بولی کی ناجائز صورتیں

مسلمان نیلام کنندہ کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ جب کوئی شخص بولی نہ چڑھائے اور وہ دیکھے کہ اس میں مجھے نقصان ہوگا تو وہ خود بولی دے کر مال کو اپنے قبضے میں یہ کہہ کر رکھ لے کہ یہ مال پھر دوسرے وقت میں نیلا م ہوگا؟نیزکیا وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ اپنے آدمی مقرر کردے کہ وہ قیمت بڑھانے کے لیے بولی بولتے رہیں ،یہاں تک کہ اس کے حسب منشا مال کی قیمت موصول ہوسکے؟
جواب
نیلام کرنے والے کے لیے یہ تو درست ہے کہ اگر کسی مال پر اتنی بولی نہیں آتی جس پر اپنا مال بیچنے کے لیے صاحب مال راضی ہو، تو وہ فروخت نہ کرے۔لیکن اس کے لیے دھوکے اور فریب سے کام لینامناسب نہیں ہے۔ اس کو کھلے بندوں یہ بات ظاہر کردینی چاہیے کہ دوسرے لوگوں کا جو مال وہ نیلام کے ذریعے سے فروخت کررہا ہے،یا خود اپنا خریدکیا ہوا جو مال وہ اس طریقے سے نکا ل رہا ہے،اس پر اگر کم سے کم مطلوبہ قیمت کی حد تک بولی نہ آئی تو وہ اس چیز کو فروخت نہ کرے گا۔ خریداروں میں اپنے آدمی بٹھا کر ان سے بولی دلوانا یا خود خریدار بن کر بولی دینا فریب ہے۔ (ترجمان القرآن، جنوری،فروری ۱۹۵۱ء)

Leave a Comment