الکوہل آمیزسینیٹائزر(Sanitizer) کے استعمال کا حکم

کورونا وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے آج کل ہینڈسینیٹائزر(Hand Sanitizer) کا استعمال کثرت سے ہورہاہے۔اس میں الکوہل کی آمیزش۶۰ فی صد سے ۷۰فی صد تک ہوتی ہے۔ الکوہل کا استعمال علمانے حرام قراردیا ہے۔سوال پیداہوتاہے کہ کیا وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہینڈسینیٹائزر کا استعمال کیاجاسکتا ہے؟

کیا عورت دورانِ حیض قرآن پڑھ سکتی ہے؟

ام طور سے بیان کیا جاتا ہے کہ دورانِ حیض عورت قرآن نہیں پڑھ سکتی۔ مجھے بھی اب تک یہی معلوم تھا، چنانچہ اسی پر میں عمل کرتی تھی، لیکن جب سے میں نے ایک عالم دین کا یہ بیان سنا ہے کہ بعض فقہا نے عورت کے لیے دورانِ حیض قرآن پڑھنے کی اجازت دی ہے، اس وقت سے تشویش میں مبتلا ہو گئی ہوں کہ کیا بات صحیح ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں کہ دورانِ حیض عورت قرآن پڑھ سکتی ہے یا نہیں ؟

اگر کتّا چھوجائے……..

میں گھر سے نماز پڑھنے کے لیے نکلا۔اچانک ایک کتّے کا جسم میرے پاجامے سے چھوگیا۔کیا میراکپڑاناپاک ہوگیا؟ میں  اب اس میں  نماز نہیں پڑھ سکتا؟

پیشاب کرتے وقت احتیاط نہ کرنے پرعذاب

ایک حدیث میرے مطالعہ میں آئی ہے ،جس میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ دو (۲) قبروں  کے پاس سے گزرے۔آپؐ نے فرمایا ان دونوں پرعذاب ہورہا ہے۔ ان میں سے ایک چغلی کرتاتھا اوردوسرا پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتاتھا۔پھر آپؐ نے ایک درخت سے ایک ٹہنی توڑی اور اس کے دوٹکڑے کرکے دونوں قبروں پرلگادی اورفرمایا کہ جب تک یہ ٹہنیاں ہری رہیں گی، امید ہے کہ ان دونوں پرعذاب میں  تخفیف ہوجائے گی۔
حدیث سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ دونوں  عذاب پانے والے کون تھے؟ یہ مومن تھے یا کافر؟ا وریہ کس زمانے کا واقعہ ہے اورکہاں کا ہے ؟اگر وہ کافر تھے تو صرف انہی دونوں کاموں پرعذاب کیوں ؟ وہ توایمان ہی سے محروم تھے اور اس سے بڑی سزا اور عذاب کے مستحق تھے۔ اگرمومن تھے تو بھی صرف انہی اعما ل پر عذاب کا ذکر کیوں ؟انھوں نے، ممکن ہے، دوسرے گناہ بھی کیے ہوں ،پھر حدیث میں  ان پرسزاکا ذکر کیوں نہیں ہے؟امید ہے، میرے ان اشکالات کو دورفرمائیں گے۔

