خلافت کے لیے قریشیت کی شرط کی حقیقت

یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی ﷺ کے اس فیصلے سے مساوات کا اصول نہیں ٹوٹتا کیونکہ اسلام میں مساوات کا اصول مطلق نہیں ہے بلکہ اہلیت و قابلیت کی شرط سے مقیّد ہے اور یہ شرط اصولِ مساوات کی ضد نہیں ہے۔ مساوات کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہر شخص بلالحاظِ اہلیت و صلاحیت ہر منصب کا مستحق ہو۔ اب چونکہ خلافت کے لیے اہلیت کی دوسری صفات کے ساتھ ساتھ سیاسی زورواثر بھی ایک ضروری صفت ہے۔ اور اس وقت یہ سیاسی زورواثر قریش ہی کو حاصل تھا، اس لیے انصار کے مقابلے میں ان کے استحقاقِ خلافت کو جو ترجیح دی گئی وہ اہلیت ہی کی بنا پر دی گئی۔ اس استدلال کی بنا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے اصول مساوات نہیں ٹوٹتا۔ کیا یہ استدلال صحیح ہے؟
جواب

یہ بات سمجھنے کے لیے کسی بڑی عقل و خرد کی ضرورت نہیں ہے کہ ’’اہلیت و قابلیت‘‘ کا اطلاق صرف انھی اوصاف پر ہوتا ہے جو ہر شخص کو حاصل ہونا ممکن ہوں ‘ نہ کہ کسی ایسے وصف پر جو کسی شخص کو اس وقت تک نصیب نہ ہو سکے جب تک وہ کسی خاص قبیلے، خاندان، وطن یا رنگ و نسل میں پیدا نہ ہو۔ اصولِ مساوات کے ساتھ اگر مطابقت رکھتی ہے تو صرف پہلی قسم کے اوصاف کی شرط ہی رکھتی ہے۔ رہا دوسرا وصف تو چاہے آپ کھینچ تان کر اس پر بھی ’’اہلیت و قابلیت‘‘ کی اصطلاح استعمال کر ڈالیں ، لیکن اس نوع کی ’’اہلیت‘‘ کو کسی منصب کے قابل ہونے کے لیے شرط قرار دے دینا اصولِ مساوات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کہیں کہ پاکستان کے باشندوں میں سے جو شخص بھی عمدہ قانونی قابلیت رکھتا ہو وہ جج بناے جانے کا اہل ہے تو یہ بات حقوق میں تمام پاکستانیوں کی مساوات کے اصول سے پوری طرح مطابق ہو گی۔ لیکن اگر آپ مثلاً یہ کہیں کہ صرف ایک قانون دان جاٹ ہی پاکستان میں جج بن سکتا ہے تو اسے کوئی صاحب عقل آدمی اصولِ مساوات سے مطابق نہیں مانے گا۔ اس پر آپ خواہ کتنی ہی منطق بگھاریں کہ عدالت کے لیے قانونی دھاک کی ضرورت ہے اور یہاں مدتوں سے جاٹوں ہی کی قانونی دھاک بیٹھی ہوئی ہے اس لیے جاٹ ہونا بھی قابلیت ہی کا ایک حصّہ ہے، مگر آپ کی کوئی سخن سازی بھی کسی سیدھی سادھی عقل کے آدمی کو اس بات پر مطمئن نہ کر سکے گی کہ اس خاص قسم کی ’’قابلیت‘‘ کو عدالتی مناصب کے لیے شرط ٹھیرانے پر بھی اس معاملے میں تمام پاکستانیوں کی مساوات کا اصول قائم رہتا ہے۔ وہ کہے گا کہ اگر آپ اپنے ہاں کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں تو صاف کہیے کہ ہم بربناے مصلحت ایسا کر رہے ہیں ، آخر یہ خواہ مخواہ محض زبان کے زور سے آپ اصولِ مساوات کے گول سوراخ میں اس نئے تصوّرِ اہلیت کی چوکھونٹی میخ کیوں ٹھونک رہے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت اپنی کسی بات کی صحت و صداقت ثابت کرنے کے لیے اس طرح کی لاطائل سخن سازیوں کی محتاج نہیں ہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ اسلام اپنے نظامِ زندگی میں بلا امتیاز نسل و وطن و رنگ تمام مسلمانوں کو برابر کے حقوق دینے کا قائل ہے۔ اس میں ہر شخص ہر منصب کا اہل ہے جب کہ وہ اس کی صلاحیت رکھتا ہو‘ خواہ وہ کالا ہو یا گورا، عربی ہو یا عجمی، سامی ہو یا حامی خلافت کے سوا باقی تمام مناصب کے معاملے میں یہ اصول اوّل روز ہی سے اسلام میں عملاً قائم کر دیا گیا تھا۔ اور خود خلافت کے معاملے میں بھی اسلام کا مطمح نظر یہی تھا کہ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبْشِیٌّ۔