آپ نے فرمایا ہے کہ میرے ملازمین یا منیجروں کو مزارعین کے کام میں دخل دینے کا حق نہیں پہنچتا۔سوال یہ ہے کہ اگر ان کی نگرانی نہ کی جائے تو وہ مالک زمین کا حق مار کھائیں گے اور کماحقہ محنت نہ کریں گے۔ ملازمین کے مصارف کا بوجھ صرف مجھی پر ہوتا ہے، مزارعین کو اس سے کوئی تعلق نہیں ۔
جواب
آپ کو اس بات کی نگرانی کرنے کا حق ضرور پہنچتا ہے کہ کاشت کار بٹائی سے پہلے مشترک غلے میں بے جا تصرف نہ کریں اور مزارع کی حیثیت سے اپنے فرائض بھی ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں ۔لیکن اس نگرانی کو اس حد تک نہ بڑھنا چاہیے کہ مزارع کی حیثیت بالکل ملازم یا مزدور کی سی ہوکر رہ جائے،اور آپ کا نگران عملہ بالکل اپنے حکم کے تحت ان سے کام لینے لگے۔اُصولاً ایک مزارع آپ کا ملازم یا مزدور نہیں ہے بلکہ ایک شریک کاروبار کی حیثیت رکھتا ہے،اور یہی سمجھ کر اس سے معاملہ کرنا چاہیے۔مجھے مزارعین کی جو شکایات معلوم ہوئی ہیں ،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زمین دار اور ان کے ملازمین ہر وقت ان کے سر پر سوار رہتے ہیں اور ان کے ہرکام میں مداخلت کرتے رہتے ہیں ۔میرا مدعا اسی طریقے کی اصلاح ہے۔ (ترجمان القرآن ، اکتوبر۱۹۵۰ء )

Leave a Comment