آپ نے جمہوریت کو قرآن وسنت کا منشا قرار دیا ہے۔آپ بخوبی واقف ہیں کہ فی زماننا جمہوریت ایک مخصوص طرز حکومت کا نام ہے جس کی بنیاد عوام کی غیر محدود حاکمیت کے تصور پر قائم ہے، جسے ہم کسی طرح بھی کتاب وسنت کی منشا کے مطابق قرار نہیں دے سکتے۔ آپ جمہوریت کے لفظ کو اس کے معروف معنی سے ہٹا کر استعمال کررہے ہیں ۔آپ نے خود اسلامی طرز حکومت کے لیے ’’تھیوڈیما کریسی‘‘ کی اصطلاح وضع کی تھی، اب اس اصطلاح کو چھوڑ کر آپ ڈیما کریسی کی طرف کیوں رجعت کررہے ہیں ۔
جواب
جمہوریت کے متعلق میں بارہا اپنی تحریروں اور تقریروں میں یہ بات اچھی طرح واضح کرچکا ہوں کہ اسلام میں جمہوریت کا اصل جوہر موجود ہے۔ مگر جمہوریت کے اسلامی تصور اور جمہوریت کے مغربی تصورات میں بڑا فرق ہے۔ اسلام عوام کی لامحدود حاکمیت کا قائل نہیں ہے، بلکہ خدا کی حاکمیت کے تحت عمومی خلافت کا قائل ہے۔اس عمومی خلافت کے اختیارات چوں کہ کسی شخص یا خاندان یا گروہ میں مرکوز نہیں ہوتے بلکہ بحیثیت مجموعی پوری ملت کو حاصل ہوتے ہیں اور وہی اس کی مجاز ہے کہ جس کو چاہے ،ان اختیارات کے استعمال کے لیے منتخب کرے،اس لیے شخصی اور گروہی حکومت سے ممتاز کرنے کے لیے اسلام کے طرز حکومت کو جمہوری حکومت کہا جاسکتا ہے۔ یہی اسلام کا مخصوص تصور جمہوریت ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا ایک ہی معروف اور متفق علیہ تصور رائج ہے۔مغرب میں بھی جمہوریت کے مختلف تصورات، مثلاًسرمایہ دارانہ جمہوریت، اشتراکی جمہوریت وغیرہ موجود ہیں ۔ ان کے بالمقابل اسلام کے طرز حکومت کو اسلامی جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے۔اسی اسلامی جمہوریت کو میں نے ’’تھیوڈ یما کریسی‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔اس اصطلاح سے بھی مراد جمہوریت ہی کی ایک قسم ہے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہے۔ (ترجمان القرآن،فروری ۱۹۵۶ء)

Leave a Comment