بعض مقاماتِ قرآنی کی تحقیق

قصۂ موسیٰ و فرعون سے تعلق رکھنے والی آیات کی، جو تشریح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے بیان فرمائی ہے، اس سے میرے دل میں کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ گزارش ہے کہ تحقیق کرکے ان کے جوابات مرحمت فرمائیں ، تاکہ میرے اشکالات کا ازالہ ہوسکے۔ مناسب سمجھیں تو میرے سوالات اور اپنے جوابات کو شائع بھی فرمادیں ، تاکہ اس مباحثے سے عام لوگوں کو بھی فائدہ ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی علمی جدو جہد کو قبول فرمائے اور دنیا و آخرت کی نعمتوں سے نوازے۔
(۱) مولانا مودودیؒ صحرائے سینا پر فرعون کے تسلط کے تعلق سے سورۂ اعراف میں بیان کرتے ہیں کہ ’’اس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا کا مغربی اور شمالی حصہ مصر کی سلطنت میں شامل تھا۔ جنوب کے علاقے میں موجودہ شہر طور اور ابو زنیمہ کے درمیان تانبے اور فیروزے کی کانیں تھیں ، جن سے اہلِ مصر بہت فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کانوں کی حفاظت کے لیے مصریوں نے چند مقامات پر چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں ۔ انھی چھاؤنیوں میں سے ایک چھاؤنی مفقہ کے مقام پر تھی جہاں مصریوں کا ایک بہت بڑا بت خانہ تھا، جس کے آثار اب بھی جزیرہ نما کے جنوبی مغربی علاقے میں پائے جاتے ہیں ۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۲، ص۷۴، ح۹۸) جب کہ سورۂ قصص کی تفسیر میں مولانا تحریر فرماتے ہیں : ’’مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہ تھی، بلکہ صرف اس کے مغرب اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، ص۶۲۶، ح۳۲)
سوال یہ ہے کہ فرعون کا تسلط صحرا کے شمال اور جنوب دونوں پر تھا، یا شمالی حصے کے علاوہ جنوب کے صرف مغربی حصہ پر تھا؟ اگر پورے جنوب پر فرعون کا قبضہ نہیں تھا تو جنوبی سینا کے شہر طور اور ابو زنیمہ کے درمیان کی کانوں سے فائدہ اٹھانے کا اختیار مصریوں کو کیسے حاصل ہوا؟ مولانا نے کسی بت خانہ کے آثار کی نشان دہی، جس جنوبی مغربی علاقے میں کی ہے، اس سے مراد کون سا علاقہ ہے؟
(۲) مولانا مودودیؒ نے سورۂ یوسف کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’حضرت یوسفؑ نے حضرت یعقوبؑ کو اپنے پورے خاندان کے ساتھ فلسطین سے مصر بلا لیا اور اس علاقے میں آباد کیا، جو دمیاط اور قاہرہ کے درمیان واقع ہے۔ بائبل میں اس علاقے کو جشن یا گوشن بتایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک یہ لوگ اسی علاقے میں آباد رہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۲، ص۳۸۲-۳۸۳) تفہیم القرآن ج۱، ص ۴۶۰ کے مقابل مولانا نے، جو نقشہ دیا ہے اس کے نیچے یہ وضاحت ہے کہ ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر جزیرہ نمائے سینا میں مارہ، ایلیم اور رفیدیم کے راستے کوہ سینا کی طرف آئے اور ایک سال سے کچھ زائد مدت تک اس مقام پر ٹھہرے رہے۔‘‘ نقشے میں بھی مولانا نے ان مقامات کی نشان دہی کی ہے۔ بائبل میں بھی یہی باتیں بتائی گئی ہیں ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کس دریا کو عبور کیا تھا (اور اس میں فرعون غرق ہوا تھا) اس تعلق سے مولانا سورۂ اعراف میں فرماتے ہیں : ’’جس مقام سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا کو عبور کیا وہ غالباً موجودہ سوئز اور اسماعیلیہ کے درمیان کوئی مقام تھا۔ یہاں سے گزر کر یہ لوگ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے کی طرف ساحل کے کنارے کنارے روانہ ہوئے۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج۲، ص۷۴،ح۹۸)
