’خلافت وملوکیت‘ میں ایک حوالہ کی غلطی

بڑودہ اورگجرات کے بعض دوسرے شہروں میں بعض افراد نے ہم لوگوں سے یہ کہا ہے کہ مولانا مودودی نے اپنی کتاب ’خلافت وملوکیت ‘ میں حضرت معاویہؓ کی طرف یہ غلط بات منسوب کی ہے کہ وہ حضر ت علیؓ کو برابھلاکہتے اورگالیاں دیتے تھے اور انھوں نے اپنے گورنروں کو بھی اس کا حکم دیا تھا۔اس کے لیے جو حوالے انھوں نے دیےہیں وہ غلط ہیں۔ مولانا مودودی نے لکھا ہے

’’ایک اورنہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر،خطبوں میں برسرمنبر حضرت علیؓ پر سب وشتم کی بوچھار کرتےتھے حتیٰ کہ مسجد نبوی میں منبر رسول پرعین روضہ نبوی کے سامنے حضورؐ کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علیؓ کی اولاد اوران کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے۔‘‘                                               (ص۱۶۲)

ہم لوگ اعتراض کرنے والے کو جواب نہیں دے سکے۔ مہربانی کرکے اس کا جواب ہمارے پاس بھیج دیجیے۔ بہتر ہوگا کہ ماہ نامہ زندگی میں بھی شائع کردیجیے۔

جواب

افسوس یہ ہے کہ آپ لوگ ماہ نامہ زندگی پابندی سے نہیں پڑھتے۔ مخالفین کے اس اعتراض کا جواب ماہ نامہ زندگی میں شائع ہوچکا ہے۔ ایک تحقیقی مقالہ ’سب علی اور بنی امیہ‘ کے عنوان سے زندگی کی دوقسطوں میں شائع ہواتھا۔ پہلی قسط اکتوبر ۱۹۷۹ء میں اور دوسری قسط فروری ۱۹۸۰ء میں شائع ہوئی تھی۔ میرامشورہ ہے کہ آپ لوگ یہ دونوں شمارہ حاصل کرکے وہ مقالہ ضرور پڑھ لیں۔

حوالہ کی غلطی کا جو الزام ہے اس میں دوباتیں دیکھنے کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بات جو حضرت معاویہؓ کی طرف منسوب کی گئی ہے، تاریخ سے ثابت ہے یا نہیں اور دوسری یہ کہ جو حوالے دیے گئے ہیں وہ صحیح ہیں یا نہیں ؟ پہلی بات کے بارے میں عرض ہے کہ وہ نہ صرف کتب تاریخ سے ثابت ہے بلکہ کتب احادیث سے بھی ثابت ہے۔اپنے مقالہ ’سب علی اور بنی امیہ‘ میں مولانا سیدحامد علی نے لکھا ہے

’’مولانا مودودی نے حضرت معاویہؓ کے بارے میں چند سطروں میں جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت افسوس ناک،مگر معروف ترین واقعہ ہے جس کا ذکر امام ابن جریرکی تاریخ طبری جلد۴، امام ابن کثیر کی البدایۃ والنہایۃ جلد۷و ۸، کامل ابن اثیرج۳،امام ذہبی کی کتاب العبرج۱، ابوالفدا کی تاریخ المختصر فی اخبارالبشرجلد۲،امام ابن حزم اندلسی کی تصنیف جوامع السیرۃ کے ملحقہ رسالہ  اسماء الخلفاء والولاۃ، بلاذری کی انساب الاشراف، امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء، ابن حجر مکی کی تطہیر الجنان، شیخ محمد ابن احمد سفارینی حنبلی کی کتاب لوامع الانوار البہیہ وسواطع الاسرار الاثریہ۔ شاہ عبدالعزیز کے فتاویٰ عزیزیہ، استاذ ابوزہرہ مصری کی تاریخ المذاہب الاسلامیہ جزاول، مولانا اشرف علی تھانوی کی حکایات الاولیاء، علامہ شبلی کی سیرۃ النبی کادیباچہ، مولانا شاہ معین الدین ندوی کی تاریخ اسلام جلددوم اور مولانا عبدالسلام ندوی کی کتاب سیرت عمربن عبدالعزیز میں موجود ہے۔‘‘                                (ماہ نامہ زندگی، اکتوبر۱۹۷۹ء ص۲۵)

ان کتابوں کو شمارکیجیے، یہ تعداد میں ۱۶ہیں۔ مولانا مودودی نے تو صرف تین کتابوں کا حوالہ دیاہے۔ جن کتب احادیث میں اس کا ذکر ہے وہ یہ ہیں ’’صحیح بخاری،باب مناقب علی، فتح الباری باب مناقب علی، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب فضائل علی، جامع ترمذی، سنن ابودائود کتاب السنۃ، باب الخلفاء، سنن ابن ماجۃ ابواب فضائل اصحاب رسول اللہ ﷺ، مسند احمد مرویات ام المومنین ام سلمہ ومرویات سعید بن زید اور مسند ابویعلی، کہیں مجملاًاورکہیں تفصیل سے۔               (ایضاًص۳۶)

