حضرت حمزہؓ کے قاتل کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوکر دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے دریافت کیا تم وہی وحشی ہو، تمہی نے حمزہ کو قتل کیاتھا؟ عرض کیاہاں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کیا تم اپناچہرہ چھپاسکتے ہو؟ ان کو اسی وقت باہر آنا پڑا اور پھر تمام عمر سامنے نہ جاسکے۔ اس سے دل میں کھٹک پیداہوتی ہے۔ جب وہ مسلمان ہوگئے تو حضورؐ کا دل اسی طرح کشادہ ہونا چاہیے جیسا کہ دوسرے صحابہ کے لیےتھا۔ اس میں تنگ دلی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرے صحابہ کے قاتل اور بھی تھے مگر آپ نے یہ امتیاز کسی کے قاتل کے ساتھ نہیں برتا، پھر آخر ان کے ساتھ کیوں ؟ یہ مانا کہ حضورؐ کو آپ سے محبت تھی مگرمحبت کامطلب یہ نہیں کہ امتیاز برتا جائے۔ پھر ایک نبی - کیا کوئی ایسا شخص اپنے کو غیرمحسوس نہیں کرے گا؟ یہ چند شبہات ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری رہ نمائی فرمائیں گے۔
جواب
اس واقعہ سے آپ کے دل میں جو شبہات پیداہوئے اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس واقعہ سے متعلق تمام روایتیں آپ کے مطالعہ سے نہیں گزریں اور دوسری یہ کہ آپ کی نگاہوں سے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریٰ اور شخصی حیثیت اوجھل ہوگئی۔ میں اختصار کے ساتھ پہلے حضرت حمزہؓ کی شہادت، حضرت وحشی کے اسلام اور حضورؐ کے اظہارِ غم کی تفصیل پیش کرتاہوں۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل کانام وحشی بن حرب تھا اور وہ جبیربن مطعم کے غلام تھے۔ غزوۂ بدر میں حضرت حمزہؓ نے طعیمہ بن عدی بن خیار (جو جبیربن مطعم کاچچاتھا) کو قتل کیا تھا۔ جبیر نے وحشی سے کہا کہ اگرتم حمزہ کو قتل کردو تو پھر آزاد ہو۔ وحشی کا اپنا بیان ہے کہ احد کی لڑائی میں میری شرکت کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں حمزہ کو قتل کردوں۔ میں اس جنگ میں نہ خود قتل ہونا چاہتا تھااور نہ مسلمانوں سے مقاتلہ کرنا چاہتا تھا۔ گویا انھیں کفر واسلام کی کش مکش سے کوئی بحث نہ تھی،صر ف اپنی ذات سے بحث تھی۔ اس خود غرضی کے ساتھ وہ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور چھپ کر انھوں نے اپنا مخصوص ہتھیارحربہ (ایک چھوٹا نیزہ) دورسے حضرت حمزہؓ پر پھینک مارااور وہ شہید ہوگئے۔ان کو شہید کرنے کے صلے میں وحشی کو آزادی ملی۔ وہ مکہ فتح ہونے کے بعد بھی مسلمان نہ ہوئے اور طائف بھاگ گئے۔ پھر جب طائف میں بھی اسلام پھیل گیا تو اپنی جان بچانے کے لیے شام یا کہیں اور بھاگ جانے کا ارادہ کیا۔ ان کے اس ارادے سے واقف ہوکر ایک شخص نے کہا تم پرافسوس بخدا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کلمۂ شہادت پڑھ لینے کے بعد کسی کو قتل نہیں کرتے۔ چناں وہ طائف کے ایک وفد کے ساتھ مدینہ گئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحشی کے آنے کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑدو! کیوں کہ ایک شخص کا اسلام بھی میرے نزدیک ایک ہزار کافر کے قتل سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ پھر جب وہ حضورؐ کے سامنے آگئے تو ان کے درمیان یہ بات چیت ہوئی۔ آپ نے پوچھا کیا تم وحشی ہو؟ میں نے کہا،ہاں۔ آپ نے پوچھا کیا تمہی نے حمزہ کوقتل کیا تھا؟ میں نے کہا۔ہاں واقعہ یہی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے حضرت حمزہؓ کو قتل کرنے کی کیفیت پوچھی اور انھوں نے ان کے قتل کرنے کی وہی داستان سنائی جو اوپر گزری۔اس کےبعد وہ جملہ آتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو شبہ پیدا ہواہے۔ بخاری میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کیا تم میری نظروں سے اپنا چہرہ ہٹاسکتے ہو؟ اس کے بعد ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ میں باہر نکل آیا۔بخاری میں یہ نہیں ہے کہ پھر وہ حضورؐ کی وفات تک آپ کے سامنے نہ گئے، ہاں دوسری کتابوں میں دوجملے اور آئے ہیں۔ ایک کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’میں خود اپنے کو آپ کی نظروں سے بچائے رکھتا تھا۔‘‘ اور دوسرے جملے کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’اپنی وفات تک آپ نے مجھے نہیں دیکھا۔‘‘ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے فرمایا تھا
’’جائو، پہلے تم لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے، اب اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔‘‘
بخاری کی روایت میں حضرت وحشی کا بیان ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور مسیلمہ کذاب مسلمانوں سے لڑنے کو نکلا تو میں نے کہا میں ضرور مسیلمہ کے مقابلے میں جائوں گا،شاید میں اسے قتل کرسکوں تو یہ حمزہؓ کے قتل کا بدلہ ہوگا۔چناں چہ وہ اس کے مقابلے میں گئے اور جس طرح انھوں نے حربہ پھینک کر حضرت حمزہؓ کوشہید کیا تھا اسی طرح حربہ پھینک کر مسیلمہ کو قتل کیا۔یہ ہے مختصراًاس واقعہ کی روداد۔کیااسے پڑھ کر بھی کسی کے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگ دلی کا شبہ پیداہوسکتا ہے؟ وحشی نے اسلام قبول کرنے سے پہلے انتہائی ادنیٰ درجے کے کردار کا ثبوت دیاتھا۔ ان کا کردار اس وقت ان انتہائی خود غرض قاتلوں سے مختلف نہ تھا جو کسی سے چند ٹکے لے کر ایسے شخص کو قتل کردیتے ہیں جس سے ان کی کسی طرح کی دشمنی نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی ذاتی غرض کے لیے بڑے سے بڑے اجتماعی نقصان کی پروانہیں کرتے۔انھوں نے ایک ایسے شخص کو دھوکے سے مارگرایا جو اسلامی جماعت کے ستونوں میں سے ایک ستون تھا۔جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق صرف رسول اور امتی ہی کانہ تھا بلکہ نسب اور رشتے کا بھی تھا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی محبت کے ساتھ ایک اور محبت، اسلامی تعلق کے ساتھ ایک اور تعلق موجود تھا او ر وہ مزید محبت نسبی رشتے کی طبعی محبت تھی۔ ایک ایسی شخصیت کے ایسے قاتل کے مقابلے میں آپ نے جس عالی ظرفی کا ثبوت دیا وہ صرف ان لوگوں سے ظہور میں آتی ہے جنہوں نے اپنی تمام محبتوں کو اللہ کی محبت میں گم کردیاہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ان کے آنے کی خبر سنتے ہی فرمایا تھا’’اسے چھوڑدو، کیوں کہ ایک شخص کا اسلام بھی میرے نزدیک ایک ہزار کافر کو قتل کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘
