ایسے مقدمات میں اخراجات ِمتفرقہ کو پورا کرنے کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟
جواب
جو فریق زیادتی کرنے والا ثابت ہو، یا جس نے بیجا مقدمہ بازی کرکے عدالت اور فریق ثانی کا وقت ضائع کیا ہو اس پر مناسب خرچہ ڈالا جائے جس کا ایک حصّہ فریق ثانی کو ملے اور ایک حصّہ عدالت کے مصارف میں وضع کیا جائے۔ علاوہ بریں حدِّ اعتدال سے زیادہ مقدار کے مہر کا دعویٰ اسٹامپ ڈیوٹی کے بغیر قبول نہ کیا جائے اور مہر جتنا حد سے متجاوز ہو اسی تناسب سے اسٹامپ ڈیوٹی زیادہ بھاری لگائی جائے۔ یہ تدبیریں معاشرے کی اصلاح میں بھی مددگار ہوں گی اور ان سے عدالت کا پورا خرچ نہیں تو اس کا ایک معتدبہ حصّہ ضرور حاصل ہو جائے گا۔ کچھ کمی اگر رہ جائے تو اسے سرکاری خزانے سے ادا ہونا چاہیے۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۵ء)

Leave a Comment