ذِمیوں کے پرسنل لا کاحق

کیا ہندوئوں کا قومی قانون(Personal Law) ہندوئوں پر نافذ ہوگا یا نہیں ؟ میر امدعا یہ ہے کہ ہندو اپنے قانونِ وراثت،مشترکہ فیملی سسٹم اور متبنّٰی وغیرہ بنانے کے قواعد( مطابق منوشاستر) کے مطابق زندگی بسر کریں گے یا نہیں ؟ دوسری دریافت طلب چیز یہ ہے کہ کیا قرآن کے فوج داری اور دیوانی احکام مسلمانوں کی طرح ہندوئوں پر بھی حاوی ہوں گے؟
جواب

جہاں تک ذمیوں کے پرسنل لا کا تعلق ہے وہ ان کی مذہبی آزادی کا ایک لازمی جز ہے۔اس لیے اسلامی حکومت ان کے قوانین نکاح وطلاق اور قوانینِ وراثت وتبنیّت کو، اور ایسے ہی دوسرے تمام قوانین کو جو ملکی قانون(Law of the Land) سے نہ ٹکراتے ہوں ،ان پر جاری کرے گی اور صر ف ان اُمور میں ان کے پرسنل لا کے نفاذ کو برداشت نہ کرے گی جن میں ان کا برا اثر دوسروں پر پڑتا ہو۔مثال کے طور پر اگر کوئی ذمی قوم سود کو جائز رکھتی ہو تو ہم اُس کو اسلامی حکومت میں سودی لین دین کی اجازت نہ دیں گے، کیوں کہ اس سے پورے ملک کی معاشی زندگی متاثر ہوتی ہے، یا مثلاًاگر کوئی ذمی قوم زنا کو جائز رکھتی ہو تو ہم اسے اجازت نہ دیں گے کہ وہ اپنے طور پر بدکاری(prostitution) کاکاروبار جاری رکھ سکے کیوں کہ یہ اخلاقِ انسانی کے مسلمات کے خلاف ہے اور یہ چیز ہمارے قانون تعزیرات (Criminal Law) سے بھی ٹکراتی ہے، جوظاہر ہے کہ ملکی قانون بھی ہوگا۔ اسی پر آپ دوسرے اُمور کو قیاس کرسکتے ہیں ۔ (ترجمان القرآن، جولائی،اکتوبر۱۹۴۴ء)