گزارش ہے کہ آپ کی علمی تحریرات سے دوسری بحثوں کے علاوہ صحابہ ذوی النجابہ کے متعلق بھی معیارِ حق ہونے نہ ہونے کے عنوان سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مجھے اس اختلاف کی حقیقت سمجھ میں نہیں آتی اس لیے سخت تشویش ہے۔ فریقین کے لٹریچر پڑھنے سے جو مواد سامنے آیا ہے اس میں ثمرۂ اختلاف کہیں نظر نہیں آتا کیونکہ صحابہ کرامؓ کو مرحوم و مغفور آپ بھی مانتے ہیں اور معصوم دوسرے حضرات بھی نہیں سمجھتے۔ نیز صحابہ کا اجماع اور مجموعی طرزِ عمل آپ کے نزدیک بھی حجت ہے اور ہر ہر صحابی کا ہر ہر فعل مطلقاً ان کے نزدیک بھی قابل تقلید اور حق کا معیار نہیں ۔ باقی ہر صحابی کی مجموعی زندگی میں خیر کا پہلو غالب ہے، اس کے فریقین قائل ہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضرات صحابہ کرام کے متعلق تاریخی ریسرچ کرکے آپ نے جو صحیح یا غلط واقعات لکھے ہیں ان کو اس بحث کی بنیاد بنایا جائے تو میرے ناقص خیال میں ان جزوی اور انفرادی واقعات کے وقوع یا عدم وقوع سے ایک خاص درجہ میں صحابہ کے معیارِ حق ہونے یا نہ ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے اس خاردار لمبی بحث سے دامن بچاتے ہوئے میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی ان واقعات سے قطع نظر فرماتے ہوئے خالص علمی رنگ میں خالی الذہن ہوکر معیارِ حق کا مفہوم واضح فرمائیں جس سے آپ کو انکار ہے۔ میں اپنا حاصل مطالعہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں ، اگر آپ اس سے اتفاق فرمائیں تو فبہا، ورنہ اس پر علمی گرفت فرمائیں ۔ ظاہر کہ جو کچھ کتاب و سنت کے اندر مذکور ہے اس کے لیے تو کسی مزید معیار کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ خود اپنے غیر کے لیے معیار ہیں ۔ مثلاً زُلات صحابہ وغیرہ جن کی تفصیل بے فائدہ ہے۔ ہاں آئندہ آنے والے مسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں نفیاً یا اثباتاً کوئی صراحت موجود نہیں ، ایسے امورِ جزئیہ میں حضرات صحابہ کرام کے اقوال و افعال کو حجت سمجھنا چاہیے کیوں کہ صحبت نبی کے اثر سے ان کے قلوب و اذہان ہماری نسبت صحت و صواب کے زیادہ قریب ہیں ۔ صحابہؓ کو شرفِ صحابیت کے علاوہ نبوت سے قوی اور قریبی تعلق رکھنے کی وجہ سے دینی و دنیاوی مسائل میں ایک قسم کی بالائیت حاصل ہونے کو ہی معیارِ حق ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ غیر صحابی کے لیے لازم ہے کہ اپنے اقوال و افعال کی صحت پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل قائم کرے یا کم از کم کسی صحابی کو ہی اپنی تائید میں پیش کر دے۔ لیکن صحابی کے قول و فعل کے خلاف جب تک نص سے کوئی قوی دلیل قائم نہ ہو تو اس کا صحابی سے ثابت ہونا ہی اس کی صحت کے لیے سند ہے۔ مزید دلیل کی حاجت نہیں ۔ نبوت سے غایت قرب کے سبب یہ اعتماد کا درجہ انھیں مل سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس امتیاز کی بدولت جو قرب نبوی کے طفیل انھیں حاصل ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم انھیں غیر معصوم سمجھتے ہوئے قرآن و حدیث کا شارح سمجھیں اور جو تعبیر وتو جیہ ہمارے ذہن میں آئے اس کی تصدیق و تصویب کے لیے صحابہ کے در کی دریوزہ گری کی جائے۔ حتیٰ الامکان دین کی تعبیر میں ان سے اختلاف روانہ رکھا جائے۔ اگر آپ اس میں کسی تفصیل کے قائل ہیں تو مع مستدلات تحریر فرمائیں ۔
جواب
آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ معیارِ حق تو صرف اللّٰہ کا کلام اور اس کے رسول کی سنت ہے۔ صحابہ معیار حق نہیں ہیں بلکہ اس معیار پر پورے اترتے ہیں ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسوٹی سونا نہیں ہے، لیکن سونے کا سونا ہونا کسوٹی پر کسنے سے ثابت ہوتا ہے۔ صحابہؓ کے اجماع کو آپ بھی جانتے ہیں کہ میں حجت مانتا ہوں ، بلکہ ان کی اکثریت جس جانب ہو اس کو بھی میں ترجیح دیتا ہوں ۔ البتہ افرادِ صحابہؓ کے معاملے میں لامحالہ دو صورتوں میں سے ایک ہی پیش آسکتی ہے۔ ایک یہ کہ ان کے اقوال میں اختلاف ہو۔ اس صورت میں سب کے اقوال کو بیک وقت قبول نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دلائل شرعیہ سے کسی قول کو دوسرے قول پر ترجیح ہی دی جا سکتی ہے اور ان سب کے اقوال کو رد کرکے کوئی نیا قول اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی صحابی یا بعض صحابہ سے ایک ہی قول اور اس کے خلاف کوئی قول نہ ملتا ہو۔ اس صورت میں صحیح بات یہی ہے کہ اسے قبول کیا جائے اور اس قول کو رد کرکے کوئی دوسرا قول اختیار نہ کیا جائے، اِلاّ یہ کہ جلیل القدر تابعین اور مسلم ائمہ مجتہدین نے دلائل کی بنا پر اس میں کلام کیا ہو اور وہ دلائل اقرب الی الصواب محسوس ہوں ۔ ({ FR 1626 }) (ترجمان القرآن، اگست۱۹۷۶ء)

Leave a Comment