فنِ طب میں مسلم اَطِبَّا کی خدمات

مسلم اَطِبَّانے طب کو اسلام کا پابند بنانے کے سلسلے میں کیا خدمات سرانجام دی ہیں ؟
جواب
مسلم حکما نے فن طب کو کس طرح مسلما ن بنایا تھا،اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو تو کوئی صاحب علم طبیب ہی کرسکتا ہے۔میں اس کے متعلق صرف ایک مجمل بات ہی کہہ سکتا ہوں کہ ابتدائی دور کے مسلم حکما نے محض اندھے مقلدوں کی طرح اس فن کو غیرمسلم استادوں سے جوں کا توں نہیں لے لیا تھا، بلکہ اسے مشرف با سلام کیا تھا اور ان کا یہ کارنامہ محض نسخوں پر ’’ہُوَ الشَّافیِ‘‘لکھ دینے تک محدودنہ تھا۔انھوں نے فن طب میں جو کتابیں لکھیں ان کو دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا پرست لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں ،جو خدا کی حمد اور رسول پر درود وسلام سے کلام کی ابتدا کرتے ہیں اور بیچ میں جگہ جگہ خدا کی حکمت اور قدرت اور اس کی شان تخلیق اور آفاق و انفس میں اس کی آیات کی طرف اشارے کرتے جاتے ہیں ۔ان کی کتابوں کا حال موجودہ زمانے کی طبی کتابوں کا سا نہیں ہے، جن میں کہیں اشارے کنایے میں بھی خدا کا ذکر نہیں آتا۔اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ پہلے ایک طالب علم کے ذہن میں تشریح بدن اور وظائف اعضا اور اسباب امراض اور خواص ادویہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ خدا پر یقین اور اس کے خالق اورحکیم اور مدبر ہونے پر اعتقاد بڑھتا جاتا تھا،اور اب یہی ساری چیزیں پڑھنے کے دوران میں ایک خالص مادہ پرستانہ نقطۂ نظر آپ سے آ پ پرورش پاتا چلا جاتا ہے۔الا یہ کہ کوئی طالب علم باہر کہیں سے ایمان باﷲ ساتھ لایا ہو اور یہاں اناٹومی اور فزیالوجی وغیرہ پڑھتے ہوئے وہ بطور خود آیات الٰہی کا مشاہدہ بھی کرتا رہے۔ قدیم زمانے میں ہمارے حکما نے یہ طریقہ مقرر کررکھا تھا کہ فن طب کی تعلیم علو م دینی کی تکمیل کے بعد دی جاتی تھی۔ایک طالب علم مدرسۂ طب میں آتا ہی اس وقت تھا جب وہ ملک کی عمومی ثانوی تعلیم سے فارغ ہوچکاہو، اور اس ثانوی تعلیم کا جزوِ لازم تعلیمِ دین ہوتا تھا۔اس لیے ہمارے ہاں کے طبیب نرے طبیب ہی نہ ہوتے تھے بلکہ عالم دین بھی ہوتے تھے۔اب معاملہ اس کے برعکس ہے کہ میڈیکل کالج کے درجۂ فراغ کو پہنچا ہوا ایک طالب علم حدود حلال وحرام کی ابتدائی معلومات تک نہیں رکھتا۔ مزید برآں ہمارے پرانے زمانے کے اطبا بالعموم زاہد وعابد لوگ ہوتے تھے،لالچ کے بغیر خدمت خلق کرتے تھے،فیس لینے سے اکثر اور دو افروشی سے کلیتاً اجتناب کرتے تھے، اور ان کی ذاتی زندگی بڑی پاکیزہ ہوتی تھی۔اس لیے طبی تعلیم کا سارا ماحول پاک اور دین دارانہ رہتا تھا اور استادوں کے عمد ہ اوصاف خود بخود شاگردوں میں سرا یت کرجاتے تھے،بغیر اس کے کہ طلبہ کو دین دار اور بااخلاق بنانے کے لیے کوئی مصنوعی کوشش کرنی پڑتی۔ اس کے ساتھ دوا سازی کے فن کی جو اصلاح ان لوگوں نے کی،اس کی طرف میں پہلے اشارہ کرچکا ہوں ۔وہ لوگ حرام چیزوں کو صرف اسی صورت میں استعمال کرتے تھے جب کہ مریض کے لیے ان کا استعمال ناگزیر ہو۔ورنہ بالعموم انھوں نے اپنی دوائوں کو حرام اور ناپاک اجزا سے پاک رکھا تھا۔ (ترجمان القرآن، اکتوبر، نومبر۱۹۵۲ء)

Leave a Comment