ممنوعہ علاقوں میں رشوت دے کر شکار

ہمارے یہاں  کچھ لوگ ان جنگلی علاقوں میں جاکر شکار کرتے ہیں جہاں  شکار کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندی ہوتی ہے۔اس کے لیے انھیں فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کو رشوت دینی پڑتی ہے۔جب ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاتی ہے توکہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتا،اس لیے اگر ہم رشوت دے کر ایسے جانوروں کا شکار کرتے ہیں جو اسلامی شریعت میں  حلال ہیں تو اس کا شکار کرنے اورکھانے میں کوئی حرج نہیں  ہے۔ بہ راہ کرم اس معاملے کی وضاحت فرمائیں ۔
جواب
کومت کے وضع کردہ قوانین کی پابندی کرنا ذمے دار شہریوں کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ قوانین ظالمانہ اورغیرمنصفانہ ہوں توان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جاسکتی ہے اور انھیں  بدلوانے کی کوشش ہوسکتی ہے، لیکن چوری چھپے ان قوانین کی پامالی درست نہیں ۔ جن جانوروں کے شکار پر حکومت کی طرف سے پابند ی عائد کی گئی ہوان کا شکار کرنے سے بچنا چاہیے کہ یہ ملکی قوانین کی مخالفت ہے۔ان کا شکار کرنے کے لیے فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے حکام کورشوت دینا ایک غلط فعل ہے۔ قرآن وحدیث میں ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو رشوت دینے سے منع کیا گیا ہے۔ کھانے کے سلسلے میں عمومی بات یہ ہے کہ جانور حلال ہو تو اس کا گوشت کھایا جاسکتا ہے۔ محض اس وجہ سے کہ اس پر پابندی ہے اور اس کا شکاربلااجازت یا رشوت دے کر کیاگیا ہے، اسے کھانے کو شرعاً حرام تو نہیں قراردیا جاسکتاالبتہ اسے کھانااگر قانون کی خلاف ورزی ہو، تواس سے ہر حال میں  بچنا چاہیے۔

Leave a Comment