کیا حج سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ؟

عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ حج کے بعد حاجی گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے گویا وہ آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ بہ طور دلیل یہ حدیث پیش کی جاتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’جو شخص اللہ کی خوش نودی کے لیے حج کرے اور (اثناے حج) فحش گوئی سے بچے اور نافرمانی نہ کرے تو وہ ایسا بے گناہ ہوکر لوٹتا ہے جیسے اس دن بے گناہ تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘ لیکن بعض کتابوں میں میں نے یہ لکھا ہوا پایا ہے کہ حج ادا کرنے سے کبیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے، ان کی سزا بہر حال مل کر رہے گی۔ اس تضاد کی وجہ سے میں الجھن کا شکار ہوگیا ہوں ۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں ۔
جواب
آپ نے جو حدیث درج کی ہے وہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے۔ اس کا متن یہ ہے: مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ۔ یہ حدیث سنن ابی داؤد کے علاوہ صحاح ستّہ کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ (ملاحظہ کیجیے : بخاری: ۱۵۲۱، ۱۸۱۹، ۱۸۲۹، مسلم: ۱۳۵۰، ترمذی: ۸۱۰، نسائی: ۲۶۲۸، ابن ماجہ: ۲۸۸۹) امام احمدؒ نے اپنی مسند میں اسے متعدد مقامات پر روایت کیا ہے۔ (۲؍۲۲۹، ۲۴۸، ۴۱۰، ۴۸۴، ۴۹۴) امام طبریؒ نے بھی اپنی تفسیر میں مختلف سندوں سے اس کی روایت کی ہے (تفسیر طبری، دار المعارف مصر، ۴؍۱۵۰-۱۵۲) بعض روایتوں میں حدیث کے آخری حصے کے الفاظ کچھ مختلف ہیں ، مثلاً رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہٖ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ وغیرہ۔ اس حدیث کا ظاہری مفہوم، جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے بھی لکھا ہے، یہ ہے کہ ’حج سے انسان کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، خواہ وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ یا ان کا تعلق حقوق سے ہو‘ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، دار المعارف مصر، ۳؍۳۸۲) لیکن دیگر احادیث بھی پیش نظر رہیں تو یہ مفہوم صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے جس سند سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : مَنْ حَجَّ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ (ترمذی، ابواب الحج عن رسول اللّٰہ ﷺ، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرۃ، ۸۱۰) غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ (اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے) کی بشارت دین کے دوسرے بہت سے کاموں پر بھی دی گئی ہے۔ ان میں سے بعض کام عظیم الشان ہیں تو بعض معمولی درجے کے۔ مثلاً اذان سن کر کلمۂ شہادت پڑھنا، خوب اچھی طرح وضو کرکے حضور قلب کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھنا، نماز چاشت ادا کرنا، نماز با جماعت میں امام سورۂ فاتحہ پڑھ چکے تو اس کے ساتھ آمین کہنا اور وہ رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے تو رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُکہنا، ماہ رمضان میں دن میں روزہ رکھنا اور شب میں قیام کرنا، شب قدر میں عبادتوں کا اہتمام کرنا وغیرہ۔ علماء نے ان احادیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ ان میں جن گناہوں کی معافی کا تذکرہ ہے، ان سے مراد صغائر ہیں نہ کہ کبائر (المراد بالغفران الصغائر دون الکبائر) (شرح مسلم للنووی، دار الریان القاہرۃ، ۳/ ۱۰۸) بعض دیگر احادیث میں اس کی صراحت بھی ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ وَ رَمَضَانُ اِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتُ مَا بَیْنَھُنَّ اِذَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرِ۔ (مسلم: ۲۳۳) ’’کوئی شخص روزانہ پنج وقتہ نمازیں ادا کرے، ہر جمعہ کی نماز پڑھے اور ہر رمضان کے روزے رکھے تو ان کی بہ دولت ان عبادات کے درمیانی عرصے کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، اگر وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔‘‘ اسی بنا پر علماء نے لکھا ہے کہ جن احادیث میں غَفَرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖکے الفاظ آئے ہیں ان میں صغائر سے معافی مراد ہے نہ کہ کبائر سے۔ اسی مضمون کی ایک حدیث کی تشریح میں حدیث بالا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبد الرحمن مبارک پوریؒ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تمام پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے، لیکن علماء نے انھیں صرف صغائر پر محمول کیا ہے، اس لیے کہ بعض دیگر احادیث میں کبائر کا استثناء کیا گیا ہے۔