کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ ازروے قانون یہ تسلیم کیا جائے کہ معاہدۂ ازدواج میں یہ شرط ہو سکتی ہے کہ عورت کو بھی اعلانِ طلاق کا وہی حق حاصل ہو گا جو مرد کو حاصل ہے؟
جواب
اگر ایجاب و قبول کے وقت عورت یہ کہے کہ میں اپنے آپ کو تیرے نکاح میں اس شرط کے ساتھ دیتی ہوں کہ میں جب چاہوں اپنے اوپر طلاق وارد کرنے کی مختار ہوں گی اور مرد اسے قبول کر لے تو قانوناً اس شرط کو صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورت تفویض طلاق کی ہے اور فقہا نے اسے جائز رکھا ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تفویض طلاق کا قانوناً جائز ہونا اور چیز ہے اور اسلامی معاشرے میں اسے رواج دینے کی کوشش کرنا اور چیز۔ اس کا قانونی جواز تو صرف اس بنا پر ہے کہ مرد کو شریعت نے طلاق کا جو اختیار دیا ہے اسے وہ اپنی طرف سے نیابتا ً یا وکالتا ً جسے چاہے سونپ سکتا ہے اور عورت کو بھی وہ تفویض کر سکتا ہے لیکن اس کی ترویج اور ہر معاہدۂ نکاح میں اس شرط کو شامل کرنے کی کوشش قطعاً اسلام کے منشا کے خلاف ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان حقوق و اختیارات کا جو تناسب قائم کیا ہے اس کا یہ فطری اور منطقی تقاضا ہے کہ زوجین میں سے صرف مرد ہی طلاق کا مختار ہو۔ اس نے مہر اور زمانہ عدت کا نفقہ اور چھوٹے بچوں کے زمانۂ رضاعت و حضانت کا خرچ کلیتاً مرد پر ڈالا ہے۔ اس لیے مرد مجبور ہے کہ طلاق کا اختیار استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے، کیونکہ اس کا پورا مالی نقصان اسی کو برداشت کرنا ہو گا۔ بخلاف اس کے عورت پر کوئی مالی ذمہ داری اس نے عائد نہیں کی ہے بلکہ طلاق کے نتیجے میں اسے کچھ لینا ہی ہوتا ہے، دینا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اختیارِ طلاق کے استعمال میں سخت بے احتیاطی کر سکتی ہے بلکہ ذرا سے اشتعال پر بھی بے تکلف طلاق دے سکتی ہے۔ ان وجوہ سے عورت کی طرف اس اختیار کو منتقل کر دینا اس اسکیم کے بالکل خلاف ہے جو اسلام نے اپنے ازدواجی قانون میں پیش نظر رکھی ہے۔ اس غلط طریقے کو اگر رائج کیا گیا تو معاشرے میں اس کے بہت برے نتائج رونما ہوں گے اور ہم کثرتِ طلاق کی ایک ایسی وبا سے دو چار ہو جائیں گے جس سے اب تک ہمارا معاشرہ محفوظ رہا ہے۔

Leave a Comment