دجّال کا ظہور

ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ’’کانے دجّال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے،تو آخر وہ کون سی جگہ ہے؟آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے‘ پھر کیوں کانے دجّال کا پتا نہیں چلتا؟‘‘ ]سوال نمبر۳۳۹ [ اس کاجواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجّال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے،کم ازکم تیس روایات میں دجّال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری، مسلم، ابودائود، ترمذی،شرح السنہ، بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟
جواب
میں نے جس چیز کو افسانہ قرار دیا ہے وہ یہ خیال ہے کہ دجّال کہیں مقید ہے۔باقی رہا یہ امر کہ ایک بڑا فتنہ پرور(الدجّال) ظاہر ہونے والا ہے، تو اس کے متعلق احادیث میں جو خبر دی گئی ہے،میں اس کا قائل ہوں اور ہمیشہ اپنی نماز میں وہ دعاے ما ٔثورہ پڑھا کرتا ہوں جس میں من جملہ دوسرے تعوذات کے ایک یہ بھی ہے کہ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔({ FR 1929 }) دجّال کے متعلق جتنی احادیث نبی ﷺ سے مروی ہیں ،ان کے مضمون پر مجموعی نظر ڈالنے سے یہ بات صاف واضح ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ کو اﷲ کی طرف سے اس معاملے میں جو علم ملا تھا وہ صرف اس حد تک تھا کہ ایک بڑا دجّال ظاہر ہونے والا ہے، اس کی یہ اور یہ صفات ہوں گی اور وہ ان ان خصوصیات کا حامل ہوگا۔لیکن یہ آپؐ کونہیں بتایا گیا کہ وہ کب ظاہر ہوگا،کہاں ظاہر ہوگا، اور یہ کہ آیا وہ آپؐ کے عہد میں پیدا ہوچکا ہے یاآپؐ کے بعد کسی بعید زمانے میں پیدا ہونے والا ہے۔ ان امور کے متعلق جو مختلف باتیں حضورﷺسے احادیث میں منقول ہیں ،ان کا اختلاف مضمون خود بھی یہ ظاہر کرتا ہے اور حضورؐکے طرزِ کلام سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ وہ آپؐ نے بربناے وحی نہیں بلکہ بربناے ظن وقیاس ارشاد فرمائی ہیں ۔ کبھی آپؐ نے یہ خیال ظاہرفرمایا کہ دجّال خراسان سے اُٹھے گا،کبھی یہ کہ اصفہان سے، اورکبھی یہ کہ شام وعراق کے درمیانی علاقے سے۔پھر کبھی آپؐ نے ابنِ صیاد نامی اس یہودی بچے پر جو مدینہ میں (غالباً ۲ یا۳ ہجری میں ) پیدا ہوا تھا،یہ شبہہ کیا کہ شاید یہی دجّال ہو، اور آخری روایت یہ ہے کہ ۹ ہجری میں جب فلسطین کے ایک عیسائی راہب(تمیم داریؓ) نے آکر اسلام قبو ل کیا اورآپﷺ کو یہ قصّہ سنایا کہ ایک مرتبہ وہ سمندر میں (غالباً بحرِ روم یا بحرِ عرب میں )سفر کرتے ہوئے ایک غیر آباد جزیرے میں پہنچے اور وہاں ان کی ملاقات ایک عجیب شخص سے ہوئی اور اس نے انھیں بتایا کہ وہ خود ہی دجّال ہے،توآپؐ نے ان کے بیان کو بھی غلط باور کرنے کی کوئی وجہ نہ سمجھی، البتہ اس پر اپنے شک کا اظہار فرمایا کہ اس بیان کی رو سے دجّال بحرِ روم یا بحرِعرب میں ہے، مگر میں خیال کرتا ہوں کہ وہ مشرق سے ظاہر ہوگا۔ ان مختلف روایات پرجو شخص بھی مجموعی نظر ڈالے گا،وہ اگرعلمِ حدیث اور اصولِ دین سے کچھ بھی واقف ہو تو اسے یہ سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ اس معاملے میں حضورﷺ کے ارشادات دواجزا پر مشتمل ہیں : جزوِ اوّل یہ کہ دجّال آئے گا،ان صفات کا حامل ہوگا اور یہ فتنے برپا کرے گا۔یہ بالکل یقینی خبریں ہیں جوآپؐ نے اﷲ کی طرف سے دی ہیں ۔ان میں کوئی روایت دوسری روایت سے مختلف نہیں ہے۔ جزوِ دوم یہ کہ دجّال کب اور کہاں ظاہر ہوگا اور وہ کون شخص ہے، اس میں نہ صرف یہ کہ روایات مختلف ہیں بلکہ اکثر روایات میں شک اور شبہہ اور گمان پر دلالت کرنے والے الفاظ بھی مروی ہیں ۔مثلاً ابنِ صیاد کے متعلق آپﷺ کا حضرت عمرؓ سے یہ فرمانا کہ’’اگر دجّال یہی ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو۔اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمھیں ایک معاہدکو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ یامثلاً ایک حدیث میں آپؐ کا یہ ارشادکہ’’اگر وہ میری زندگی میں آگیا تو میں حجت سے اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ میرے بعد میرا ربّ تو ہر مومن کاحامی وناصر ہے ہی۔‘‘ اس دوسرے جز کی دینی اور اصولی حیثیت ظاہر ہے کہ وہ نہیں ہے اور نہیں ہوسکتی جو پہلے جز کی ہے۔ جو شخص اس کی بھی تمام تفصیلات کو اسلامی عقائد میں شمار کرتا ہے،وہ غلطی کرتا ہے۔ بلکہ اس کے ہر حصے کی صحت کا دعویٰ کرنا بھی درست نہیں ہے۔ابن صیاد پرآپﷺ کو شبہہ ہوا تھا کہ شاید وہی دجّال ہو، اور حضرت عمرؓ نے تو قسم بھی کھالی تھی کہ یہی دجّال ہے،مگر بعد میں وہ مسلمان ہوا،حرمین میں رہا،حالت اسلام میں مرا اور اس کی نمازِجنازہ مسلمانوں نے پڑھی۔اب اس کی کیا گنجائش باقی رہ گئی کہ آج تک ابن صیاد پر دجّال ہونے کا شبہہ کیا جاتا رہے؟ تمیم داریؓ کے بیان کو حضورؐ نے اس وقت تقریباًصحیح سمجھا تھا، مگر کیا ساڑھے تیرہ سو برس تک بھی اس شخص کا ظاہر نہ ہونا جسے حضرت تمیمؓ نے جزیرے میں محبوس دیکھا تھا،یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس نے اپنے دجّال ہونے کی جو خبر حضرت تمیمؓ کو دی تھی،وہ صحیح نہ تھی؟حضورﷺ کو اپنے زمانے میں یہ اندیشہ تھا کہ شاید دجّال آپؐ کے عہد ہی میں ظاہر ہوجائے یاآپؐ کے بعد کسی قریبی زمانے میں ظاہر ہو، لیکن کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ساڑھے تیرہ سو برس گزر چکے ہیں اور ابھی تک دجّال نہیں آیا ہے؟اب ان چیزوں کو اس طرح نقل وروایت کیے جانا کہ گویا یہ بھی اسلامی عقائد ہیں ،نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی ہے اور نہ اسے حدیث ہی کا صحیح فہم کہا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں ،اس قسم کے معاملات میں اگر کوئی بات نبی کے قیاس یا گمان یا اندیشے کے مطابق ظاہر نہ ہو تو یہ اس کے منصب نبوت میں ہرگز قادح نہیں ہے،نہ اس سے عصمت انبیا کے عقیدے پر کوئی حرف آتا ہے اورنہ ایسی چیزوں پر ایمان لانے کے لیے شریعت نے ہم کو مکلف کیا ہے۔اس اصولی حقیقت کو تابیرنخل والی حدیث میں نبی ﷺ خود واضح فرما چکے ہیں ۔ (ترجمان القرآن ، فروری۱۹۴۶ء)

Leave a Comment