جس دریا میں فرعون غرق ہوا تھا، بائبل میں اس کا نام بحر قلزم بتایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں اس دریا کو، جو سویز کے علاقے میں بہتا ہے، بحر قلزم نہیں ، بلکہ خلیج سویز کہا جاتا ہے۔ بحر قلزم سویز اور اسماعیلیہ سے کافی دور ہے۔ تفہیم القرآن اور بائبل میں ، جن مقامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً مارہ، ایلیم اور رفیدیم وغیرہ وہ بحر قلزم سے بہت دور واقع ہیں ۔ بحر قلزم کی جانب سے کوہ سینا پہنچنے کے لیے ان مقامات کی طرف آنے کی ضرورت بھی نہیں ۔ جس دریا میں فرعون غرق ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ اسے پار کر گئے تھے، اگر قدیم زمانے میں اس کو بحرِ قلزم ہی کہا جاتا تھا تو آئندہ نسل کی رہ نمائی کے لیے کم از کم قوسین میں خلیج سویز لکھنا چاہیے۔ یہ ہماری رائے ہے۔
(۳) حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت سے قبل ایک غیرارادی قتل کی سزا سے بچنے کے لیے مدین چلے گئے تھے۔ اس کے ضمن میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں : ’’اس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدین کا رخ اس لیے کیا تھا کہ وہ قریب ترین اور آزاد و آباد علاقہ تھا۔ (تفہیم القرآن، ج۳، ص ۶۲۶) آگے فرماتے ہیں : ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام بے سرو سامانی کے عالم میں یکایک مصر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مدین تک کم از کم ۸؍دن میں پہنچے ہوں گے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، ص ۶۲۹)
چوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سفر مدین میں دریا کا ذکر نہیں ہے، اس وجہ سے ہمارا خیال ہے کہ انھوں نے اس برّی راستے ہی سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہوگا، جو فلسطین کو مصر (اسماعیلیہ) کے آس پاس سے ملاتا ہے اور جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بعد حضرت یعقوبؑ اور ان کی اولاد نے مصر میں داخل ہونے کے لیے اختیار کیا تھا۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے نکل کر سینا کے مشرقی حصے تک پہنچے ہوں گے اور پھر وہاں سے سیدھے سینا کے جنوب کی راہ اختیار کرکے خلیج عقبہ کے اطراف آباد اصحاب مدین میں جاکر شامل ہوگئے۔
ارض ِ مدین اور کوہِ سینا دونوں متصل علاقے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے، جو راستہ اختیار کیا، جس کے درمیانی مقامات مارہ، ایلیم اور رفیدیم تھے، وہی کوہِ سینا تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ ہے۔ شمالی سینا کا برّی راستہ طے کرکے جنوبی سینا کی طرف سے ارض مدین پہنچنا کافی طویل معلوم ہوتا ہے۔ اس طویل مسافت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ دنوں میں کیسے طے کرسکتے ہیں ؟ جب کہ بنی اسرائیل کو بیابانِ سینا (کوہِ طور) تک پہنچنے میں ، جو اس سے کم فاصلہ ہے، بائبل کے بیان کے مطابق تین ماہ لگے۔ (کتاب خروج، باب ۱۹:۱-۲)
ممکن ہے بنی اسرائیل نے عورتوں اور بچوں کی وجہ سے درمیان میں قیام زیادہ کیا ہو اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قیام کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا ہو۔ پھر بھی اس قدر طویل مسافت کو محض آٹھ دنوں میں طے کرنے کی بات تحقیق و وضاحت طلب ہے۔

