مہر

کیا آپ کے نزدیک یہ قانون بن جانا چاہیے کہ معاہدۂ ازواج میں جو مہر مقرر کیا گیا ہے خواہ اس کی مقدار کتنی ہی کثیر کیوں نہ ہو وہ شوہر کے لیے واجب الادا ہے؟
جواب
مہر تو شرعاً ہے ہی واجب الادا چیز۔ اس کے لیے الگ قانون بنانے کی کیا حاجت ہے؟ البتہ اگر اس کا مطلب ایسا قانون بنانا ہے کہ ہر مقدار مہر لازماً ہر حال میں واجب الادا ہو تو یہ قرآن کے بھی خلاف ہے اور عقل و انصاف کے بھی خلاف۔ قرآن عورت کو مہر معاف کرنے کا حق بھی دیتا ہے اور مہر میں کمی قبول کرنے کا حق بھی۔ نیز اگر مہر شوہر کی حیثیت سے بہت زیادہ ہو یا بعد میں کسی وقت شوہر کے مالی حالات ایسے ہو جائیں کہ وہ کسی طرح ایک گراں قدر مہر ادا کرنے کے قابل نہ رہے یا کسی عقد نکاح میں ایسا مہر بندھوا لیا گیا ہو جسے کوئی شخص بھی معقول نہ تسلیم کر سکتا ہو، تو ایسی صورتوں میں عدالت یا پنچوں کے لیے مناسب رقم پر راضی نامہ کرا دینے کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔

Leave a Comment