غورکیجیے جو بات اتنے مستند حوالوں سے ثابت ہواس کے بارےمیں یہ کہنا کہ مولانا مودودی نے حضرت معاویہؓ کی طرف ایک غلط بات منسوب کردی ہے علمی دھاندلی کی کس قسم میں داخل ہے۔ زندگی کے مقالہ میں بہت سی عبارتیں نقل کی گئی ہیں۔ ہم اس مختصر جواب میں انھیں نقل نہیں کرسکتے۔

دوسری بات یعنی ’خلافت وملوکیت‘ میں جن کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں وہ تین ہیں  تاریخ طبری، تاریخ ابن اثیر، البدایۃ والنہایۃ۔ یہ ضخیم کتابیں ہیں جن کی متعدد جلدیں ہیں۔ اس میں صرف اتنی چوک ہوگئی ہے کہ ان کتابوں کی جس جلد میں صراحت ہےاس کے بجائے کسی دوسری جلد کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ کسی کتاب کی متعدد جلدوں کے حوالہ میں اس طرح کی چوک کوئی نادربات نہیں ہے جس کی بناپر کسی شخص کو اس طرح مطعون کیا جائے کہ جو بات اس نے لکھی ہے وہ بات ہی سرے سے غلط ہے۔ لیکن مولانا مودودی کے مخالفین یہی کام کررہے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کے علم میں نہ ہوتو میں آپ کے علم میں لانا چاہتاہوں کہ یہ کام شاید سب سے پہلے مولانا محمد تقی عثمانی مدیر البلاغ کراچی نے کیا ہے۔انھوں نے ’خلافت وملوکیت ‘کے خلاف البلاغ میں مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیاتھا جو بعد کو کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس کانام ہے ’حضرت معاویہ تاریخ کے آئینہ میں ‘اس سلسلہ مضامین کا جو اب ملک غلام علی نے ترجمان القرآن کی متعدد قسطوں میں دیا تھا جو بعد کو کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس کا نام ہے ’خلافت وملوکیت پراعتراضات کا تجزیہ۔‘ یہ کتاب بھی اگر حاصل ہوجائے تو آپ لوگ اس کا مطالعہ کرلیں۔ اس میں ملک صاحب نے حوالے کی غلطی کا جو جواب دیاہے، وہ یہ ہے 

عثمانی صاحب نے یہاں اورآگے چل کر جس طرح سب علی کے معاملے میں حضرت معاویہؓ کی برأت ثابت کرنے کی سعی کی ہے میں اس کے جواب میں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتاہوں کہ امیر معاویہؓ نے خلیفہ بننے سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی حضرت علیؓ اوراہل بیت النبیﷺ پر سب وشتم کی مہم خود اپنی سرپرستی میں باقاعدہ جاری کی تھی اور یہ بنی امیہ کے دور میں منبروں پر مسلسل جاری رہی، تاآں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اسے مٹایا۔ یہ بات جس طرح تاریخ وحدیث کی کتابوں میں مذکورہے وہ اسے قطعیت وتواتر کا درجہ دےرہی ہے۔ مولانا مودودی کے حوالوں میں کوئی خلایاتشنہ پہلو تلاش کرکے زورآزمائی کے لیے منتخب کرلینے سےحقیقی مسئلہ کالعدم نہیں ہوسکتا۔ مجھے عثمانی صاحب کی شکایت اس حد تک تسلیم ہےکہ جن مقامات کے حوالے مولانا مودودی نے دیے ہیں وہاں یہ بات صراحتاً مذکور نہیں ہے کہ امیر معاویہؓ خودسب وشتم کرتے تھے بلکہ اتنی بات بیان کی گئی ہے کہ گورنروں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی، لیکن انھی کتابوں کے دوسرے مقامات پرامیر معاویہؓ کا اپنا یہی فعل منقول ہے، اس لیے مدیر موصوف اپنے الفاظ کی منظر کشی سے یہ جو تاثر دینا چاہتے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے خود نہ کبھی ایسا کیا، نہ کسی سے کرنے کو کہا، یہ تاثر بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔‘‘

اخیرمیں اتنی بات اورعرض کرنے کو جی چاہتاہے کہ جو لوگ یہ کام کررہے ہیں اس کا محرک حب معاویہؓ نہیں بلکہ بغض مودودی ہے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے مولانا مودودیؒ کی چند سطروں کی توضیح میں اہل علم سے بیسیوں صفحات لکھوائے ہیں اور اب امیرمعاویہؓ اوران کے گورنروں نے سب علی کا جو کارنامہ انجام دیاتھا اس کا ذکر صفحات میں پھیلاہواہے اس کا سبب یہی حب معاویہؓ کے مدعی حضرات ہیں۔ استغفراللہ العظیم الذی لا الٰہ الا ھو۔                      (اکتوبر۱۹۸۴ء ج۱ش۱)