام و اخلاق نہ ہوں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کی مقرر کردہ شرطوں کے سوا جتنی شرطیں بھی معاہدۂ ازدواج میں درج کی گئی ہوں انھیں نافذ کرتے وقت عدالت کو صرف یہی نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ خلافِ اسلام و اخلاق نہیں ہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ طرفین کے انفرادی حالات میں وہ معقول اور منصفانہ بھی ہیں ۔

Leave a Comment