کیا قرآن کریم میں کوئی نص صریح موجود ہے یا کسی صحیح حدیث میں یہ تعلیم ملتی ہے کہ یتیم پوتے، پوتی یا نواسے نواسی کو بہرحال محروم الارث کر دیا جائے؟
جواب
یہ مسئلہ ان اصولی احکام سے خودبخود نکلتا ہے جو قرآن و حدیث میں تقسیم میراث کے متعلق دیے گئے ہیں اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ردّوبدل کرکے یتیم پوتے پوتی یا نواسے نواسی کو وارث بنانے کی جو صورت بھی تجویز کی جائے اس سے قانون میراث کا وہ سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے جو قرآن و سنّت کے اصولی احکام پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاے اسلام شروع سے آج تک اس پر متفق رہے ہیں ۔ یہاں چونکہ اس مسئلے کی پوری توضیح ممکن نہیں ہے اس لیے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ جماعت اسلامی کے شائع کردہ پمفلٹ ’’پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘‘ صفحہ۹ تا ۴۰ ملاحظہ فرمائیں ۔ اس کی ایک کاپی اس جواب کے ساتھ ارسال کی جا رہی ہے۔

Leave a Comment