بنک کاری

میرا اعتراض سود حصہ دوم میں دیے ہوئے بنکنگ(banking) کے تجزیے پر ہے۔صفحہ ۱۲۱ سے صفحہ۱۲۳ تک آپ بنکنگ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح پہلے سناروں نے امانت داروں کا سونا قرض دینا شروع کردیا اور پھر اس طرح اس سونے کے بل پر ۱۰ گنا قرض دینے لگے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس طرح ان لوگوں نے ۹۰ فی صد جعلی روپیا بالکل بے بنیاد کرنسی کی شکل میں بنا ڈالا او رخواہ مخواہ اس کے مالک بن بیٹھے اور سوسائٹی کے سر پر اس کو قرض کے طور پر لاد لاد کر اس پر دس بارہ فی صد سود وصول کرنے لگے۔یہ سنار اس مسلسل جعل سازی سے ملک کی ۹۰ فی صد دولت کے مالک ہوچکے تھے۔ اس پورے تجزیے سے مجھے سراسر اختلاف ہے۔جہاں تک آپ نے بنکنگ کی تاریخ بیان کی ہے، وہاں تک مجھے کوئی اختلاف نہیں ۔میرا اختلاف ان باتوں سے ہے جنھیں میں نے آپ کے الفاظ میں قلم بند کیا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ: ۱۔ وہ سرمایہ جعلی نہیں ۔ ۲۔ بنکر کی ملک نہیں ۔ ۳۔ وہ سوسائٹی پر زبردستی قرض کی صورت میں لادا نہیں گیا۔ ۴۔ بنکر ملک کی۳۰ فیصد دولت کے مالک نہیں بن گئے تھے۔ ۵۔ روپیا تخلیق (create)کرنے کا عمل بنکنگ کی ابتدا ہی میں نہیں ہوا تھا بلکہ روز ہوتا ہے۔ ان باتوں کو ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بنکنگ کی حقیقت کو جس طرح میں نے سمجھا ہے، اُسے بیان کردوں ۔ ایک شخص بنک کھولتا ہے۔اس کے پاس اپنا کوئی سرمایہ نہیں اور نہ ہی کوئی امانت دار اس کے پاس رقم رکھاتا ہے۔چوں کہ بنک صفر سے قائم ہوتا ہے(B=0) اس کے پاس ایک شخصA آتا ہے اور۱۰۰ روپے قرض مانگتا ہے۔ بنک اس کی درخواست کو قبول کرلیتا ہے لیکن نقدی کی صورت میں کچھ بھی نہیں دیتا۔ بلکہ اس کے نام۱۰۰ روپے اپنے کھاتے میں جمع کرلیتا ہے (۱۰۰+A)۔ ابA بازار میں C سے کچھ مال خریدتا ہے اور اسے ۱۰۰ روپوں کا چیک دیتا ہے۔ Cاسے بنک میں جمع کرادیتا ہے۔ بنکA کے کھاتے سے ۱۰۰ روپے گھٹا دیتا ہے (۱۰۰-۱۰۰=۰+A) اور C کے نام جمع کرلیتا ہے (۱۰۰+C)۔ بازار میں ۱۰۰ روپے کی چیزC سےA کے پاس چلی گئی۔ اس کے عوض میں اسٹیٹ بنک کا ایک نوٹ بھی نہ دیا گیا بلکہ Bکے کھاتے میں ۱۰۰روپے کا اندراج کر دیا گیا۔ بنک(B) کے پاس پہلے بھی کوئی رقم نہ تھی اور اب بھی کوئی رقم نہیں ہے۔ ابCمال خریدتا ہے اور Sکو۱۰۰ روپے کا چیک دے دیتا ہے۔ بنکC کے کھاتے سے ۱۰۰ روپے گھٹا دیتا ہے اورS کے نام جمع کردیتا ہے۔ غرض یہ کہ اسی طرح تجارت کا چکر چلتا رہتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بنکر کے پاس اپنا کچھ نہیں تھا۔ لیکن اس نے پھر بھی۱۰۰ روپے کا قرض دے دیا اور بنک کا قرض بازارمیں کرنسی نوٹوں کی طرح چل رہا ہے۔ اسی رقم سے اسی طرح خرید وفروخت ہورہی ہے جس طرح عام نوٹوں سے ہوتی ہے اور بنک صفر سرمایے سے کام شروع کرنے کے باوجود۱۰۰ روپے سود کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ پکار اٹھتے ہیں کہ بنکر جعل ساز ہے۔ اس نے خود ہی جعلی روپیا بنایا اور اس کا مالک بن کر اسے سوسائٹی پر قرض کی صورت میں لاد دیا۔ اس طرح اتنی ملکی دولت ا س کے قبضے میں چلی گئی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ احتجاج صحیح ہے؟ میں نے بنکر صفر سرماے سے اس لیے شروع کیا ہے کہ آپ کے الزامات کی سنگینی پوری شدت سے ابھر آئے اور روپے بنانے میں ۱۰:۱ کے تناسب کی قید بھی حائل نہ ہو۔ پوری پوری رقم ایک شخص سے دوسرے شخص کے نام تبدیل کرنے میں حسابی سہولت مقصود ہے۔ ہماری مثال میں اب صورت حال یہ ہے کہ بنک کے پاس ایک دھیلا بھی نہیں لیکن بنک کو Aسے ۱۰۰ روپے ملنے ہیں ، کیوں کہ یہ رقم اس نے بنک سے قرض لی تھی۔ اس رقم کے علاوہ بنک کو سود بھی ملنا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ بنک کے کھاتے میں s کے نام ۱۰۰روپے جمع ہیں ۔ یعنی بنک نے Sکو ۱۰۰ روپے دینے ہیں ۔ یعنی بنک کو اگر ایک طرف سے سود+۱۰۰ ملنا ہے تو دوسری طرف اس کے ذمے۱۰۰ روپے واجب الادا بھی ہیں ۔ اب پوری بات صاف ہوجاتی ہے: ۱۔ وہ رقم جو بنک نے پیدا کی تھی وہ بنک کی ملک نہیں ہے۔وہ بچانے والے(S) کی ملک ہے، بنک صرف سود کی رقم کا مالک ہے۔ ۲۔ لہٰذا بنک نے کوئی جعلی سرمایہ نہیں بنایا۔اس نے صرف بچانے والے کی رقم کو ادھار پر لگایا ہے۔ ۳۔ بنک سوسائٹی کی ۹۰ فی صد دولت کا مالک نہیں بن رہا۔ ۴۔ بنک سوسائٹی کے سرپر زبردستی کوئی قرض نہیں لاد رہا،دولت بچانے والا جس دن چاہے،اس چکر کو بند کرسکتا ہے۔Aنے بنک سے نقد اپنے۱۰۰ روپے کا مطالبہ کردیا۔بنک نے A سے کہا کہ میرا دیا ہوا قرض واپس دو۔A نے ۱۰۰+سود واپس کردیا۔بنک نے Sکو ۱۰۰روپے دے دیے اور سود کا کچھ حصہ خود رکھ لیا،کچھSکو دے دیا۔ اب بنک پھر خالی ہے۔ نہ اس کا کسی پر قرض ہے اور نہ ہی اس کے ذمے کوئی قرض ہے۔ اگر بنک جعلی روپیا بناسکتے تو وہ کبھی فیل نہ ہوتے۔فیل وہ ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جعلی روپیا نہیں بنا سکتے۔ امانت دار اپنے روپے طلب کرتے ہیں اور بنک بعض اوقات فوری طور پر اپنے قرض واپس نہیں لے پاتا۔امانت دار فوری نقدی طلب کرتے ہیں ۔اس لیے امانت داروں کے تقاضے بنک پورے کرنے سے عاجز ہوجاتے ہیں اور لال بتی جلا دیتے ہیں ۔ آپ کی تحریر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ساہو کاروں نے اپنی ترقی کے ابتدائی دو رمیں ایک کے دس بناے تھے،اب وہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔ روز ہر بنک ایک روپے کے بل پر دس روپے قرض دیتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بنک قرض اپنے نوٹوں کی شکل میں دیتے تھے،اب چیک کی صورت میں دیتے ہیں ۔