کیا روز قیامت تمام لوگ ہلاک ہوجائیں گے؟

ایک تعزیتی مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ قیامت کے دن سب چیزیں ہلاک ہوجائیں گی اور فرشتے بھی ان میں شامل ہیں ۔ انھوں نے سورۂ قصص کی آخری آیت کا حوالہ دیا۔ میں نے آخرت کے بارے میں پہلے بھی کچھ پڑھا تھا اور اس واقعے کے بعد بھی ’مناظر قیامت‘ از سید قطب شہید، ’آخرت‘ از بنت الاسلام اور دیگر کتب کا مطالعہ کیا مگر جواب نہیں مل سکا۔ ادھر قرآن کی دو آیات (سورۂ زمر کی آیت ۶۸ اور سورۂ نمل کی آیت ۸۷ )نے شش و پنج میں ڈال دیا، جہاں تذکرہ ہے کہ روز قیامت تمام مخلوق بے ہوش ہوکر گر پڑے گی (اور مرجائے گی، جیسا کہ تفہیم القرآن اور بیان القرآن از علامہ تھانویؒ میں ہے) سوائے چند کے۔ ہمارے کشمیری مفسر مولانا یوسف شاہؒ نے لکھا ہے کہ ’سوائے چند‘ سے مراد حدیث کے مطابق چار بڑے فرشتے یعنی جبرئیل، میکائیل، عزرائیل اور اسرافیل ہیں ۔ لیکن سورۂ قصص کی آخری آیت میں ہر شے کے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، تو پھر تطبیق کیسے ہو؟ میں نے سید قطب کی ’مناظر قیامت‘ کا مطالعہ کیا کہ شاید اس میں سورۂ قصص کی مذکورہ آیت کا کہیں ذکر ہو، مگر اس میں اس آیت کا کہیں تذکرہ نہیں ۔ گویا یہ آخرت کے بارے میں ہے ہی نہیں ۔ یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر یہ آیت آخرت کے بارے میں ہوتی تو سید قطب اس کا حوالہ کیوں نہ دیتے؟ برائے مہربانی ایک عالم ہونے کے ناطے آپ میری یہ ذہنی خلش دور فرمائیں ۔
اس کے علاوہ قیامت کے فیصلے کے بعد موت کے فرشتے حضرت عزرائیل کو اہل بہشت اور اہل دوزخ کے سامنے لاکر اس کے ذبح کرنے کے متعلق ایک خطیب سے سنا ہے، جو کہتے تھے کہ اس ذبح سے جنتیوں کو یہ خوش خبری دینا مراد ہے کہ اب آپ کو جنت سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ اسی طرح جہنمیوں کو یہ بری خبر دینا کہ اس جہنم سے اب تم کو کوئی نہیں چھڑا سکتا، کیوں کہ موت کا فرشتہ ذبح ہوا ہے۔ اس کی اصل کیا ہے؟ اس کی وضاحت چاہتا ہوں ۔

کیا آں حضرت ﷺ نے بعض خواتین کو طلاق دی ہے؟

ایک رسالے میں ایک واقعہ نظر سے گزرا کہ حضور پاک ﷺ نے اسماء بنت نعمان نامی خاتون سے شادی کی، پھر خلوت سے پہلے طلاق دے دی اور بعد میں اسماء بنت نعمان نے نکاح ثانی کرلیا۔ مذکورہ واقعہ پڑھ کر حد درجہ حیرانی و پریشانی ہوئی، کیوں کہ حضور اقدسؐ کی نسبت سے یہ قصہ بالکل ناقابل فہم محسوس ہوتا ہے۔ بعض مقامی علماء کرام سے ذکر کیا تو وہ بھی ناقابل فہم بتلاتے ہیں ۔ لہٰذا میں بہت کرب و بے چینی کے عالم میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس واقعے کی تحقیق کرکے جواب سے مشکور فرمائیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ کا کم سنی میں نکاح

عمر عائشہؓ کے حوالے سے آپ کا جواب نظر سے گزرا۔ غالباً اس حوالے سے جناب حکیم نیاز احمد کی کتاب ’کشف الغمۃ‘ مولانا حبیب الرحمن کاندھلوی، علاّمہ تمنا عمادی، جناب رحمت اللہ طارق اور علامہ محمود احمد عباسی کی تحریروں کو سامنے نہیں رکھا گیا ہے۔ شاید آپ کے زیر مطالعہ رہی ہوں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ جناب حکیم نیاز احمد کے دلائل کافی مضبوط ہیں ۔ اگر ممکن ہو تو اس حوالے سے تھوڑی تسلی کرادیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ کا کم سنی میں نکاح

