حضرت ابراہیم ؈ کا واقعۂ ہجرت جب کہ ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی اور ایک ظالم بادشاہ نے بدفعلی کا ارادہ کیا اور اﷲ تعالیٰ نے اس ظالم کو اپنی قدرت قاہرہ کے ساتھ اس ارادے سے باز رکھا۔آپ نے یہاں بھی اختلاف کیا ہے اور اس واقعے کو لغو قرار دیا ہے۔ آپ اس پر نظر ثانی فرمائیں یا اپنے خیالات سے رجوع فرمائیں یا مسکت دلائل تحریر فرمائیں ۔آپ کے مخالفین،خدا انھیں ہدایت دے،ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔
جواب

حضرت ابراہیم ؈ کے کذبات ثلاثہ کے مسئلے پر میں نے دو جگہ بحث کی ہے۔ایک رسائل ومسائل ] سوال نمبر۷۵۴] دوسرے تفہیم القرآن ،بسلسلۂ تفسیر سورۂ الانبیاء،حاشیہ نمبر۶۰۔ ان دونوں مقامات پر میں نے وہ دلائل بھی بیان کردیے ہیں جن کی بِنا پر میں اس روایت کے مضمون کی صحت تسلیم کرنے میں متأمل ہوں ۔ اگر میرے ان دلائل کو دیکھ کر آپ کا اطمینان ہوجائے تو اچھا ہے، اور نہ ہو تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں ، اسی کو صحیح سمجھتے رہیں ۔ اس طرح کے معاملات میں اگر اختلاف رہ جائے تو آخر مضائقہ کیا ہے۔ آپ کے نزدیک حدیث کا مضمون اس لیے قابل قبول ہے کہ وہ قابل اعتماد سندوں سے نقل ہوئی ہے اور بخاری، مسلم، نسائی اور متعدد دوسرے اکابر محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک وہ اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس میں ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے، اور یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے کہ چند راویوں کی روایت پر اسے قبول کرلیا جائے۔ اس معاملے میں ،میں اس حد تک نہیں جاتا جہاں تک امام رازیؒ ہیں ۔ وہ تو کہتے ہیں کہ’’انبیا کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے سے بدرجہ ہابہتر یہ ہے کہ اس روایت کے راویوں کی طرف اسے منسوب کیا جائے۔‘‘ ({ FR 1575 }) اور یہ کہ’’نبی اور راوی میں سے کسی ایک کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنا پڑ جائے تو ضروری ہے کہ وہ نبی کے بجاے راوی کی طرف منسوب کیا جائے۔‘‘ ({ FR 1576 }) مگر میں اس روایت کے ثقہ راویوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ انھوں نے جھوٹی روایت نقل کی ہے،بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی نہ کسی مرحلے پر اس کو نقل کرنے میں کسی راوی سے بے احتیاطی ضرور ہوئی ہے۔اس لیے اسے نبیؐ کا قول قرار دینا مناسب نہیں ہے۔محض سند کے اعتماد پر ایک ایسے مضمون کو آنکھیں بند کرکے ہم کیسے مان لیں جس کی زد انبیا ؊ کے اعتماد پر پڑتی ہے؟
میں ان دلائل سے بے خبر نہیں ہوں جو اس روایت کی حمایت میں اکابر محدثین نے پیش کیے ہیں ، مگر میں نے ان کو تشفی بخش نہیں پایا ہے۔ جہاں تک فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا (الانبیائ:۶۳)اور اِنِّیْ سَقِیْمٌ (الصافات:۸۹ ) کا تعلق ہے،ان دونوں کے متعلق تو تمام مفسرین ومحدثین اس پر متفق ہیں کہ یہ حقیقتاً جھوٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ آپ تفسیر کی جس کتاب میں چاہیں ،ان آیات کی تفسیر نکال کر دیکھ لیں ۔ اور ابن حجرؒ، عینی ؒ، قسطلانی ؒ وغیرہ شارحین حدیث کی شرحیں بھی ملاحظہ فرما لیں ۔ کسی نے بھی یہ نہیں مانا ہے کہ یہ دونوں قول فی الواقع جھوٹ تھے۔ رہا بیوی کو بہن قرار دینے کا معاملہ، تو یہ ایک ایسی بے ڈھب بات ہے کہ اسے بنانے کے لیے محدثین نے جتنی کوششیں بھی کی ہیں ، وہ ناکام ہوئی ہیں ۔ تھوڑی دیر کے لیے اس بحث کو جانے دیجیے کہ جس وقت کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے، اس وقت حضرت سارہ کی عمر کم ازکم ۶۵ برس تھی اور اس عمر کی خاتون پر کوئی شخص بھی فریفتہ نہیں ہو سکتا۔({ FR 1902 }) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ حضرت سارہ کو حاصل کرنے کے درپے ہوا تو حضرت ابراہیمؑ نے آخر کس مصلحت سے کہا کہ یہ میری بہن ہیں ؟ اس صورت حال میں بیو ی کو بہن کہہ کر آخرکیا فائدہ حاصل ہوسکتا تھا؟شارحین حدیث نے اس سوال کے جوجوابات دیے ہیں ،وہ ذرا ملاحظہ ہوں :
