بینک میں نام زدگی کا حکم

میری والدہ نے اپنی ذاتی ملکیت سے کچھ رقم ایک تجارتی کمپنی میں لگائی ہے ۔ یہ کمپنی، جسے قائم کرنے والے کچھ مسلمان ہیں ، اسلامی طرز پر منافع دیتی ہے ۔والدہ نے نامزدگی Nomination میرے بھائی کے نام کی ہے اوروہ چاہتی ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد کل رقم اسی کوملے ۔ کمپنی بھی رقم اسی شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی ہے جسے Nominate کیا گیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں مذکورہ رقم کا مالک صرف میرا بھائی ہوگا، یاوہ تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی؟بہ راہِ کرم رہ نمائی فرمائیں ؟
جواب
بینک یا کمپنی میں کسی اکاؤنٹ میں Nomination کی حیثیت ’ وصیت ‘ کی ہے اور وصیت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ ورثہ کے نام نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ دور میں علماء نے ورثہ کے نام وصیت کی ایک صورت کوجائز قرار دیا ہے ۔ وہ یہ کہ ورثہ کے حصوں کے بہ قدر ان کے نام وصیت کی جائے۔ صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے اکاؤنٹ میں موجود رقم کا مالک ان کا صرف نام زد بیٹا نہ ہوگا ، بلکہ وہ تمام ورثہ میں ، قرآن میں مذکور ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

Leave a Comment