ایک خلش ہے، جس نے مجھے پریشان اور بے چین کر رکھا ہے۔ وہ ہے حضور ﷺ کا حضرت عائشہؓ کے ساتھ کم سنی میں شادی کرنا۔ اس سلسلے میں جو دلائل دیے جاتے ہیں ان میں کوئی وزن اور جان نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آٹھ اور نو سال کی عمر میں عرب کی لڑکی شادی کے قابل ہوجاتی ہے اور چالیس سال کے بعد ہی بوڑھی ہوجاتی ہے۔ یہ بات اس لیے صحیح نہیں ہے کہ حضوؐر نے حضرت خدیجہؓ سے چالیس سال کی عمر میں شادی کی اور بچے بھی حضرت خدیجہؓ سے چالیس سال کی عمر کے بعد ہی ہوئے ہیں ۔ خود حضور ﷺ نے اپنی دختر نیک اختر حضرت فاطمہؓ کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہؓ عالمہ و فاضلہ تھیں ، یہ سب صحیح، لیکن ایک ایسی لڑکی، جو کہ انتہائی کم سن ہو، جو شادی کے بعد بھی گڑیوں کا کھیل کھیلتی ہو اس سے کیا شادی کرنا ضروری تھا؟ اللہ تو کسی اور خاتون کو یہ صلاحیتیں عطا کرسکتا تھا۔ سب سے بڑا اعتراض، جو حضوؐر کے خلاف کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ اپنی کبر سنی کی حالت میں حضوؐر نے کیسے ایک نوسالہ لڑکی سے شادی کی اور یہ بھی کہیں درج نہیں کہ یہ اجازت صرف حضوؐر کے لیے ہے۔ اس لیے آج اگر کوئی بوالہوس بوڑھا کم سن بچی سے شادی کرتا ہے تو اسے کون روک سکے گا؟ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں یہ رواج تھا اس لیے کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا؟ مگر جو دین آخری دین تھا اور قیامت تک کے لیے تھا اس میں تو اس پر روک ہونی چاہیے تھی؟ بہ راہ کرم اس کا جواب دیں ۔

حجر اسود کی تاریخی اور شرعی حیثیت

حجر اسود کے بارے میں علمی بنیاد پر اس کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہونے کے لیے چند سوالات پیش خدمت ہیں ۔ بہ راہ مہربانی ان کا جواب عنایت فرمائیے۔
(۱) حجر اسود کی تاریخی اور شرعی حیثیت کیا ہے؟
(۲) حجر اسود سب سے پہلے کس نبی کو کہاں اور کس طرح سے ملا تھا؟
(۳) حجر اسود کو سب سے پہلے خانہ کعبہ میں کس نبی نے اور کن حالات میں نصب فرمایا؟
(۴) حجر اسود سے طواف شروع کرنے کا سب سے پہلے حکم کس نبی کو دیا گیا تھا؟
(۵) بعض علماے اہل سنت، جو حجر اسود کو جنت سے اتارا ہوا پتھر نہیں مانتے اس بارے میں ان کی تحقیق اور نکتۂ نظر کیا ہے؟ اور وہ کس بنیاد پر اجماع امت اور سواد اعظم سے اختلاف کرتے ہیں ؟
(۶) مشرکین مکہ بھی حجر اسود کے عقیدت مند تھے۔ حجر اسود کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا تھا اور وہ کس بنا پر یہ عقیدہ رکھتے تھے؟
(۷) حجر اسود سے متعلق یہ معروف اور اجماعی تصور کہ وہ جنت سے اتارا ہوا پتھر ہے، کیا عقائد میں شامل ہے؟ کیا اس سے علمی اختلاف کیا جاسکتا ہے؟ اس اختلاف سے اسلام اور مسلمانوں کو کوئی حرج ہوگا؟