غلامی کو قطعاً ممنوع نہ کرنے کی وجہ

غلامی سے متعلق اسلام میں ضوابط ایسے مقرر کیے گئے ہیں جن سے شبہہ ہوتا ہے کہ اس ادارے کو مستقل طور پر باقی رکھنا مقصود ہے،مگر دوسری طرف ایسے احکام بھی موجود ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز نہیں سمجھا گیا تھا،بلکہ غلاموں کی رہائی اور آزادی ہی محبوب ومرغوب تھی۔سوال یہ ہے کہ جب غلامی مکروہ اور آزادی مرغوب تھی تو اس طریقے کو قطعاً ممنوع کیوں نہیں کردیا گیا؟
جواب
غلامی کے بارے میں آپ نے جو سوال کیا ہے،اس کا جواب آپ کو بآسانی مل جاتا اگر آپ’’تفہیمات حصہ دوم({ FR 1056 }) اور’’رسائل ومسائل ‘‘({ FR 1057 }) میں میری تصریحات ملاحظہ فرمالیتے۔غلامی کو بالکل موقوف نہ کردینے کی وجہ یہ ہے کہ اسلا م نے اسے محض ایک جنگی ضرورت کی حیثیت سے باقی رکھا ہے،اور یہ ضرورت ہر ایسے موقع پر پیش آسکتی ہے جب کہ ہمارا کسی دشمن سے اسیران جنگ کے مبادلے یا فدیے پر معاہدہ نہ ہوسکے اور ہماری حکومت جنگی قیدیوں کو بلا فدیہ و بلا مبادلہ چھوڑ دینا ملکی مصالح کے خلاف سمجھے۔شاذ مواقع سے قطع نظر کرکے دیکھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں اٹھارویں صدی عیسوی کے اختتام تک اسیران جنگ کے مبادلے کا طریقہ رائج نہ تھا،نہ اس امر کا کوئی امکان تھا کہ مسلمان حکومتیں دشمن کے جنگی قیدیوں کو چھوڑ کر اپنے جنگی قیدیوں کو بھی چھڑا سکتیں ۔ اور اب اگر دنیا میں مبادلۂ اسیران جنگ کا طریقہ رائج ہوا ہے تووہ کسی مذہبی حکم کی بِنا پر نہیں بلکہ ایک مصلحت کی بنا پر ہے جسے کوئی قوم جب چاہے نظر انداز کرسکتی ہے۔آج یہ ناممکن نہیں ہے کہ ہمارا کسی ایسے ہٹ دھرم دشمن سے سابقہ پیش آجائے جو مبادلہ اسیران جنگ کی تجویز کو ٹھکرا دے اور ہمارے جنگی قیدیوں کو کسی شرط پر بھی چھوڑنے کے لیے راضی نہ ہو۔اب آپ خود سوچیں کہ اگر اسلام ہمیں بہرحال جنگی قیدیوں کی رہائی کا پابند کردیتا توکیا یہ حکم ہمارے لیے وجہ مصیبت نہ بن جاتا؟ کیا کوئی قوم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس نقصان کی متحمل ہوسکتی ہے کہ ہر لڑائی میں اس کے آدمی دشمن کے پاس قید ہوتے رہیں اور وہ دشمن کے آدمیوں کو چھوڑتی چلی جائے؟اور کیا کوئی دشمن بھی ایسا بے وقوف ہوسکتا ہے کہ وہ ہم سے کبھی اسیران جنگ کے مبادلے کا معاہد ہ کرنے پر آمادہ ہو جب کہ اسے یہ اطمینان ہو کہ ہم بہرحال اپنے مذہبی احکام کی بنا پر اس کے آدمیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں ؟ اس سلسلے میں ایک سوال پر اور بھی غو رکرلیجیے۔کسی شخص کو عمر بھر جیل میں رکھنا یا اس سے جبری محنت لینا اور اسے موجودہ دور کے انسانی باڑوں (camps) میں رکھنا آخر کس دلیل کی بنا پر غلامی سے بہتر سمجھا جاسکتا ہے؟غلامی میں تو نسبتاً اس سے زیادہ آزادی حاصل رہتی ہے۔آدمی کو شادی بیاہ کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ایک آدمی کو براہِ راست ایک آدمی سے واسطہ پڑتا ہے جس میں زیادہ انسانی سلوک کا امکان ہے۔ اور ایک غلام اپنے آقا کو خوش کرکے یا اُسے فدیہ دے کر آزادی بھی حاصل کرسکتا ہے۔پہلے ذرا اس سلوک کا مطالعہ کرلیجیے جو روس اورجرمنی میں دشمن کے جنگی قیدیوں ہی کے ساتھ نہیں ،خود اپنے ملک کے سیاسی’’مجرمین‘‘ کے ساتھ بھی کیا گیا ہے اور کیا جارہا ہے۔ پھر فیصلہ کیجیے کہ اگر کبھی کسی ایسے دشمن سے ہمیں سابقہ پیش آجائے اور وہ ہمارے جنگی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک کرنے لگے تو کیا اس کے جواب میں ہم کو بھی یہی وحشیا نہ سلوک کرنا چاہیے؟یا اس سے بہتر اور زیادہ مبنی بر انسانیت سلوک وہ ہے جو اسلام نے ہم کو غلاموں کے ساتھ کرنے کی اجازت اور ہدایت دی ہے۔ (ترجمان القرآن،جون،جولائی۱۹۵۲ء)

Leave a Comment