آپ اپنی تحریروں کے ذریعے برسوں سے اقامت ِ دین کی دعوت دے رہے ہیں ۔دو سال سے جماعت بھی قائم ہے۔بقول آپ کے اس تحریک کے مزاج کے مطابق بہت تھوڑے آدمی ملے ہیں ، اور جو ملے ہیں ان میں وہ صفات بہت کم ہیں جن صفات کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ صفات لوگوں میں کیسے پیدا ہوا کرتی ہیں ۔ جہاں تک اُمت کی تاریخ کا تعلق ہے،خلافتِ راشدہ کے بعد اقامتِ دین کی منظم تحریک کبھی بروے کار آئی ہی نہیں ۔ مجددین نے زبان وقلم یا جسم سے جو کیا،ذاتی طورپر کیا۔شاید پورے اسلامی دور میں صرف حضرت سیّد احمد بریلوی کے زیر عَلم ایک منظم جہاد اس مقصد کے لیے کیا گیا۔میں ان کے رُفقا کے عزم وعمل پر غور کرتا ہوں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان میں وہ والہانہ او رمجنونانہ جذب وجوش کیسے پیدا ہوا۔کسی جماعت میں وہ نشہ کیسے چڑھا کرتا ہے جب وہ اپنا سب کچھ اﷲ کی راہ میں قربان کردینا ہی اپنا عزیز فرض سمجھنے لگتی ہے؟کیا یہ سب کچھ تحریری اور تقریری دعوت وتفہیم سے ہوجاتا ہے یا محض عمدہ اور صحیح لٹریچر فراہم کردینے سے؟میرا یہ خیال ہے کہ یہ سب چیزیں ذہنی اصلاح تو کردیتی ہیں لیکن جنونِ عمل پیدا کرنے والی کوئی اور ہی چیز ہوتی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ عہد کرکے اس کا حق ادا نہیں کرتے اور خلوص وایثار کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا تو خودبخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جذبے کو کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے؟ میں آپ کا لٹریچر پڑھ کر اور قرآنِ حکیم کا مطالعہ کرکے خود اپنے اندر یہ خواہش پاتا ہوں کہ میرے عمل میں انقلاب ہو۔لیکن جس چیز کی ضرورت محسوس کرتا ہوں ،وہ پیدا نہیں ہوتی۔معلوم نہیں وہ کون سی طاقت ہے جو اس ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جب تک جماعت اسلامی میں یہ طاقت نمودار نہ ہوگی،شرکاے جماعت میں ایثار وعمل کا مطلوبہ جذبہ پیدا نہ ہوگا اور تحریک ٹھنڈی پڑ جائے گی۔
جواب
اس مسئلے پر میں خود برسوں غور کرتا رہا ہوں اور آخر کار اس مختصر سے فقرے نے جو عام طور پر مسلمانوں کی زبانوں پر چڑھا ہوا ہے،مجھے مطمئن کردیا ،یعنی الَسَّعْیُ مِنِّی وَالْاِتْمَامُ مِنَ اللّٰہِ ({ FR 1130 }) میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم جس بات پر مامور ہیں ، وہ صرف یہ ہے کہ مختلف راہوں میں سے اس راہ کو اپنے لیے منتخب کرلیں جسے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کہا گیا ہے، اور اپنی تمام ممکن سعی وجہد اس پر چلنے میں صرف کردیں ۔ اس کے بعد اسباب کی فراہمی اور راہ نوردی کی قوت اور مشکلاتِ راہ کی تسہیل، یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کی توفیق پر منحصر ہے۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ اگر بڑے پیمانے پر سعی کرنے اور بلند درجے پر پہنچنے کی توقع نہ ہو تو ہم صحیح راہ کو چھوڑ کرکسی ایسی غلط راہ کی طرف چل پڑیں جس میں کچھ بڑے اور بلند درجے کا کام کیا جاسکتا ہو۔ہمیں بہرحال صحیح کام کرنا ہے،خواہ وہ بڑے پیمانے پر ہو یا چھوٹے پیمانے پر۔ یہ تو اس معاملے کاایک پہلو ہے۔دوسراپہلو یہ ہے کہ جن غیر معمولی اخلاقی قوتوں کی اس کام کے لیے ضرورت ہے اور جیسی مؤثر شخصیت یا شخصیتیں اس کام میں جان ڈالنے کے لیے ضروری ہیں ، وہ بہرحال حجروں میں پیدا نہیں ہوسکتیں ، بلکہ اس راہ کی عملی جدوجہد کے نتیجے ہی میں پیدا ہوا کرتی ہیں ۔ ابھی اس سعی کی ابتدا ہے اور آزمائش کے لمحات بہت کم آئے ہیں ، اس وجہ سے اس سعی کے مردم سازاثرات آپ کے سامنے پوری طرح نمایاں نہیں ہو سکے ہیں ۔ لیکن آگے چل کر جیسے جیسے امتحان کے مواقع سامنے آتے جائیں گے،آپ دیکھیں گے کہ جو لوگ اﷲ سے گہرا تعلق رکھنے والے نہیں ہیں ، وہ کسی نہ کسی امتحان کی گھڑی پر اپنی کمزوری کے خود شکار ہوجائیں گے اور راستے سے ہٹ جائیں گے، اور جن لوگوں کو فی الواقع اﷲ سے تعلق ہو گاوہ نہ صرف یہ کہ ایک ایک امتحان کے موقع پر کامیاب ہوں گے بلکہ ہر امتحان اُن کی سیرت میں ایک نئی طاقت پیدا کردے گا، ان کے اندر کی بہت سی کھوٹ نکال دے گا اور بالآخر وہ زرِ خالص بن جائیں گے۔ پھر رفتہ رفتہ انھی لوگوں میں پارس کی سی خصوصیات پیدا ہوجائیں گی کہ جو اُن سے چھو گیا وہ سونا بن گیا۔ بہرحال میں اس معاملے میں مطمئن ہوچکا ہوں کہ اس کام کو شروع کرنے سے پہلے مکمل شخصیت یا شخصیتوں کے موجود ہونے کی شرط لگانا غلط ہے۔یہ شرط کبھی متحقق نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس کے برعکس صحیح یہ ہے کہ ایک مرتبہ خلوصِ نیت کے ساتھ یہ کام شروع کردیا جائے تو رفتہ رفتہ یہی کام خود مکمل شخصیتیں بناتا چلا جاتا ہے، اور جتنا جتنا یہ اپنی تکمیل کے مراحل کی طرف بڑھتا ہے اتنی ہی بلندتر شخصیتیں اس کے کارکنوں میں سے اُبھرتی چلی آتی ہیں ۔سمندر کی موجوں سے لڑنے کے لیے آپ ایسے آدمی کبھی نہیں لاسکتے جو سمندر کے اندر اُترنے سے پہلے اس کی موجوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرچکے ہوں ۔ یہ قوت تو بہرحال سمندر میں کودنے اور موجوں سے لڑنے ہی سے پیدا ہوسکتی ہے۔ جو کمزور ہیں وہ اسی سمندر میں ڈوب مرتے ہیں ، اور جن کے دست وبازو میں اﷲ نے قوت پیداکی ہے وہ تھپیڑے کھا کھا کر اورموجوں سے لڑ لڑ کر بالآخر پیراکوں کے پیراک بن جاتے ہیں ۔ (ترجمان القرآن ، مئی۔ جون،۱۹۴۴ء)

Leave a Comment