حدیث نبوی کی صحت و عدمِ صحت کی پہچان

’کیا غیر مسلم ممالک میں سودی لین دین جائز ہے؟‘ کے عنوان سے آں جناب نے ایک سوال کا جو جواب دیا ہے اس میں سودی لین دین کی شناعت بیان کرتے ہوئے ایک حدیث نقل کی ہے، جس کا مضمون یہ ہے: ’’سود کے گناہ کے ستر درجے ہیں ۔ اس کا سب سے کم تر درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔‘‘ یہ حدیث مجھے ’موضوع‘ یعنی من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف مشتبہ معلوم ہوتی ہے۔ آپ ایسے ناشائستہ انداز سے کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے۔ سود کی حرمت ثابت کرنے والی اور بھی بہت سی احادیث ہیں ۔ اس لیے ایسی غیر معتبر اور ثقاہت سے گری ہوئی احادیث سے اجتناب اولیٰ ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی طبعی نظافت

آپ نے اپنے ایک مضمون بہ عنوان ’رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں ‘ (شائع شدہ ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی نومبر ۲۰۰۹ء) میں رسول اکرم ﷺ کی خانگی مصروفیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ اپنے کپڑوں سے جوئیں خود نکال لیا کرتے تھے۔‘‘ یہ کام آپؐ کی طبعی نظافت کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ آپؐ تو صفائی ستھرائی کا نمونہ تھے۔ اس لیے حدیث سمجھنے میں زحمت محسوس ہو رہی ہے۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں ۔

فاقہ کشی کے دوران پیٹ پر پتھر باندھنے کی روایت

جنگ احزاب کے وقت اسلامی حکومت قائم ہوئے پانچ سال کا عرصہ ہوگیا تھا۔ ایک بڑا معرکہ درپیش تھا۔ مقابلے کی تیاری کے آغاز ہی میں خندق کی کھدائی کے دوران تین تین دن سے متواتر فاقے کاٹے گئے۔ کچھ صحابہ کرامؓ نے اگر بیان کیا کہ ان کے پچکے ہوئے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے ہیں تو نبی ﷺ نے اپنا کپڑا اٹھا کر دکھایا کہ یہاں دو پتھر بندھے ہوئے ہیں ۔
برسر اقتدار ہونے کے باوجود، بہت بڑی جنگ کی تیاری کا آغاز اس طرح کے حالات میں ہوا، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی عقل میں نہیں آتی کہ فاقہ کشی کے دوران پیٹ پر پتھر باندھے گئے۔ اس سے تو تکلیف میں اور اضافہ ہی ہوگا۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں ۔

