علم غیب کی کنجیاں

سورۂ لقمان کی آخری آیت میں یُنَزِّلُ الْغَیْثَ (وہی بارش برساتا ہے) کی موجودگی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ اس آیت میں دوسری جو باتیں مذکور ہیں ان کا تعلم علم اور ادراک سے ہے (عِلْمُ السَّاعَۃِ، یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ، مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ) بارش کا برسانا تو فعل سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ کی صفات بھی علم اور خبر سے تعلق رکھتی ہیں ۔ پھر اس آیت میں ایک عمل کا ذکر اور وہ بھی علم الساعۃ اور علم الارحام کے درمیان، کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ اس الجھن کو دور فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں ۔
جواب
سورۂ لقمان کی آخری آیت یہ ہے: اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَج وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌoع (لقمان: ۳۴) ’’اس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سر زمین میں اس کو موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ اس آیت میں پانچ چیزوں کو بیان کرکے کہا گیا ہے کہ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کسی انسان کو ان کی خبر نہیں ہے۔ یہ مضمون متعدد احادیث میں بھی وارد ہوا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ لاَ یَعْلَمُھَا اِلّاَ اللّٰہُ۔ (صحیح بخاری: ۱۰۳۹، ۴۶۹۷، ۷۳۷۹) ’’غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث میں آگے انھی پانچ چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جو آیت میں مذکور ہیں ۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آں حضرت ﷺ نے درج بالا جملہ ارشا د فرمانے کے بعد سورۂ لقمان کی زیر بحث آیت کی تلاوت فرمائی۔ (بخاری: ۴۶۹۷، ۴۷۷۸) حدیث ِ جبرئیل میں ہے کہ جب آپؐ سے دریافت کیا گیا: قیامت کب آئے گی؟ تو پہلے آپ نے فرمایا کہ ’’جو پوچھ رہاہے اور جس سے پوچھا جا رہاہے، دونو ں کو اس کی کچھ خبر نہیں ہے۔‘‘ پھر یہ بھی فرمایا: فِیْ خَمْسٍ لاَ یَعْلَمُھُنَّ اِلّاَ اللّٰہُ۔ (بخاری: ۴۷۷۷) ’’یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔‘‘ علماء نے صراحت کی ہے کہ آیت اور حدیث میں پانچ چیزوں کو امور ِ غیب میں شمار کیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف یہی چیزیں غیب ہیں ۔ ان میں تمام غیبیات کا احاطہ و استقصاء مقصود نہیں ہے، بل کہ صرف انھی کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے، کیوں کہ یا تو ان کے بارے میں کسی موقع پرسوال کیا گیا تھا، جیسا کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، یا یہ ایسی چیزیں ہیں جنھیں جاننے کے لوگ مشتاق رہتے ہیں ۔ (فخر الدین الرازی، التفسیر الکبیر، المکتبۃ التوفیقیۃ مصر، ۱۳/۱۴۳، ابو حیان الاندلسی، البحر المحیط، دار احیاء التراث العربی بیروت، ۲۰۰۲ء ۷/۲۵۶، آلوسی، روح المعانی، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر، ۲۱/۱۱۲) مفسرین ِ کرام نے اس آیت کے نظم پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: ’’اس سے پہلے کی آیت میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس دن سے ڈریں جب کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ اس دن کا آنا برحق ہے۔ اس پر سننے والا دریافت کرسکتا تھا کہ وہ دن کب آئے گا؟ چناں چہ اس کا بھی جواب دے دیا گیا کہ وہ دن تو آکر رہے گا، لیکن کب آئے گا؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس کے بعد وقوع ِ قیامت کی دو دلیلیں دی گئیں : ایک دلیل زمین کا مردہ ہوجانے کے بعد بارش کے نتیجے میں دوبارہ زندہ ہوجانا ہے اور دوسری دلیل انسانوں کی اوّلین تخلیق ہے کہ اگر وہ ممکن ہے تو ان کی از سر نو تخلیق کیوں کر محال اور مستبعد ہوسکتی ہے؟! اس کے بعد مخاطبین سے کہا گیا کہ وہ وقت ِ قیامت کو جاننے کے کیوں خواہش مند رہتے ہیں ، جب کہ انھیں دوسری بہت سی ایسی چیزوں کا علم نہیں ہے، جو ان کے لیے اس سے زیادہ اہم ہیں ۔ مثلاً وہ اور ان کی طرح دوسرے انسان نہیں جانتے کہ آئندہ انھیں کیا کچھ کرنے کی توفیق ہوگی اور انھیں خبر نہیں کہ ان کی موت کب اور کہاں آئے گی؟ جب انھیں ایسی چیزوں کا علم نہیں ہے جن سے ان کی ضروریات وابستہ ہیں تو انھیں وقت ِ قیامت جاننے کی کیوں خواہش رہتی ہے۔ اس کے سلسلے میں تو ان کے لیے بس یہ جاننا کافی ہے کہ وہ آکر رہے گی۔ اور یہ بات پیغمبروں کے ذریعے بتا دی گئی ہے۔‘‘ (التفسیر الکبیر، ۱۳/۱۴۳، روح المعانی، ۲۱/۱۱۱) اس آیت میں مذکور پانچ چیزوں میں سے چار کا بیان علم و ادراک کے صیغوں میں ہے، جب کہ ایک (ینزّل الغیث) کو فعل کے صیغہ (وہی بارش برساتا ہے) میں بیان کیا گیا ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب مفسرین ِ کرام نے مختلف انداز سے دیا ہے: ۱- پانچوں چیزوں کا تعلق علم سے ہے۔ اس لیے کہ حدیث میں پانچوں کو امورِ غیب میں شمار کیا گیا ہے اور غیب کا تعلق علم سے ہوتا ہے، نہ کہ عمل سے۔ ۲- اس سے مقصود محض خبر دینا نہیں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ ہی بارش برساتا ہے‘‘ اس لیے کہ قرآن کے مخاطبین اس کے منکر نہ تھے۔ بل کہ یہ بتانا مقصود ہے کہ بارش ہونے کے صحیح وقت کا بھی اسی کو علم ہے۔ آیت کا آغاز ’’اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ‘‘ سے ہوا ہے۔ اگلے جملے کا اس پر عطف ہے، اس لیے اس کا مفہوم بھی یہی ہوگا ’’عندہ علم وقت نزول الغیث‘‘۔ ۳- یُنَزِّلُ الْغَیْثَ کہہ کر بارش برسانے کی قدرت کا اظہار مراد نہیں ہے، بل کہ بارش کے بارے میں ان چیزوں کا بیان ہے جو علم سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ کہنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کہ وہ کب، کہاں اور کتنی مقدار میں پانی برسائے گا؟ ۴- جو لوگ شرک فی الربوبیۃ میں مبتلا ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’’فلاں نچھتّر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔‘‘ حالاں کہ بارش برسانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ امورِ غیب کے بیان کے ساتھ ان لوگوں کے عقیدۂ باطل کا بھی رد ہوجائے، اس مقصد سے ’یعلم‘ کے بہ جائے ’ینزل‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ ۵- بارش اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ آیت میں فعل مضارع (ینزّل) لایا گیا، تاکہ اس کی دلالت اس پر ہونے کے ساتھ کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، اللہ کے انعام و احسان پر بھی ہوجائے۔ ۶- قرآن میں دیگر مقامات پر بارش کے نتیجے میں روئے زمین پر دوبارہ روئیدگی کے عمل سے وقوع قیامت پر استدلال کیا گیا ہے۔ اس آیت میں ’یعلم الغیث‘ کے بہ جائے ینزّل الغیث کہا گیا، تاکہ علم الٰہی میں اس کے شامل ہونے کے ساتھ اس استدلال کی طرف بھی اشارہ ہوجائے۔ (ان نکات کی تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے روح المعانی، ۲۱/۱۰۹، الشیخ محمد الطاہر بن عاشور، تفسیر التحریر والتنویر، دار سحنون للنشر والتوزیع تیونس، جزء ۲۱، ص ۱۹۷) اس آیت میں بلاغت کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں ۔ ان میں سے چند کی طرف مختصر اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے: ۱- ان اللّٰہ یعلم الساعۃ کے بہ جائے اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ کہا گیا ہے۔ لفظ ’عند‘ کے استعمال سے اختصاص و حصر کے معنیٰ پیدا ہوگئے ہیں ۔ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اور کسی کو نہیں ہے۔ ۲- علم الساعۃ سے پہلے لفظ ’عند‘ لایا گیا ہے۔ اور عند اللّٰہ کہنے کے بہ جائے پہلے لفظ ’اللّٰہ‘ لایا گیا، اس کے بعد ضمیر کا استعمال کرکے ’عندہ‘ کہا گیا ہے۔ یہ انداز بھی اختصاص کے معنیٰ پیدا کرتا ہے۔ ۳- دوسرے جملے میں مصدر (عِلْم) لانے کے بہ جائے فعل مضارع (یَعْلَمُ) لایا گیا ہے، جو فعل کی تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی رحم میں جنین جتنے مراحل سے گزرتا ہے اور جن کیفیات سے دو چار ہوتا ہے، ان سب کا اللہ تعالیٰ کو علم رہتا ہے۔ ۴- تیسرے جملے میں بھی فعل مضارع (ینزّل) لایا گیا ہے۔ اس سے فعل کی تکرار کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ۵- چوتھے اور پانچویں جملے میں دو چیزوں کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ ان کا کسی انسان کو علم نہیں ہے۔ اس سے بہ طور کنایہ ثابت ہوتاہے کہ ان چیزوں کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ ۶- ان دونوں جملوں میں علم کے بہ جائے درایۃ کے مادہ سے لفظ (تَدْرِی) استعمال کیا گیا ہے۔ درایۃ کا معنیٰ علم سے کچھ مختلف ہے۔ اس (درایۃ) میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے درایۃ کے مادہ سے کسی لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں کیا جاتا۔ ۷- آخری جملے (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ) کے ذریعے یہ کہنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم صرف انھی پانچ چیزوں تک محدود نہیں ہے، بل کہ وہ مطلق علیم ہے، اسے کائنات کی ہر چیز کا علم ہے اور ’خبیر‘ کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ اسے اشیاء کے صرف ظاہر کا ہی علم نہیں ہے، بل کہ اس کا علم ان کے باطن تک پہنچا ہوا ہے۔ اس آیت میں بلاغت و معانی کے اور بھی بہت سے نکتے ہیں ، جن کی طرف مفسرین کرام نے اشارہ کیا ہے۔ تفصیل کے طالب ان کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔

Leave a Comment