(۱)اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ صرف شوہر والی عورتوں ہی سے تعرض کیا جائے،اس لیے حضرت ابراہیم ؈ نے بیوی کو بہن اس اُمید پر کہا کہ وہ حضرت سارہ کو بے شوہر عورت سمجھ کر چھوڑ دے گا۔
(۲) حضرت ابراہیم ؈ نے بیوی کو بہن اس لیے کہا کہ بادشاہ عورت کو چھوڑنے والا تو ہے نہیں ،اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس کا شوہر ہوں تو جان بھی جائے گی اور بیوی بھی، اور اگر بہن کہوں گا تو صرف بیوی ہی جائے گی، جان بچ جائے گی۔
(۳)حضرت ابراہیم ؈ کو اندیشہ ہوا کہ سارہ کو بیوی بتائوں گا تو یہ بادشاہ مجھ سے زبردستی طلاق دلوا لے گا،اس لیے انھوں نے کہا کہ یہ میری بہن ہے۔
(۴)اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ بھائی اپنی بہن کا شوہر ہونے کے لیے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ حق دار ہے،اس لیے انھوں نے بیوی کو بہن اس اُمید پر بتایا کہ یہ سارہ کو میرے ہی لیے چھوڑ دے گا۔({ FR 1577 })
خدارا غور کیجیے کہ ان توجیہات نے بات بنائی ہے یاکچھ اور بگاڑ دی ہے؟آخر کس تاریخ سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ دنیا میں کوئی دین ایسا بھی گزرا ہے جس میں بے شوہر عورت کو چھوڑ کر صرف شوہر دار عورت ہی سے تعرض کرنے کا قاعدہ مقرر ہو؟ اور یہ ایک نبی کی سیرت وشخصیت کا کیسا بلند تصور ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے بیوی کی عصمت قربان کرنے پر راضی ہوجائے ؟ اور یہ کس قدر معقول بات ہے کہ زبردستی طلاق دلوائے جانے کے اندیشے سے بیوی کو بہن کہہ کر دوسرے کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ بے طلاق ہی اس سے استفادہ کرلے؟ اور یہ کتنی دل لگتی بات ہے کہ بادشاہ بھائی کو تو بہن کا شوہر ہونے کے لیے زیادہ حق دار مان لے گا مگر خود شوہر کو شوہر ہونے کے لیے حق دار نہ مانے گا؟ اس طرح کی لاطائل سخن سازیوں سے ایک مہمل بات کو ٹھیک بٹھانے کی کوشش کرنے سے کیا یہ مان لینا زیادہ بہتر نہیں ہے کہ نبیؐ نے ہرگز یہ بات نہ فرمائی ہوگی اور کسی غلط فہمی کی بِنا پر یہ قصہ غلط طریقے سے نقل ہوگیا ہے۔
بعض حضرات اس موقع پر یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کے دلائل سے محدثین کی چھانی پھٹکی ہوئی ایک صحیح السند روایت کے مضمون کو مشکو ک ٹھیرادیا جائے تو پھر ساری ہی حدیثیں مشکوک قرار پاجائیں گی۔لیکن یہ خدشہ اس لیے بے بنیاد ہے کہ متن کی صحت میں شک ہر روایت کے معاملے میں نہیں ہوسکتا،بلکہ صرف کسی ایسی روایت ہی میں ہوسکتا ہے جس میں کوئی بہت ہی نامناسب بات نبیﷺ کی طرف منسوب ہوئی ہو اور وہ کسی توجیہ سے بھی ٹھیک نہ بیٹھتی ہو۔اس طرح کی بعض روایتوں کے متن کو مشکوک ٹھیرانے سے آخر ساری روایتیں کیوں مشکو ک ہوجائیں گی؟ پھر یہ امر بھی غورطلب ہے کہ جن نامناسب باتوں کی کوئی معقول توجیہ ممکن نہ ہو، ان کا نبی ﷺکی طرف منسوب ہونا زیادہ خطرناک ہے،یا یہ مان لینا کہ محدثین کی چھان پھٹک میں بعض کوتاہیاں رہ گئی ہیں ، یا یہ کہ بعض ثقہ راویوں سے بھی نقل روایات میں کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں ؟ بتایئے، ایک صاحب ایمان آدمی ان دونوں باتوں میں سے کس بات کو قبول کرنا زیادہ پسندکرے گا؟
(ترجمان القرآن،دسمبر۱۹۵۵ء)


Leave a Comment