میراث کے چند مسائل

ایک صاحب کا ابھی چند دنوں  قبل انتقال ہوا ہے۔ ان کے ورثاء میں  ماں ، بیوی، ایک بیٹی ، دو حقیقی بھائی ، دو حقیقی بہنیں  اور ایک باپ شریک بھائی زندہ ہیں ۔ والد کا انتقال ہوچکا ہے ۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ ان کے درمیان میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟
جواب
میراث کے احکام قرآن کریم میں مذکورہیں ۔ ان کے مطابق: (۱) والدین میں سے ہر ایک کے لیے میراث کا چھٹا حصہ (۶؍۱) ہے، اگر میت کی اولاد موجود ہو۔(النساء۱۱:) (۲) اگر میت کی اولاد ہوتو اس کی بیوی کا حصہ آٹھواں (۸؍۱) ہوگا۔(النساء ۱۲:) (۳) اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو،بیٹا نہ ہو، تو اسے نصف (۲؍۱)حصہ ملے گا۔ (النساء۱۱:) (۴) اگرحقیقی بہنوں کے ساتھ حقیقی بھائی بھی ہوں  تو ان کے لیے کوئی حصہ متعین نہیں ، بلکہ اصحاب الفروض کے حصے نکالنے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان اس طرح تقسیم کیاجائے گا کہ بھائی کو بہن کا دو گناحصہ ملے گا۔ (النساء۱۷۶:) (۵) حقیقی بھائی کی موجودگی میں باپ شریک بھائی محروم ہوگا۔ اس تفصیل کی روسے ماں کو چھٹا حصہ (۶؍۱) ، بیوی کو آٹھواں حصہ (۸؍۱) اور بیٹی کو نصف حصہ (۲؍۱) ملے گا۔ جو کچھ بچے گا اس کے چھ حصے کیے جائیں گے ، ایک ایک حصہ ہر بہن کو اور دو دو حصے ہر بھائی کو ملیں  گے۔

Leave a Comment