رسول اکرم ﷺ کی تشریعی حیثیت

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کو بہ حیثیت رسول جو ذمہ داری دی گئی تھی، وہ کتاب اللہ کی تشریح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور (اے نبی) یہ ذکر ہم نے تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کردو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔ (النحل: ۴۴) اس آیت سے صاف معلوم ہوتاہے کہ نبیؐ کو اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری دی تھی کہ قرآن میں جو احکام و ہدایات دیے جا رہے ہیں ، ان کی آپؐ وضاحت اور تشریح فرما دیں ، تاکہ لوگوں کو کلام اللہ کے سمجھنے میں دشواری نہ پیش آئے۔
یہ فریضہ منصب ِرسالت کا ایک اہم جزء ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ذمہ داریاں آپؐ کے سپرد کی گئی تھیں اور سبھی معاملات میں آپؐکی اتباع کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ بلکہ یہاں تک فرمایا گیاہے کہ رسول کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے (النساء: ۶۴، ۸۰، محمد: ۳۳) اس کے ساتھ آپ کو کچھ اختیارات بھی عطا کیے تھے۔ فرمایا: ’’جو کچھ رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔‘‘ (الحشر:۷) یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ فرائض نبوت کی ادائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہی بصیرت اور حکمت عطا فرمائی تھی، جس کی بنیاد پر آپ مقاصد قرآن کی گہرائیوں تک پہنچتے تھے۔ یہ بصیرت اور حکمت لازمۂ نبوت تھی، جو کتاب کے ساتھ آپ کو عطا کی گئی تھی اور اسی کی بدولت آپؐ لوگوں کو تعلیم خداوندی کے مطابق عمل کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ قرآن میں اس کا بہ کثرت تذکرہ ملتا ہے۔ (ملاحظہ کیجئے البقرۃ: ۱۲۷، ۱۲۹، ۱۵۱، آل عمران: ۱۶۴، الجمعۃ: ۲) علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ (القیامۃ: ۱۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآنی تعلیمات و احکام کی جو تشریح و تعبیر آپؐ اپنے قول و عمل سے کرتے تھے وہ آپؐ کے ذہن کی پیداوار نہ تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ِمبارک ہی آپ پر قرآن نازل کرتی تھی اور وہی آپؐ کو اس کا مطلب بھی سمجھاتی اور اس کے وضاحت طلب امور کی تشریح بھی کرتی تھی۔ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آپؐ کے ذرائع معلومات کتاب اللہ کے علاوہ بھی ہیں ، جو قرآن سے ثابت ہیں ۔ سورۂ بقرہ میں ہے: ’’اوروہ قبلہ جس کی طرف تم پہلے رُخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتاہے۔‘‘ (آیت ۱۴۳) چونکہ قبلۂ اول کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم قرآن میں کہیں نہیں پایا جاتا، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو قرآن کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات ملتی تھیں ۔ لہٰذا حضور کی زندگی کا وہ کارنامہ جو آپؐ نے بعثت کے بعد اپنی ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں انجام دیا وہ قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں منصب رسالت کے دیگر کاموں کی ادائی ہے۔ اس تفصیل سے بہ خوبی واضح ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا منصب شارح کا تھا، نہ کہ ’شارع‘ کا ۔ لیکن بعض علماء آپؐ کے لیے شارع کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا نام پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تشریعی اختیارات (Legislative Powers) عطا کیے تھے۔ اس بات کا تذکرہ انھوں نے اپنی تصانیف، خاص کر ’سنت کی آئینی حیثیت‘ میں زور و شور سے کیا ہے اور ایک دو جگہ آپؐ کو ’شارع علیہ السلام‘ کے لقب سے نوازا ہے۔ مولانا مرحوم کی علمی صلاحیتوں کا قائل ہونے کے باوجود ان کا یہ نظریہ ناچیز کی عقل و فہم سے پرے ہے۔ کیوں کہ شارع تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، جس کا قرآن میں صراحت سے ذکر کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ کی حیثیت تو صرف شارح کی تھی۔
مولانا مودودیؒ نے نبی ﷺ کو تشریعی اختیارات حاصل ہونے کی جتنی بھی دلیلیں دی ہیں وہ سب دراصل تشریح کے زمرے میں آتی ہیں ۔ مثال کے طور پر قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ’’اگر تم کو جنابت لاحق ہوگئی ہو تو پاک ہوئے بغیر نماز نہ پڑھو۔‘‘ (النساء: ۴۳) اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپؐ نے بتایا کہ جنابت کیا ہے اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے؟ یعنی غسل کیسے کیا جائے گا؟ یہ سب اضافی باتیں تشریح و تفسیر کے زمرے میں ہی آئیں گی۔اسی طرح قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دو سگی بہنوں کو بہ یک وقت ایک مرد سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ (النساء ۲۳) اس کی تشریح و توضیح آپؐنے یوں کی کہ جس طرح دوسگی بہنیں ایک جگہ جمع نہیں کی جاسکتیں اسی طرح خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک جگہ جمع نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انھیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔ (النساء: ۱۱) یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر صرف دو لڑکیاں ہوں تو ان کو کتنا حصہ ملے گا؟ اس کی وضاحت آپؐ نے یوں فرمائی کہ دو لڑکیاں ہونے کی صورت میں بھی دونوں کو ترکہ میں سے دو تہائی دیا جائے گا۔
یہاں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ سورۂ النحل آیت ۴۴ میں جس طرح حضوؐر کو قرآنی آیات کی تشریح و توضیح کا حکم دیا گیا ہے اس طرح قرآن میں تشریعی اختیارات عطا کرنے کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے آپؐ کے تشریعی اختیارات کے حق میں مولانا مودودیؒ نے جو دلائل دیئے ہیں اور جو مثالیں پیش کی ہیں وہ ناکافی معلوم ہوتی ہیں ۔
یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ یہ دین کی کوئی فروعی بحث نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق بنیادی عقائد سے ہے۔ مولانا مودودیؒ کی رائے مان لینے سے اوّل تو عقیدۂ توحید پر زد پڑتی ہے، دوسرے حضوؐر کے اختیارات میں غلو کے باعث فرقہ واریت کو تقویت پہنچتی ہے، جس سے ملت اسلامیہ کے مزید کم زور ہونے کا اندیشہ ہے۔ امید کہ تشفی بخش جواب سے نوازیں گے۔

ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کا مہر

مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ’تذکار صحابیات‘ (طالب ہاشمی) میں حضرت خدیجہؓ کا مہر پانچ سو درہم درج ہے، جب کہ اسی ادارہ سے شائع شدہ کتاب ’محمد عربی ﷺ‘ میں ان کا مہر بیس اونٹ لکھا گیا ہے۔ بہ راہِ کرم مطلع فرمائیں کہ دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے اور یہ فرق کیوں ہے؟

مہر فاطمی کی حیثیت

مہر فاطمی کو مسنون قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ موجودہ دور میں اس کے برابر کتنی رقم بنتی ہے؟ اگر کسی لڑکی کا مہر چاندی سونے کی شکل میں باندھا گیا، لیکن فوراً اس کی ادائی نہیں ہوئی، بلکہ اس پر دس پندرہ سال گزر گئے۔ اب مہر ادا کرنا ہو تو چاندی یا سونے کی موجودہ مالیت کے لحاظ سے حساب ہوگا یا اُس زمانے کے حساب سے جب مہر واجب ہوا تھا؟

گدھا- رسول اللہ ﷺکی سواری؟

مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع شدہ جناب طالب ہاشمی کی کتاب ’خیر البشر کے چالیس جاں نثار ‘ میں حضرت معاذ بن جبل ؓ کے تذکرہ میں ایک جگہ ان کے حوالے سے لکھا ہوا ہے :’’ میں ایک دن گدھے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوارتھا اور آپؐ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔‘‘ (ص۳۰۷:) یہ بات بڑی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے ۔ گدھا چھوٹے قد اورمعمولی قسم کا جانورہے ۔ اس پر سواری کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی جسامت اتنی مختصر ہوتی ہے کہ دو اشخاص اس پر سوارہی نہیں ہوسکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گدھے کی سواری زیب نہیں دیتی اورآپؐ کے پیچھے ایک صحابی کا بیٹھنا عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔
مجھے سنہ۲۰۱۱ء میں حج کی سعادت نصیب ہوئی اورتقریباً پینتالیس دنوں تک سعودی عرب میں میرا قیام رہا ۔ اس عرصہ میں مکہ معظمہ ، منیٰ ، عرفات اور مدینہ منورہ وغیر جانا ہوا ۔ پورے سفر میں کہیں بھی مجھے گدھا نظر نہیں آیا ۔کہیں ایسا تونہیں ہے کہ مصنف نے انگریزی الفاظ ASSیا DONKEY کا ترجمہ ’گدھا ‘ کردیا ہو ، جب کہ ان الفاظ کا اطلاق خچر پر بھی ہوتا ہے ۔ جسمانی ساخت میں خچر گھوڑے سے کم تر، لیکن اس کی نسل سے ہوتا ہے ۔ اسے سواری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، جب کہ گدھے کوکہیں سوار ی کے لیے نہیں استعمال کیا جاتا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس طرح کے جملوں کا استعمال بے ادبی محسوس ہوتی ہے ۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے جملے خارج کردیے جائیں ۔

