کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ اگر بیوی نے نکاح نامے میں میعادِ نفقہ کے متعلق خاص شرط لکھوا لی ہو تو اسے محض مدتِ عدت تک ہی نہیں بلکہ مدت مشروطہ تک نفقہ ملے؟
جواب
نکاح کے وقت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ برادری اور خاندان کے دبائو سے، یا لحاظ مروت کی بنا پر غیر معقول شرائط تسلیم کر لی جاتی ہیں ۔ اس طرح کی شرطوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔ نفقے کا جائز حق ایک عورت کو جس حد تک حاصل ہے اس سے زیادہ کی کوئی شرط اگر معاہدہ نکاح میں لکھوا لی گئی ہو تو اسے ازروے قانون نافذ نہیں ہونا چاہیے۔ (ترجمان القرآن، دسمبر۱۹۵۵ء)

Leave a Comment