دلہن کے لیے پالکی کا استعمال

یہاں شادی بیاہ کے مواقع پر دلہن کو پالکی میں بٹھا کر محرم و نامحرم ہرکس و ناکس اٹھا کر دولہا کے گھر تک لے جاتے ہیں ۔ یا پہاڑی راستے کو عبور کرکے روڈ پوائنٹ تک لے جاتے ہیں ۔ ایسا کرنے میں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں ہے؟ آں حضور ﷺ کے زمانے میں اس قسم کی کوئی مثال ملتی ہے یا نہیں ؟ پہاڑی علاقوں میں بسا اوقات سخت نشیب یا چڑھائی پر دلہن کو لے جانا پڑتا ہے۔ اس سے اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دلہن کو اپنے ماں باپ، بھائی بہن سے ایک قسم کی ہمیشہ کی جدائی کی فکر ہوتی ہے، مزید برآں سخت سفر کی دقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے پالکی کا استعمال اس کے لیے ایک بھروسہ و تسلی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیجیے کہ کیا ایسے حالات میں پالکی کا استعمال جائز ہوگا؟
جواب
دلہن کو پالکی میں بٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاسکتا ہے۔ پالکی اٹھانے والوں کا محرم ہونا ضروری نہیں ہے۔ بس پردہ کے آداب ملحوظ رہیں اور کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ ’حدیث الافک‘ سے اس سلسلے میں رہ نمائی ملتی ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ غزوۂ مریسیع میں اسلامی لشکر میں آں حضرت ﷺ کے ساتھ تھیں ۔ انھیں ہودج میں بٹھا کر اونٹ پر سوار کرایا جاتا تھا اور قافلہ رکنے پر ہودج اونٹ سے اتار دیاجاتا تھا۔ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث: ۴۱۴۱، صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی حدیث الافک، حدیث: ۲۷۷۰)، جو لوگ اس خدمت پر مامور تھے ان کے بارے میں کوئی صراحت نہیں ملتی کہ وہ حضرت عائشہؓ کے محارم میں سے تھے۔

Leave a Comment