نکاح میں ولی کی شرط اور اس کا اختیار
نکاح کے لیے ولی کی شرط اور اس کے اختیار سے متعلق بعض سوالات پیش خدمت ہیں ۔ ان کا جواب مطلوب ہے۔
۱- کیا مسلمان عورت جو عاقلہ اور بالغہ ہے اس کا ولی کسی ایسے شخص سے اس کا نکاح کرسکتا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے۔ کیا اس طرح کی لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کرنے کا ولی کو اختیار حاصل ہے؟
۲- کیا کسی مسلمان عورت کے لیے جو بالغہ عاقلہ ہے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے نکاح کرلے، چاہے ولی اس سے اتفاق کرے یا نہ کرے۔ باپ یا ولی کی مرضی کے خلاف جو نکاح ہو اس کا کیا حکم ہے؟
۳- کیا کسی نابالغہ کے باپ یا ولی کو اس کا حق حاصل ہے کہ بلوغ سے پہلے ہی اس کا نکاح کردے؟ اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا بلوغ کے بعد اس نکاح کو باقی رکھنا لڑکی کے لیے ضروری ہے؟
۴- ولی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
یہ ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے، اس میں شریعت کا نقطۂ نظر وضاحت سے آنا چاہیے۔