میری ملکیت وراثتاً میرے پاس منتقل ہوئی ہے اور میرے آبائ و اجداد نے حکومت سے یادوسرے زمین داروں سے’’قیمتاً‘‘لی تھی۔میرے پاس کوئی سرکار ی جاگیر وغیرہ نہیں ۔ اس کی شرعی حیثیت بیان کیجیے۔
جواب
آپ نے اپنی زمین داری کی جو اصل بیان کی ہے،وہ اگر درست ہے تو آپ کی ملکیت شرعاً درست قرار پائے گی۔ اس صورت میں طریقۂ زمین داری کی اصلاح آپ کے ذمے ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو شرعی وارث موجود ہوں ،ان کے حصے آپ انھیں تقسیم کردیں ۔ (ترجمان القرآن ، اکتوبر۱۹۵۰ء )

Leave a Comment