رسول اللہﷺ کے بچپن کے بعض واقعات

جناب مائل خیرآبادی نے بچوں کے لیے ایک کتاب’ بڑوں کا بچپن‘کے نام سے لکھی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے دو واقعات بیان کیے ہیں : پہلا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی لڑکے سے آپؐ کو معلوم ہوا کہ شہر میں ناچ گانے کی محفل لگتی ہے اورلوگ کھیل تماشوں سے دل بہلاتے ہیں ۔ آپ ؐ کے دل میں انہیں دیکھنے کا شوق ہوا ، لیکن اللہ تعالیٰ کویہ منظور تھا کہ آپؐ بچپن میں بھی پاک صاف اورنیک رہیں ۔ چنانچہ آپ جاتےجاتے راستے میں کسی کام سے رک گئے اور پھر نیند آگئی ۔ آپ سو گئے اورصبح تک سوتے رہے ۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ خانۂ کعبہ کی دیوار گرگئی۔ مکہ کے لوگوں نے مل جل کر اسے اُٹھانا شروع کیا ۔ اُٹھانے والوں میں آپ ؐ اورآپ کے چچا عباسؓ بھی شامل تھے۔ عباسؓ نے آپ کا کندھا۔ چھلا ہوا دیکھا تو آپؐ کا تہہ بندکھول کر آپ کے کندھے پررکھ دیا ۔ آپ ؐ مارے شرم کے بے ہوش ہوکر گرپڑے ۔ تھوڑی دیر میں ہوش آیا تو آپ کے منہ پر تھا۔ ’’میرا تہبند ، میرا تہبند ‘‘ جب آپ کا تہہ بند باندھ دیا گیا تو آپ ؐ کا دل ٹھکانے ہوا ۔
ان دونوں واقعات کے سلسلے میں بعض حضرات نے سخت اعتراض کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے اللہ کے رسول ﷺ کی توہین ہوتی ہے ۔ یہ واقعات ثابت نہیں ہیں ۔ اس لیے انہیں مذکورہ کتاب سے نکال دینا چاہیے۔بہ راہِ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں ۔ کیا یہ دونوں واقعات غیر مستند ہیں ؟

رضاعی ماں  سے رسول اللہ ﷺ کی بے توجہی؟

ضرت حلیمہ سعدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں تھیں ۔ انہوں نے آپ کوبچپن میں دودھ پلایا تھا ۔ کتبِ سیرت میں نہیں ملتا کہ آپؐ نے کبھی ان سے ملاقات کے لیے سفر کیا ہو۔ نہ نبی بنائے جانے سے پہلے نہ نبی بنائے جانے کے بعد ۔ اسلام میں رشتوں کا پاس و لحاظ رکھنے کی بڑی تاکید آئی ہے ۔ اس سلسلے میں خود آپ ؐ کے بہت سے ارشادات ہیں ۔ پھر خود آپ نے اس کاعملی مظاہرہ کیوں نہیں کیا؟بہ راہ ِ کرم اس اشکال کو دور فرمادیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ کا کم سنی میں نکاح

ایک خلش ہے، جس نے مجھے پریشان اور بے چین کر رکھا ہے۔ وہ ہے حضور ﷺ کا حضرت عائشہؓ کے ساتھ کم سنی میں شادی کرنا۔ اس سلسلے میں جو دلائل دیے جاتے ہیں ان میں کوئی وزن اور جان نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آٹھ اور نو سال کی عمر میں عرب کی لڑکی شادی کے قابل ہوجاتی ہے اور چالیس سال کے بعد ہی بوڑھی ہوجاتی ہے۔ یہ بات اس لیے صحیح نہیں ہے کہ حضوؐر نے حضرت خدیجہؓ سے چالیس سال کی عمر میں شادی کی اور بچے بھی حضرت خدیجہؓ سے چالیس سال کی عمر کے بعد ہی ہوئے ہیں ۔ خود حضور ﷺ نے اپنی دختر نیک اختر حضرت فاطمہؓ کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہؓ عالمہ و فاضلہ تھیں ، یہ سب صحیح، لیکن ایک ایسی لڑکی، جو کہ انتہائی کم سن ہو، جو شادی کے بعد بھی گڑیوں کا کھیل کھیلتی ہو اس سے کیا شادی کرنا ضروری تھا؟ اللہ تو کسی اور خاتون کو یہ صلاحیتیں عطا کرسکتا تھا۔ سب سے بڑا اعتراض، جو حضوؐر کے خلاف کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ اپنی کبر سنی کی حالت میں حضوؐر نے کیسے ایک نوسالہ لڑکی سے شادی کی اور یہ بھی کہیں درج نہیں کہ یہ اجازت صرف حضوؐر کے لیے ہے۔ اس لیے آج اگر کوئی بوالہوس بوڑھا کم سن بچی سے شادی کرتا ہے تو اسے کون روک سکے گا؟ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں یہ رواج تھا اس لیے کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا؟ مگر جو دین آخری دین تھا اور قیامت تک کے لیے تھا اس میں تو اس پر روک ہونی چاہیے تھی؟ بہ راہ کرم اس کا جواب دیں ۔