دوبارہ متکلف ہوں کہ جو چند باتیں جناب کے نوازش نامے سے نہیں سمجھ سکا، ان کی مزید توضیح کی درخواست کروں : اگرتین سیر فی من بٹائی کے علاوہ لینا درست نہیں ہے تو پھر دوسرا یہ راستہ ہے کہ بٹائی کی شرح تبدیل کروں ۔ مثلاً ۳۱ کے بجاے ۵۲ یا ۵۳ کی شرح قائم کی جاسکتی ہے،یا کوئی اور صورت جو شرعاً زیادہ مناسب ہو تحریر فرمائیں ۔حصہ داروں اور ملازمین کے رقبوں کو علیحدہ کرنے کے لیے میں نے آج ہی کہہ دیا ہے۔بہرحال بٹائی کے شرعی طریق یا تناسب سے مطلع فرمائیں ۔
جواب
بٹائی کایہ طریقہ اُصولاً صحیح ہے کہ پیداوار جو کچھ بھی ہو،اس میں سے مالک زمین اور کاشت کار متناسب طریق پر حصہ تقسیم کرلیں ،مثلاً یہی کہ ۵۲ مالک کا اور۵۳ کاشت کار کا۔ مگر اس معاملے میں انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لیے یہ لحاظ رکھنا چاہیے کہ ہر کاشت کار کو کم از کم آپ اتنی زمین کاشت کے لیے دیں جس کی پیداوار کا حصہ اس کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ نیز تناسب مقرر کرنے میں رواج سے قطع نظر کرکے انصاف کے ساتھ یہ دیکھیں کہ حاصل شدہ پیداوار کی تیاری میں آپ کا اور آپ کے کاشت کار کا واقعی کتنا حصہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی عالم گیر ضابطہ تو بنایا نہیں جا سکتا، اس لیے کہ ہرعلاقے کے زراعتی حالات مختلف ہوتے ہیں البتہ بادی النظر میں یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اگر آپ کی صرف زمین ہو اور بیج، ہل اور محنت سب کاشت کار کی ہو تو اس صورت میں ۵۲ اور۵۳ کی نسبت مبنی بر انصاف نہیں ہے۔بہرحال یہ ضروری ہے کہ مالکان زمین اپنے معاملات کو صرف شرعی ضوابط کے مطابق درست کرنے ہی پر اکتفا نہ کریں بلکہ کھلے دل سے انصاف کرنے پر آمادہ ہوجائیں ۔ (ترجمان القرآن ، اکتوبر۱۹۵۰ء )

Leave a Comment