حضرت سلیمان ؈ کے مردہ جسم کاعصا کے سہارے کھڑا رہنا

سورہ سبا آیت۱۴، ح۲۴، صفحہ۱۹۰۔ حضرت سلیمانؑ کا مردہ جسم عصا کے سہارے اتنی مدت کھڑا رہا کہ گُھن نے عصا کو کمزور کر دیا اور جِنّوں کو (اور یقینا انسانوں کو بھی) ان کے انتقال کا علم نہ ہوا… یہ بات بعید ازقیاس ہے اور قرآن اسے کسی معجزے کے طور پر پیش نہیں کر رہا ہے… کیا جنّوں (اور دیگر عمائدِ سلطنت) میں اتنی عقل بھی نہ تھی کہ حضرت سلیمانؑ جو بولتے چالتے، کھاتے پیتے، مقدمات کے فیصلے سناتے، فریادیں سنتے، احکام جاری کرتے، عبادت کرتے، حاجات سے فارغ ہوتے تھے اتنی دیر (بلکہ مدت) سے ساکت وصامت کیوں کھڑے ہیں ؟ کیا زندگی کے ثبوت کے لیے صرف کھڑا رہنا کافی ہے؟ اور پھر آپ کے اہل و عیال؟ کیا انھیں بھی انتقال کا پتا نہیں چلا (جو ناممکن ہے) یا انھی نے یہ ایک ترکیب نکالی تھی؟ مفسر محترم نے جس بات کو صاف اور صریح فرمایا ہے وہ خود ایک پہیلی ہے۔
جواب
قرآن مجید میں جو بات جس طرح لکھی گئی ہے میں نے اسی طرح اس کو بیان کر دیا ہے۔ اس پر جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں ان کا جواب قرآن مجید میں موجود نہیں ہے اور میں اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر قرآن مجید میں داخل نہیں کرسکتا۔ (ترجمان القرآن، جنوری۱۹۷۶ء)

Leave a Comment