مذہب کا پروگرام اگر انسانی فطرت کے لیے کشش رکھتا تھا تو متقی لوگوں نے کسی بھی ملک وقوم میں بہتر سوسائٹی بنانے میں کیوں کام یابی حاصل نہیں کی۔اگر انسانیت کی پوری تاریخ میں بھی مذہب کام یاب نہیں ہوسکا تو آج کیوں کر اس سے امن وترقی کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ یہ کہہ دینا کہ انسانی فطرت ہی میں خرابی مضمر تھی، مفید نہیں ہو سکتا۔ مذاہب حق کو زندہ کرنے اور باطل کو مٹانے کے لیے کام کرتے رہے مگر نتیجہ تھوڑے تھوڑے وقفے کو چھوڑکر ہمیشہ الٹا ہی نکلا اور تاریخ کے سیلاب کا رخ نہ بدلا،یا بالفاظ دیگر شیطان کی طاقت شکست نہ کھا سکی؟
جواب
آپ کا یہ سوال جتنے مختصر لفظوں میں ہے،اتنے مختصر لفظوں میں اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اگر محض اشارات سے آپ کی تشفی ہوسکے تو جواب یہ ہے کہ اوّل تو آپ لفظ مذہب کے نام سے جس چیز کو مراد لیتے ہیں ، اس کا تعین کریں ۔ اگر مذہب کا لفظ آپ جنس کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس میں ہر قسم کے مذاہب شامل ہیں تو اس کی طرف سے جواب دہی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ اور اگر مذہب سے آپ کی مراددین حق،یعنی وہ دین ہے جس کی تعلیم ابتداے آفرینش سے انسان کی ہدایت کے لیے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی رہی ہے اور جس کا نام عربی زبان میں اسلام ہے ،تو وہ مجموعہ ہے ان اُصولوں کا جو کائنات کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں اور بجاے خود صحیح ہیں ، خواہ انسان ان کو مانے یا نہ مانے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے مثلاً حفظان صحت کے اُصول ہیں کہ وہ انسان کے جسم کی ساخت اور اس کے اعضا کی حقیقی فعلیت اور اس کے طبعی ماحول کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں ۔ان اُصولوں کے مطابق کھانا پینا، سانس لینا ،آرام کرنا وغیرہ لازمی طور پر انسان کو تندرست رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔اگر کوئی شخص یا ساری دنیا مل کر بھی ان اُصولوں کی خلاف ورزی کرے تو نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حفظان صحت کے اُصول باطل ہیں ، نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی پابند ی کرنا انسانی فطرت کا تقاضا نہیں ہے،نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اُصول ٹوٹ گئے اور شکست کھا گئے،اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی اس خلاف ورزی نے ان اُصولوں کا کوئی نقصان کیا ہے۔بلکہ درحقیقت اگر انسان ان اُصولوں کے خلاف چلتے ہیں تو یہ ان کی ناکامی ہے اور نقصان ان کا اپنا ہے نہ کہ ان اُصولوں کا۔ پس آپ جس چیز کو مذہب کی ناکامی کہہ رہے ہیں ،وہ مذہب کی ناکامی نہیں ،انسانوں کی ناکامی ہے۔مثال کے طور پرمذہب ہم کو امانت کی تعلیم دیتا ہے۔اب اگر تمام دنیا کے انسان مل کر بھی خیانت شروع کردیں اور امانتوں کو ضائع کرنے لگیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ مذہب ناکام ہوا؟ مذہب کی ناکامی تو اس صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ یا تو یہ ثابت ہوجائے کہ فطرت کائنات اور فطرت انسان امانت کی نہیں خیانت کی مقتضی ہے، یا یہ ثابت ہو جائے کہ انسانی زندگی کا حقیقی امن اور تمدن انسانی کا قابل اعتماد استقلال اور تہذیب کا تسلسل ارتقا امانت سے نہیں بلکہ خیانت سے قائم ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ ثابت نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا تو انسانوں کا امانت چھوڑ کر خیانت کواختیار کرنا اور اس سے اخلاقی، روحانی اور تمدنی نقصانات اٹھانا انسانوں کی ناکامی کا ثبوت ہے نہ کہ’’مذہب‘‘ یا دین کی ناکامی کا۔اسی طرح جتنے اُصول ’’دین‘‘ نے پیش کیے ہیں یا بالفاظ دیگر جن اُصولوں کے مجموعے کا نام ’’دین حق‘‘ہے ،ان کو جانچ کر دیکھیے کہ وہ حق ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ حق ہیں تو ان کی کامیابی وناکامی کا فیصلہ اس بِنا پر نہ کیجیے کہ انسانوں نے ان کی پابندی کی ہے یا نہیں ۔انسانوں نے جب ان کی پیروی کی تو وہ خود کام یاب ہوئے اور اگر ان کی پیروی نہ کی تو وہ خود ناکام ہوئے۔ (ترجمان القرآن ،ستمبر۱۹۵۴ء)

Leave a Comment