نماز میں سر ڈھانپنے کا مسئلہ

میں نماز کے لیے کبھی ٹوپی لگاتا ہوں اور کبھی نہیں لگاتا۔ اس لیے کہ میرے علم کے مطابق ٹوپی نماز کے شرائط میں داخل نہیں ہے، لیکن یہاں ہمارے امام صاحب کا کہنا ہے کہ لوگ بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں ۔ اب مجھے الجھن یہ ہے کہ اگر میں ٹوپی لگاتا ہوں تو دل میں خیال ہوتا ہے کہ میں امام صاحب کو یا دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ عمل کر رہا ہوں اور جو عمل لوگوں کو یا کسی انسان کو خوش کرنے کے لیے کیا جائے اس سے شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اکثر مسلمان داڑھی کے بغیر نماز پڑھتے ہیں ۔ پاجامے ٹخنوں سے نیچے لٹک رہے ہوتے ہیں ، جو گندگی سے بھرے ہوتے ہیں ۔ کوئی اعتراض نہیں کرتا، جب کہ ان دونوں کے بارے میں صحیح حدیثوں میں وضاحت آئی ہے۔ لیکن ٹوپی کے بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے۔ لیکن اس پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ کیا امام صاحب کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ کس چیز کا دین میں کیا مقام ہے؟ برائے مہربانی رہ نمائی فرمائیں ۔

اذان کی تاریخ

آج کل ہم اذان کے لیے، جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ان کا انتخاب کیسے ہوا؟ یہ الفاظ معراج کے بعد منتخب ہوئے تھے یا معراج سے پہلے؟ کیا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ میں معراج کے موقعے پر یہی آج کی رائج اذان دی تھی، جب رسول عربی ﷺ نے انبیاء کی امامت فرمائی تھی؟

ٹی، وی کے استعمال کا حکم

بعض حضرات ٹی وی کو ناجائز و حرام قرار دیتے ہیں ، جب کہ اس کا شمار ذرائعِ ابلاغ میں ہوتا ہے۔ کیا ٹی وی پر معلوماتی و اصلاحی پروگرام دیکھے جاسکتے ہیں ؟ اس کے منفی و مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیجیے۔ اس پر جو تصاویر مردوں اور عورتوں کی آتی ہیں ان کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

بزنس میں نفع و نقصان میں شرکت ضروری ہے

آج کل لوگ بزنس میں صرف Profit میں حصہ دار ہونا چاہتے ہیں ۔ بزنس کے مالک کو، چاہے کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے، حصہ لینے والے کو پوری رقم دینی پڑتی ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟ بعض اوقات خسارہ کی صورت میں بزنس کے مالک کو مجبوراً قرض لے کر حصہ دار کو رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بزنس میں شریک ہونے والے Loss and Profit دونوں میں برابر کے شریک ہوتے ہیں یا نہیں ؟

فکسڈ ڈپازٹ میں رقم جمع کرنا

کسی بیوہ عورت کو شوہر کی طرف سے کچھ رقم ملنے پر وہ اسے فکسڈ ڈپازٹ میں رکھ کر اس کے نفع سے گزارہ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ اس لیے کہ اسے کاروبار میں لگانا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔

طلاق شدہ عورت کی کفالت

جیسا کہ آپ نے اپنی تقریر میں تفصیل سے بیان کیا کہ طلاق کے بعد بھی اسلامی شریعت کی رو سے عورت بے سہارا نہیں ہوتی۔ اس کے ماں باپ اور دوسرے قریبی رشتہ داروں پر اس کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر طلاق شدہ عورت کے ماں باپ، اولاد یا بھائی بہن اس قابل نہ ہوں کہ اس کا بوجھ اٹھا سکیں تو پھر ایسی صورت میں اسلامی فقہ کیا کہتی ہے؟

موجودہ دور میں عورت کن آداب کے ساتھ گھر سے باہر نکلے

اس میں شک نہیں کہ عورت شرعی حدود کی پابندی کے ساتھ گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔ لیکن موجودہ دور میں جہاں اخلاقی و معاشرتی برائیاں عام ہوچکی ہیں ، اس اجازت سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟ اور اس معاملے میں مسلمان خواتین کا کیا رول ہونا چاہیے؟