قرآن وحدیث میں بہت سے ایسے اُمور بیان ہوئے ہیں جنھیں زمانۂ حال کی تحقیقات غلط قرار دیتی ہیں ۔ اس صورت میں ہم قرآن وحدیث کو مانیں یا علمی تحقیق کو؟ مثلاً:
قرآن کہتا ہے کہ نوع انسانی آدمؑ سے پیداہوئی،بخلاف اس کے علماے دورِ حاضر کا دعویٰ یہ ہے کہ انسان حیوانات ہی کے کنبے سے تعلق رکھتا ہے اور بندروں اور بن مانسوں سے ترقی کرتے کرتے آدمی بنا ہے۔

نظریہ ارتقا کی علمی حیثیت

ارتقا کے متعلق لوگوں کے اندر مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔ بعض مفکرین انسانی زندگی کا ظہور محض ایک اتفاقی حادثہ خیال کرتے ہیں ۔بعض کے نزدیک(جن میں ڈارون سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے) انسان نے زندگی کی اعلیٰ اور ارفع حالتوں تک پہنچنے کے لیے پست حالتوں سے ایک تدریج کے ساتھ ترقی کی ہے اور یہ ترقی تنازع للبقا اور بقاے اصلح کی رہین منت ہے۔ بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انسان ہمیشہ جغرافیائی ماحول کے سانچوں میں ڈھلتارہا ہے جیسا کہ لامارک۔ بعض لوگ برگسان کے تخلیقی ارتقا کے قائل نظر آتے ہیں ۔ آپ کی تحریروں کے مطالعے سے یہ بات منکشف نہیں ہوسکی کہ آپ ارتقا کے کس پہلو کے مخالف ہیں ۔ براہِ کرم اس پہلو کی نشان دہی کریں ۔

کائناتی اور حیاتی ارتقا

آپ نے رسالہ ’’ترجمان القرآن’’ جلد۴، عدد۶، صفحہ ۳۹۶ تا۳۹۷ میں اسلامی تہذیب اور اس کے اُصول ومبادی کے زیر عنوان نظام عالم کے انجام کے متعلق جو کچھ تحریر فرمایا ہے،اسے سمجھنا چاہتا ہوں ۔آپ نے لکھا ہے کہ ’’اس نظام کے تغیرات وتحولات کا رُخ ارتقا کی جانب ہے۔ ساری گردشوں کا مقصود یہ ہے کہ نقص کو کمال کی طرف لے جائیں ۔‘‘ وغیرہ۔ آخر یہ کس قسم کا ارتقا ہے؟ حیوانی زندگی میں ؟ جماداتی یا انسانی زندگی میں ؟ یا مجتمعا تمام نظامِ عالم کی زندگی میں یہ ارتقا کار فرما ہے؟ نیز اگر ہر بگاڑ سے ارتقائی اصلاح ظاہر ہوتی ہے تو پھر تو وہی بات ہوئی جو ہیگل نے thesis and antithesis اور ڈارون نےsurvival of the fittest میں پیش کی ہے۔براہِ کرم مدعا کی وضاحت کیجیے۔

قرآن مجید اور سائنس

مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اس بات کو صحیح قرا ردیتی ہے کہ قرآن میں بعض باتیں ایسی درج ہیں جو سائنس کے بالکل خلاف ہیں ۔بہت سے اصحاب علم کا کہنا ہے کہ قرآن پاک میں زمین کی گردش کا کہیں نام ونشان تک نہیں بلکہ سورج کا گردش کرنا ثابت ہے۔

جماعت اسلامی کے تعلیمی پروگرام کے بارے میں ایک اندیشہ

تعلیمی کانفرنس کی مجوزہ اسکیم (شائع شدہ ترجمان القرآن و کوثر) بہت اہم اور ضروری ہے لیکن مجھے اس کے متعلق کچھ شبہات ہیں ۔ میں صاف کہوں گا کہ اگر میرا بس چلے تو بقول برناڈشا ’’میں تمام دنیا کی یونی ورسٹیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں ۔‘‘ آپ خود سوچیں کہ آنحضرتﷺ نے کون سی یونی ورسٹی یا کالج بنایا تھا۔ مگر پھر بھی عظیم الشان ہمہ گیر انقلاب برپا کر دکھایا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ افیون کی اس گولی سے کام کی رفتار بہت سست ہو جائے گی اور جماعت اسلامی کا ادارہ ایک انقلابی اسلامی ادارہ کے بجائے زیادہ سے زیادہ ایک تجارتی ادارہ بن کے رہ جائے گا۔ کیا دیوبند اور جامعہ ملیہ اور اسی طرز کی دوسری درسگاہیں انقلابی تحریکات کا مرکز بن سکتی ہیں ؟ وہاں یقیناً درس و تدریس بھی ہے اور قال اللہ اور قال الرسول کا غلغلہ بھی۔ لیکن کیا صحیح معنوں میں رسول اللہﷺ کے اصل مشن کے لیے کوئی کام ہو رہا ہے؟ اس لیے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔

اسلامی نظامِ تعلیم کے لیے مجوزہ اقدامات

آپ کے نزدیک اسلامی نظام تعلیم کو عملاً بروے کار لانے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟ تعلیمی، تہذیبی، ملی اور جغرافیائی زندگی پر اس نظریے کے کیا اثرات مرتب ہونے چاہییں ؟

اسلامی نظام تعلیم میں رکاوٹ

اسلامی نظام تعلیم کی طرف بڑھنے کی کوششوں کے راستے میں کون سی طاقتیں مزاحمت کر رہی ہیں ۔
جواب: اسلامی نظام تعلیم کی طرف پیش قدمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ حکومت ہی ہے جو ایسے نظام سے واقف بھی نہیں اور خائف و گریزاں بھی ہے۔ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۷۷ء)

صنعتی ترقی اور اسلامی روایات کا تحفظ

جن ملکوں میں صنعتی ترقی ہوئی،وہاں لازمی طور پر عام اخلاقی تنزل ہوا۔ ملوں ، کارخانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عورت، مرد، بچے تک مشینوں کے پرزے بن گئے۔ ان ملکوں میں نتیجے کے طور پر کچھ مفکر پیدا ہوئے(مثلاً امریکا میں جان ڈیوی) جنھوں نے نئی طرز کی زندگی کو نظریاتی سہارا دیا،روایات کو غلط قرار دیا اور سوسائٹی کی اقدار ہی کو بدل دیا۔ پاکستان میں ایک طرف تو صنعتی ترقی ضروری ہے ۔دوسری طرف اسلامی روایات اور اقدار کو قائم رکھنا فرض ہے۔ براہِ کرم فرمایے کہ یہ بظاہر متضاد مقاصد کیسے حاصل ہوسکتے ہیں ؟مشینی فضا میں روح کیسے تازہ رہ سکتی ہے؟ تبدیلیاں لازمی ہیں مگر کس حد تک قابل قبول ہیں ؟