میرے ملازمین کاشت بھی ہیں جن میں سے چند حصہ پر ہیں اور چند تنخواہ دار ہیں ۔ حصہ داری پر کام کرنے والے میرے بیلوں کے ساتھ میری اراضی میں میرے منیجروں کی ہدایات کے تحت کام کرتے ہیں ۔بیج میرا ہوتا ہے۔ بعد میں ملکیت کے طور پر ۳۱ حصہ بٹائی اورتین سیر فی من کل انبارمیں سے وصو ل کرتا ہوں ۔بقیہ غلہ کا نصف بیلوں کے مصارف میں لیا جاتا ہے اور نصف کارکنوں کی کارکردگی کے حق میں دیا جاتا ہے۔ مثلاً الف،ب،ج میرے حصے دار ہیں اورد،ذ میرے ملازم ہیں ۔ان کے پاس میرےپانچ جوڑی بیل کاشت کے لیے ہیں ۔ میں ۵۰من غلے میں سے اپنی بٹائی لے کرتین حصے الف،ب،ج کو دوں گا،باقی پانچ حصے بیلوں کے اور دو حصے تنخوا ہ دار ملازموں کے میں لوں گا،کیوں کہ ان کی تنخواہ میرے ذمے ہے۔آبیانہ وغیرہ علاوہ ملکیتی لگان سرکاری کے مندرجۂ بالا نسبت سے ادا ہوگا۔
جواب
]اس شکل [ میں جو صورت معاملہ آپ نے بیان کی ہے،اس میں اجرت اور بٹائی کو خلط ملط کردیا گیاہے جس سے ظلم کی راہ نکل سکتی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنی اراضی کے جن قطعات کو اجرت دے کر کاشت کرانا ہوانھیں الگ رکھیں ، اور جنھیں بٹائی پر دیناہو انھیں خالص بٹائی کے لیے مخصوص کردیں ۔اجرت پر کام لینے کی صورت میں زمین کی ساری پید اوار خواہ کم ہو یا زیادہ، آپ کی ہوگی،اور آپ کے ملازم صرف اپنی اجرت کے مستحق ہوں گے۔ اور بٹائی پر زمین دینے کی صورت میں آپ کویا آپ کے منیجروں کو مزارعین کے کام میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ،آپ خواہ محض زمین مزارعوں کو دیں ، یا ہل بیل اور بیج میں سے بھی کوئی چیز دیں ،بہرحال آپ ایک طے شدہ نسبت کے مطابق پیداوار میں سے صرف اپنا حصہ لینے کے مجاز ہیں ۔ (ترجمان القرآن ، اکتوبر۱۹۵۰ء )

Leave a Comment