ایک ایسی شخصیت کے قتل کی دل ہلادینے والی داستان سن کر آپ کا صرف اتنا ارشاد کہ کیا تم اپنے آپ کو میری نظروں سے ہٹاسکتے ہو؟پہاڑ جیسے صبر وتحمل کے بغیر ممکن نہیں۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ اوپر کے بیانات میں کہیں یہ بات موجود نہیں ہے کہ آپ نے ہمیشہ کے لیے ان سے اپنی نظروں سے دور رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہو۔ یہ خود حضرت وحشی کی اپنی ندامت تھی جس نے انھیں آپ کے سامنے جانے نہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت وحشی کی پوری زندگی میں کہیں اس کا نشان نہیں ملتا کہ انھوں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جملے یا آپؐ کے کسی رویے کی شکایت کی ہو، بلکہ خود ان کے اپنے بیان سے یہ بات ثابت ہے کہ اس جملے نے ان کو فائدہ پہنچایا۔ اسی کا اثر تھا جو انھیں اسلام کے شدید ترین دشمن کے مقابلے میں لے گیا اور ان کے ہاتھوں اس کے قتل کا کارنامہ انجام پایا--جب خود صاحب معاملہ کو اس جملے میں کوئی تنگ دلی محسوس نہ ہوئی بلکہ انھوں نے اسے اپنی زندگی کےلیے مشعل راہ بنالیا تو ہمیں یا آپ کو آخرکس بنیاد پر تنگ دلی محسوس ہوتی ہے؟
آپ نے لکھا ہے ’’دوسرے صحابہ کے قاتل اور بھی تھے،مگر آپ نے یہ امتیاز کسی قاتل کے ساتھ نہیں برتا۔‘‘
اولاً اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ جملہ قاتل حمزہ کے ساتھ ناروا امتیاز نہ تھا بلکہ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ طبعی غم کا ایک وقتی اظہار تھا جس نے حضرت وحشی کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کی زندگی کارخ بدل دیا۔اکثر وبیشتر ایسا ہوتا رہتاہے کہ جب ہمیں اپنے کسی عزیز سے بھی سخت تکلیف پہنچتی ہے تو ہم وقتی تاثر کے ماتحت کہتےہیں ’’میری نظروں سے اپنا چہرہ ہٹائو، میری نگاہوں سے دورہوجائو۔‘‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم اس سے ترک تعلق کررہے ہیں یا ہمیشہ کے لیے اسے اپنے سے الگ کررہے ہیں بلکہ مقصد صرف اظہاررنج وغم ہوتاہے۔ ثانیاً آپ نے اس پر غورنہیں کیا کہ اس واقعہ کے سوااس طرح کا کوئی دوسرا واقعہ کب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا؟ آخر کس صحابی کے کسی متعین قاتل نے آپ کے سامنے آکر داستان قتل سنائی اور آپ نے اظہار غم نہیں کیا؟ ایسا کوئی دوسرا واقعہ سرےسے گزراہی نہیں ہے۔ اس لیے یہ شبہ بالکل بے اصل ہے۔ اب تک جو باتیں عرض کی گئیں میرا خیال ہے کہ وہی آپ کے شبہات کے ازالے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن میں شبہے کی دوسری وجہ کی طرف بھی محض ایک اشارہ کرتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ کی نگاہوں سے انبیاء کرام کی بشریت اوجھل ہوگئی۔ بشر ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام پر بھی وہ طبعی جذبات غم اور جذبات مسرت طاری ہوتے تھے جو عام انسانوں پرطاری ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم اور آپ اپنے کسی عزیز قریب کی موت یا قتل پر غیر رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ غم والم محسوس کرتے ہیں، اسی طرح انبیاء کرام بھی محسوس کرتے تھے۔ اور جس طرح ہم پراپنے مسلمان رشتہ داروں کے حقوق دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح انبیاء پربھی ان کے حقوق زیادہ ہوتے تھے۔ اس لیے اگر حضورؐ نے حضرت حمزہؓ کی شہادت پرزیادہ تکلیف محسوس کی تو یہ آپ کی بشریت کا ثبوت ہے، اس سے آپ کی شانِ نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا۔
(نومبر ۱۹۶۲ء، ج ۲۹، ش۵)