میراث کے چند مسائل

میرے شوہر کا ابھی چندماہ قبل انتقال ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے والدین سے میراث میں کچھ نہیں پایا تھا ۔ میں نے محنت اورجاں فشانی سے سلائی کڑھائی کرکے ان کی مالی مد د کی اوران کے کاروبار کو تقویت پہنچائی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں خوب برکت دی ۔ انتقال سے ایک سال قبل انہوں نے ایک پلاٹ خریدا تھا ، جس کا بیع نامہ میر ے نام سے کروایا تھا ۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے ۔ میری ساس ابھی بہ قیدِ حیات ہیں ۔ میرے شوہر نے وعدہ کیا تھا کہ اللہ نے اگر میرےحالات ٹھیک کیے تومیں تم کومکان بنوا کردوں گا ۔ میرے مرحوم شوہر کے بھائی مجھے اس مکان سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں جس میں میں مرحوم کے ساتھ رہتی تھی۔ بہ راہ ِکرم اس معاملے میں میری رہ نمائی فرمائیں ۔ مرحوم شوہر کی وراثت میں میرا کتنا حصہ ہے ؟
جواب

۱- کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ چیزوں میں سے کچھ بھی کسی کو دے سکتا ہے ۔ اسے ہبہ کہتے ہیں ۔ شوہر نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ خرید کراسے بیوی کے نام بیع نامہ کرادیا تو اسے ہبہ تصور کیا جائے گا ۔ اس کی مالک بیوی ہوگی ۔ وراثت میں وہ تقسیم نہ ہوگا ۔ اسی طرح مکان بھی اگر شوہر نےاپنی زندگی میں بیوی کو ہبہ کردیا تھا تووہ اس کی بھی مالک ہوگی ، لیکن اس کا ثبوت پیش کرنا ہوگا ۔ اگر کوئی ثبوت نہ ہوتو اس کی تقسیم مستحقینِ وراثت میں ہوگی۔
۲ - کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی تمام مملوکہ چیز یں اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم ہوں گی ، چاہے انہیں اس نے خود کمایا ہو یا اسے اپنے باپ دادا سے ملی ہوں ۔
۳- متوفی کے رشتے داروں میں اگر اس کی صرف ماں ، بیوی اوربھائی ہوں تو مال وراثت میں ماں چھٹے حصہ کی اور (لاولد) بیوی چوتھائی حصہ کی مستحق ہوگی، بقیہ مالِ وارثت عصبہ کی حیثیت سے بھائیوں کو ملے گا۔


Leave a Comment