({ FR 2238 }) ’’سنو اور مانو خواہ تمھارے اوپر ایک حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔‘‘ لیکن اس خاص منصب کے لیے اس وقت جس وجہ سے قریشیت کی شرط لگائی گئی وہ یہ تھی کہ خلافت اسلامیہ کے لیے عربوں ہی کو ایک طویل مدت تک ریڑھ کی ہڈی کا کام دینا تھا اور عربوں کے اندر سے قبائلی عصبیتیں اس حد تک عملاً نہیں نکل سکی تھیں کہ کوئی مسلمان بھی خلیفہ بنا دیا جاتا تو وہ اس کی قیادت میں پوری طرح مجتمع ہو کر کام کر سکتے، اس لیے ایک ایسے قبیلے کو خلافت کا علم بردار بنا دینا مناسب سمجھا گیا جس کی قیادت ایک مدت دراز سے عرب میں مسلّم چلی آرہی تھی، جس کی سربراہی عربوں کو متحد رکھ سکتی تھی اور جس کی طاقت انحراف کرنے والوں کو دبا سکتی تھی۔ یہ وہ مصلحت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے متعدد ارشادات میں واضح فرمائی ہے۔ مسند احمد میں سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے صحابہ کی بھری مجلس میں حضرت سعد بن عُبادہ کو خطاب کرکے فرمایا:
وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ صَدَقْتَ ({ FR 2239 }) ’’اے سعد تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا تھا اور تم اس وقت بیٹھے تھے جب حضورؐ نے یہ فرمایا کہ قریش اس قیادت کے متولی ہیں ۔ نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور بد ان کے بدوں کی۔ سعد نے کہا آپ سچ کہتے ہیں ۔‘‘
پھر اسی تقریر میں حضرت ابوبکرؓ نے کہا:
وَلَمْ تَعْرِفْ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ({ FR 2240 }) ’’اور عرب اس قبیلہ قریش کے سوا کسی اور کی قیادت کو نہیں جانتے۔‘‘
اسی مسند میں سیدنا علی ؓ کی روایت ہے کہ
سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ({ FR 2241 }) ’’میرے ان دونوں کانوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے کہ لوگ قریش کے پیچھے چلنے والے ہیں ، ان کے صالح قریش کے صالحوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے اشرار قریش کے اشرار کی۔‘‘
اسی مضمون کی روایات مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ اور جابر بن عبداللہ سے بھی منقول ہوئی ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبیﷺ نے جس بنا پر قریش کے لیے خلافت مخصوص کرنے کی ہدایت فرمائی وہ یہ تھی کہ عرب میں ان کا اثرو اقتدار پہلے سے قائم چلا آ رہا تھا۔ اصولِ مساوات قائم کرنے کے لیے اگر اس وقت خلافت کا منصب ہر عربی و عجمی مسلمان کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا اور کسی غیر قریشی عرب یا عجمی مسلمان یا غلام زادے کو خلیفہ منتخب کر لیا جاتا تو نہ صرف یہ کہ عرب قبائل اس کے قابو میں نہ رہتے بلکہ خود قریش کے اندر جو برے لوگ تھے ان کو بھی سر اٹھانے کا موقع مل جاتا اور قریش کی طاقت کا بڑا حصّہ خلافت اسلامیہ کی مزاحمت میں صرف ہوتا۔ اس طرح یہ خطرہ تھا کہ سرے سے وہ اسلامی نظام ہی مستحکم نہ ہو سکتا جس کے بے شمار اصولِ خیر میں سے صرف ایک یہ اصولِ مساوات تھا۔ اس لیے حضورﷺ نے اولیٰ اور انسب یہی سمجھا کہ ان حالات میں قریش کے صالحین کو کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ اس قبیلے کی طاقت اسلامی خلافت کی مزاحم بننے کے بجاے اس کی پشت پناہ بنے۔ اس صورت میں یہ غالب توقع تھی کہ اسلامی نظامِ زندگی غالب اور مستحکم ہو کر رہے گا۔ اور جب وہ پوری طرح نافذ و مستحکم ہو گا تو جہاں اور بے شمار بھلائیاں قائم ہوں گی وہیں ایک روز خلافت کے معاملے میں بھی اصولِ مساوات قائم کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا ہو جائیں گے[...] یہ ہے صحیح توجیہ حضورﷺ کے اس فیصلے کی۔
(ترجمان القرآن، جولائی۱۹۵۹ئ)