اگر یہ ڈھیلا ڈھالا اصول لوگوں کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے کہ تم دین کی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر جس بات کو چاہو اختیار اور جسے چاہو ترک کر سکتے ہو تو کیا اس سے یہ خطرہ نہیں کہ دین کے معاملے میں بالکل امان ہی اٹھ جائے گی اور جس کے ہاتھ میں یہ نسخہ پکڑا دیا جائے گا وہ پورے دین کا تیا پانچا کرکے رکھ دے گا؟
جواب

اپنے سوال کی اس شق میں جو اعتراض آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی دوسرے کی بات کو زیادہ سے زیادہ مبالغہ کرکے برے معنی پہنانے کی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ میں جس اصول کا قائل ہوں وہ سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ’’تم دین کی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر جس بات کو چاہو اختیار اور جسے چاہو ترک کر سکتے ہو۔‘‘ اس لیے یہ ڈھیلا ڈھالا اصول جن لوگوں نے گھڑا ہو وہی اس کے بُرے نتائج کی تشریح فرماتے رہیں ۔ مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۵۹ء)