شراب والی دعوتوں میں شرکت

یہاں ({ FR 1481 }) پر دعوتوں اور پارٹیوں میں شراب کا استعما ل عام طورپر ہوتا ہے۔ایسی صورت میں ان دعوتوں میں شرکت کرنا چاہیے یا نہیں ؟ اب تک میراطرزِ عمل یہ رہا ہے کہ ایسی جگہوں پر ضرور شرکت کرتا ہوں اور شراب اور دوسری اس قسم کی چیزوں سے انکار کردیتا ہوں تاکہ کم ازکم ان کو یہ احساس تو ہوجائے کہ بعض لوگوں کو ہماری یہ مرغوب غذا ناپسند ہے۔
جواب
دوسروں کی طرف سے اگر آپ کو دعوت دی جائے تو اس میں ضرور شرکت کریں ۔کیوں کہ اس کے بغیر آپ ان کی اصلاح کے لیے ان سے گھل مل نہ سکیں گے۔اس نیت کے ساتھ اگر آپ ایسی محفلوں میں شریک ہوں جہاں لوگ شراب پیتے ہوں تو اُمید ہے کہ اﷲ کے ہاں مؤاخذہ نہ ہو گا۔ آپ ان کی مجلسوں میں شریک ہوکر علانیہ نہ صرف یہ کہ شراب پینے سے پرہیز کریں بلکہ کھلم کھلا اس پرہیز کے معقول وجوہ ہر پوچھنے والے کو ایسے طریقے سے سمجھائیں کہ اسے ناگوار خاطر نہ ہو۔شرابیوں کی محفل میں ان لوگوں کی شرکت تو بلا شبہہ مضر ہے جو شراب نہ پینے پر شرماتے ہوں ، لیکن ان لوگوں کی شرکت بہت مفید ہے جو دھڑلے کے ساتھ شراب نوشی سے انکار کریں اور دلیل کی طاقت سے شراب پینے کی برائی وہیں اسی محفل میں ان لوگوں کو سمجھانے پر آمادہ ہوجائیں جو ان سے شراب نہ پینے کے وجوہ دریافت کریں ۔ یہ تو بہترین تبلیغ ہے جس پر میں خدا سے اجر کی توقع رکھتا ہوں ۔ (ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۶۰ء)

Leave a Comment