‘‘ (تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، مکتبہ اشرفیہ دیوبند، ۲؍۷۰) شارح صحیح بخاری علامہ قسطلانیؒ (م۹۲۳ھ) نے زیر بحث حدیث کی شرح میں لکھا ہے: ’’رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہوجائے گا جس طرح اس دن اس پر کوئی گناہ نہیں تھا، جب وہ پیدا ہوا تھا۔ اس میں صغائر، کبائر اور حقوق سب شامل ہیں ۔ یہ بات حافظ ابن حجرؒ نے کہی ہے۔ تائید میں انھوں نے بعض دیگر احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن طبریؒ فرماتے ہیں کہ حقوق کی پامالی کے سلسلے میں اسے اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو اس کی تلافی پر قادر نہ ہو، لیکن اسے توبہ کی توفیق مل گئی ہو۔ ترمذیؒ نے لکھا ہے کہ یہ بشارت مخصوص ہے ان گناہوں کے سلسلے میں جو خاص طور پر حقوق اللہ سے متعلق ہیں ۔ اس سے حقوق العباد ساقط نہیں ہوں گے، بل کہ ان اعمال سے تو حقوق اللہ بھی ساقط نہیں ہوں گے۔ چناں چہ اگر کسی شخص کے ذمے نماز یا کسی چیز کا کفارہ یا حقوق اللہ میں سے کوئی دوسرا حق باقی ہو تو وہ اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ معافی کی بات گناہوں کے سلسلے میں کہی گئی ہے نہ کہ حقوق کے سلسلے میں ۔ گناہ ان حقوق کی ادائی میں تاخیر کرنے سے لازم آتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص نے حج واجب ہوجانے کے باجود اس کی ادائی میں تاخیر کی تو گناہ گار ہوگا۔ یہ گناہ اداے حج سے ساقط ہوجائے گا۔ یہی معاملہ دیگر حقوق کا ہے کہ ایک بار ان کی ادائی کے بعد اگر بعد میں پھر ان کی ادائی میں تاخیر اور کوتاہی کی گئی تو اس کا گناہ لازم ہوگا۔ پس حج مبرور سے مخالفت کا گناہ ساقط ہوتا ہے، نہ کہ حقوق کی عدم ادائی کا۔‘‘ (ارشاد الباری شرح صحیح البخاری، مطبع نول کشور، کان پور، ۳/۷۹) کبیرہ گناہوں سے معافی کے لیے توبہ ضروری ہے۔ امام نوویؒ نے لکھا ہے: ’’علماء فرماتے ہیں : توبہ ہر گناہ کے سلسلے میں لازم ہے۔ اگر معصیت کا معاملہ بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہو اور اس کا تعلق کسی انسان کے حق سے نہ ہو تو اس سے توبہ کی تین شرائط ہیں : (۱)گناہ کرنے والا اس معصیت سے باز آجائے۔ (۲)اس کے ارتکاب پر نادم ہو۔ (۳)عزم کرے کہ پھر کبھی اس کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ اگر ان تین شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو توبہ صحیح نہیں ہوگی اور اگر معصیت کا تعلق کسی انسان سے ہو تو مذکورہ شرائط کے ساتھ ایک چوتھی شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ اس نے صاحب ِ حق کا جو حق پامال کیا ہے اس کی تلافی کرے۔ اگر مال یا کسی دوسری چیز پر ناحق قبضہ جمایا ہے تو اسے واپس کرے۔ کسی پر کوئی بے جا الزام یا تہمت لگائی ہو تو اسے اختیار دے کہ اس سے بدلہ لے لے یا اسے معاف کردے۔ غیبت کی ہو تو اس سے معافی مانگ لے۔ ضروری ہے کہ آدمی تمام گناہوں پر توبہ کرے۔ اگر وہ اپنے صرف بعض گناہوں کے سلسلے میں توبہ کرتا ہے تو اہل حق کے نزدیک صرف انھی گناہوں پر اس کی توبہ مقبول ہوگی اور دیگر گناہ اس کے ذمے باقی رہیں گے۔ وجوب توبہ پر کتاب و سنت میں بہ کثرت دلائل موجود ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ (ریاض الصالحین، دار الکتاب العربی، بیروت، ۱۹۷۳، ص: ۱۰- ۱۱، باب التوبۃ) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حج سے انسان کے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ کبیرہ گناہوں سے معافی کے لیے توبہ ضروری ہے اور اگر حاجی نے پہلے کسی انسان کا حق پامال کر رکھا ہو تو اس کی معافی کے لیے اس کی تلافی بھی ضروری ہے۔ زیر بحث حدیث کی تشریح میں علامہ ابن العربی مالکیؒ نے یہی بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں : ’’ہم نے متعدد مقامات پر یہ بات لکھی ہے کہ طاعات صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں ، نہ کہ کبیرہ گناہوں کا۔ جب نماز کبائر کا کفارہ نہیں بنتی تو عمرہ، حج اور قیام رمضان کیسے کبائر کا کفارہ بن سکتے ہیں ؟ ہاں یہ عبادات بسا اوقات دل پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہیں کہ ان سے انسان کو سچی توبہ کی توفیق مل جاتی ہے اور یہ توبہ اس کے ہر گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے۔‘‘ (عارضۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، دار الاحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۹۹۵ جلد چہارم، ص: ۲۶)

Leave a Comment