لیکن نوٹ اور چیک دونوں کی ماہیت اور دونوں کیtheory ایک ہی ہے۔ دونوں بنک کے ذمہ واجب الادا رقوم کے ثبوت ہیں ۔چوں کہ تخلیق زر (creation of money) کے طریقے سے آپ بخوبی واقف ہیں ، اس لیے اسے دہرانا بے کار ہے۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میر ی کم سمجھی کی بنا پر یا آپ کی عبارت کی ساخت کی بناپر مجھے یہ خیال گزرا۔آپ اس عمل کو بنکنگ کی تاریخ کا ایک پرانا باب سمجھتے ہیں ۔کیا میرا یہ خیال صحیح ہے؟
جواب
بنکنگ کے سلسلے میں ،میں نے جو کچھ لکھا ہے،اس میں پہلے جدید بنکنگ کی ابتد ا بتائی گئی ہے اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ رفتہ رفتہ نشو ونما پاکر اب یہ کاروبار کس طرح چل رہا ہے۔اس میں میرے پیش نظر بجاے خود بنکنگ پر فنی بحث کرنا نہیں ہے، بلکہ دراصل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سسٹم میں قباحت کا پہلو کیا ہے اور اس قباحت کے پہلو کو اس سے خارج کرکے وہ اصل ضرورت کیسے پوری کی جاسکتی ہے جس کے لیے ایک بنکنگ سسٹم درکار ہے۔اسی لیے میں زیادہ تفصیلی بحثوں میں نہیں گیا ہوں ۔ آپ نے اپنا اعتراض اٹھاتے وقت اس بات کا لحاظ نہیں رکھا کہ میں نے بنکنگ کی پیدائش اور نشو ونما کو تین مرحلوں میں بیان کیا ہے اور آپ نے ساری بحث کو ایک ہی مرحلہ بنا کر وہ باتیں جو ابتدائی دور سے متعلق تھیں ،موجودہ صورت حال کے متعلق سمجھ لی ہیں ۔نیز موجودہ صورت حال کو بھی آپ ایک مجرد مفروضے کی صورت میں پیش کررہے ہیں ،حالاں کہ میں تیسرے مرحلے کے عنوان سے جو بحث کررہا ہوں ،وہ بنکوں کے اس عملی طریق کار سے تعلق رکھتی ہے جس پر اب فی الواقع کام چل رہا ہے۔آپ کے پاس اگر کتاب وہاں موجود ہو تو میری ساری بحث کو اس تقسیم کے مطابق پڑھیں جس طرح میں نے اپنے ذیلی عنوانات قائم کرکے کی ہے۔پھر آپ کو یہ محسوس ہوجائے گا کہ اس پر وہ اعتراض نہیں اٹھتے جو آپ نے اٹھائے ہیں ۔آپ کا یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ میں تخلیق زر(creation of money) کو بنکنگ کی تاریخ کا محض ایک پرانا باب سمجھ رہا ہوں ۔میں جانتا ہوں کہ یہ عمل ابھی جاری ہے۔لیکن میں نے تیسرے مرحلے کی بحث میں اس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ جس مدعا کی خاطر میں ساری بحث کررہا ہوں ،اس سے یہ چیز براہِ راست متعلق نہیں ہے۔ جیسا کہ میں اوپر اشارہ کرچکا ہوں ،میری بحث کا مقصد بنکنگ پر فنی گفتگو نہیں ہے، بلکہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے نقصان دہ پہلوئوں کو واضح کرکے اصلاح کی شکل پیش کرنا ہے۔ (ترجمان القرآن، جون ۱۹۵۷ء)

Leave a Comment