دف کی ترقی یافتہ شکلوں کا حکم

آلاتِ لہو کے حامیوں کا خیال ہے کہ چوں کہ آں حضور ﷺ کے زمانے میں دف ہی ایک موسیقی کا آلہ عرب میں رائج تھا اور آپ نے اس کے استعمال کی اجازت دی ہے، لہٰذا ہمارے زمانے میں دف کی اگر متعدد ترقی یافتہ شکلیں مستعمل ہوگئی ہیں تو ان کا استعمال کیوں نہ رواہو؟

دعوت میں شراب پیش کرنا

اگر کوئی دعوت کچھ لوگوں کو یہاں نائیجیریا میں دی جائے تو اس میں شراب دی جاسکتی ہے یا نہیں ،کیونکہ یہاں کے لوگ بغیر شراب کے دعوت ہی نہیں سمجھتے اور اگر اس کا استعمال نہ کیا جائے تو اس کا کیا بدل دیا جائے؟

شراب والی دعوتوں میں شرکت

یہاں ({ FR 1481 }) پر دعوتوں اور پارٹیوں میں شراب کا استعما ل عام طورپر ہوتا ہے۔ایسی صورت میں ان دعوتوں میں شرکت کرنا چاہیے یا نہیں ؟ اب تک میراطرزِ عمل یہ رہا ہے کہ ایسی جگہوں پر ضرور شرکت کرتا ہوں اور شراب اور دوسری اس قسم کی چیزوں سے انکار کردیتا ہوں تاکہ کم ازکم ان کو یہ احساس تو ہوجائے کہ بعض لوگوں کو ہماری یہ مرغوب غذا ناپسند ہے۔

انعامی بانڈز

آج کل حکومت کی طرف سے امدادی قرضوں کے تمسکات جو انعامی بانڈز کی شکل میں جاری کیے گئے ہیں ،ان میں شرکت کرنا اور ان پر متوقع انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ قمار نہیں ۔ کیوں کہ ہر شخص کی قرض کی اصل رقم بہرحال محفوظ ہے جو بعد میں ملے گی۔اس پر کوئی متعین شرح سے اضافہ بھی بانڈز ہولڈر کو نہیں ملتا جسے سود قرار دیا جائے۔ براہِ کرم اس کاروبار کی شرعی حیثیت کو واضح کیا جائے۔کیوں کہ بہت سے لوگ اس معاملے میں خلجان کا شکار ہیں ۔

انشورنس کو حرمت سے پاک کرنے کی تدابیر

انشورنس کے بارے میں آپ کا یہ خیال درست ہے کہ اس میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں ۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ اس کے لیے طویل اور مسلسل کام کی ضرورت ہے۔ میں نے اب تک اپنی انشورنس کمپنی پر لائف انشورنس کے کاروبار سے احتراز کیا ہے۔ لیکن اب غور کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ زندگی کے بیمے کی قباحتوں کو درج ذیل تدابیر سے رفع کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ زرضمانت حکومت کے پاس جمع کراتے وقت یہ ہدایت دی جاسکتی ہے کہ اس روپے کو سودی کاروبار میں لگانے کے بجاے کسی سرکاری کارخانے یا پی۔آئی۔ڈی۔ سی({ FR 1566 }) میں حصص خریدے جائیں ۔ کوشش کی جائے تو امید ہے کہ حکومت اس بات کو مان لے گی۔ اس طرح سودی کام میں اشتراک سے نجات ہوسکتی ہے۔
۲- کمپنی کو اختیار ہے کہ جس فرد کا چاہے بیمہ منسوخ کر دے یا پہلے ہی قبول نہ کرے۔ ہم قواعد میں یہ گنجائش رکھ سکتے ہیں کہ جو صاحب چاہیں اپنی رقم وارثوں میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنے کی ہدایت کرسکتے ہیں ۔ خدا و رسول کے احکام کی شدت سے پابندی یہ شرط لگا کر بھی کی جا سکتی ہے کہ جو حضرات شرعی تقسیم پر رضامند نہ ہوں ان کا بیمہ قبول نہ کیا جائے تاکہ ہمارے ہاں وہی لوگ بیمہ کرا سکیں جو ہمارے مطلوبہ شرعی اصولوں پر چلیں ۔
۳- قمار کی آمیزش سے بچنے کے لیے بیمہ کرانے والے لوگوں کو یہ ہدایت کرنے پر آمادہ کیا جائے کہ ان کی موت کی صورت میں صرف اتنا روپیا ورثا کو دیا جائے گا جو وہ فی الحقیقت بذریعہ اقساط جمع کروا چکے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ اگرچہ بحالات موجودہ اس کاروبار میں شرکا پہلو بہت غالب ہے لیکن خیر کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل قباحتوں کی شدت محسوس کرتے ہوئے میں نے اپنی کمپنی کو فروخت کرنے کا ارادہ کرلیا تھا مگر بعد میں محسوس کیا کہ کوئی ایسی راہ نکالی جائے جس سے دوسروں کے لیے مثال قائم ہوسکے اور اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے انشورنس کا کاروبار چلایا جا سکے۔ آپ تکلیف فرما کر میری راہ نمائی فرمائیں ۔