پیروں کا دھونا یا اُ ن پر مسح کرنا

آیت وضو(المائدہ:۶) میں فَاغْسِلُوْا اور وَامْسَحُوْا دو فعل استعمال ہوئے ہیں ۔ پہلے سے چہرے اور کہنیوں تک دھونے کا حکم ہے، اور دوسرے سے پیروں اور سر کے مسح کرنے کا حکم ہے۔ سمجھنا یہ مقصودہے کہ اہل سنت پیر دھوتے ہیں ،پیروں کا مسح کیوں نہیں کرتے؟ یہ بات کہاں سے ظاہر ہوتی ہے کہ پیر وضو کے آخر میں دھوئے جائیں ۔جواب مفصل اور واضح ہونا چاہیے۔
جواب
آیت وضو(المائدہ:۶) کے متعلق شیعوں اور سنیوں کے درمیان یہ اختلاف بہت پرانا ہے کہ آیا اس میں پائوں دھونے کا حکم دیا گیا ہے یا ان پر صرف مسح کرنے کا۔ آپ کے دوست کو یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن میں صاف پیروں کے مسح کرنے کا حکم ہے اور اہل سنت نے محض حدیث کی بنیاد پر دھونے کا مسلک اختیار کرلیا ہے۔ اگر صاف حکم یہی موجود ہوتا تو پھر کس کی مجال تھی کہ اس کے خلاف عمل کرتا۔ اصل مختلف فیہ سوال تو یہی ہے کہ قرآن فی الواقع دونوں فعلوں میں سے کس کا حکم دیتا ہے اور اس کا حقیقی منشا کیا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ (المائدہ:۶) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اٹھو نماز کے لیے تو دھوئو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پائوں ٹخنوں تک۔‘‘ اس میں لفظ وَاَ رْجُلکُمْ کی دو قراء تیں متواتر ہیں ۔ نافع،ابن عامر،حفص،کسائی اور یعقوب کی قراء ت وَاَرْجُلَکُمْ (بفتح لام) ہے، اور ابن کثیر، حمزہ، ابو عمرو اور عاصم کی قراء ت وَاَرْجُلِکُمْ (بکسر لام)۔ ان میں سے کسی قراء ت کی حیثیت بھی یہ نہیں ہے کہ بعد میں کسی وقت بیٹھ کر نحویوں نے اپنے اپنے فہم اور منشا کے مطابق الفاظ قرآنی پر خود اعراب لگادیے ہوں ،بلکہ یہ دونوں قراء تیں متواتر طریقے سے منقول ہوئی ہیں ۔ اب اگر پہلی قراء ت اختیار کی جائے تو وَاَرْجُلَکُمْ کا تعلق فَاغْسِلُوْاکے حکم سے جڑتا ہے اور معنی یہ ہوجاتے ہیں : ’’ اور دھوئو اپنے پائوں ٹخنوں تک‘‘۔ اور اگر دوسری قراء ت قبول کی جائے تو اس کا تعلق وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ سے قائم ہوتا ہے اور معنی یہ نکلتے ہیں : ’’اور مسح کرو اپنے پائوں پر ٹخنوں تک‘‘۔ یہ صریح اختلاف ہے جو ان دو مشہور ومعروف اور متواتر قراء توں کی وجہ سے آیت کے معنی میں واقع ہوجاتا ہے ۔اس تعارض کو رفع کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ دونوں قراء توں کو کسی ایک ہی مفہوم (غسل یامسح) پر محمول کیا جائے۔لیکن اس کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں ، وہ ہمیں کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچاتیں ۔ کیوں کہ جتنے وزنی دلائل کے ساتھ ان کو غسل پر محمول کیا جاسکتا ہے قریب قریب اتنے ہی وزنی دلائل مسح پر محمول کرنے کے حق میں بھی ہیں ۔دوسری صورت یہ ہے کہ محض قواعد زبان کی بِنا پر ان میں سے کسی ایک معنی کو ترجیح دی جائے۔لیکن یہ صورت بھی مفید مطلب نہیں ،کیوں کہ دلائل ترجیح دونوں پہلوئوں میں قریب قریب برابر ہیں ۔ اب آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے عمل کو دیکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ وضو کا حکم کہیں خلا میں تو نہیں دیا گیا تھا اور نہ وہ محض قرآن کے مصحف پر لکھا ہوا ہمیں مل گیا ہے۔یہ تو ایک ایسے فعل کا حکم ہے جو پنج وقتہ نمازوں کے موقع پر عمل کرنے کے لیے دیا گیا تھا، حضور ﷺ خود اس پر ہر روز کئی کئی بار عمل فرماتے تھے اور آپ کے متبعین، مرد، عورتیں ، بچے، بوڑھے سب روزانہ اس حکم کی تعمیل اس طریقے پر کرتے تھے جو انھوں نے آں حضور ﷺ کے قول اور عمل سے سیکھا تھا۔آخر ہم کیوں نہ یہ دیکھیں کہ قرآن کے اس حکم پر ہزارہا صحابہ ؓ نے حضورﷺ کو، اور بعد کے بے شمار مسلمانوں نے صحابہ ؓ کو کس طرح عمل کرتے دیکھا؟قرآن کے الفاظ سے جو بات واضح نہ ہوتی ہو،اسے سمجھنے کے لیے اس ذریعہ سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کون سا ہوسکتا ہے۔ اس ذریعۂ علم کی طرف جب ہم رجوع کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ صحابہ کی اتنی کثیر تعداد رسول اﷲ ﷺ سے پائوں دھونے کے قول اور عمل کو نقل کرتی ہے،اور تابعین کی اس سے بھی زیادہ تعداد صحابہ سے اس کو روایت کرتی ہے کہ اس خبر کی صحت میں شک کرنے کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ تھوڑی سی روایات مسح کے حق میں بھی ہیں ، لیکن ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ اور صحابہ کا عمل مسح کا تھا، بلکہ دو تین صحابیوں کی اپنی راے یہ تھی کہ قرآن صرف مسح کا حکم دیتا ہے۔ نیز ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اگر وضو سے ہوتے اور پھر نماز کے وقت تجدید وضو کرنا چاہتے تو صرف مسح پر اکتفا کرتے تھے۔ دوسری طرف متعدد مستندروایات خود اہل تَشَیُّع کے ہاں ایسی ملتی ہیں جن سے پائوں دھونے کا حکم اور عمل ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً محمدبن نعمان کی روایت ابو عبداﷲؓ سے جس کو کلبی اور ابوجعفر طوسی نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم سر کا مسح بھول جائو اور پائوں دھو بیٹھو تو پھر سر کا مسح کرو اور دوبارہ پائوں دھو لو۔‘‘({ FR 1668 }) اسی طرح محمد بن حسن الصفار حضرت زید بن علی سے، وہ اپنے والد امام زین العابدین سے،وہ اپنے والد اما م حسینؓسے، اور وہ اپنے والد سیدنا علی ؓسے ان کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ’’میں وضو کرنے بیٹھا،سامنے سے رسول اﷲ ﷺ تشریف لائے۔ میں جب پائوں دھونے لگا تو آپﷺ نے فرمایا:’’اے علی!انگلیوں کے درمیان خلال کرلو۔‘‘({ FR 1669 }) الشریف الرضی نے ’’نہج البلاغہ‘‘ میں حضرت علیؓ سے رسول اﷲ ﷺ کے وضو کی جو کیفیت نقل کی ہے ،اس میں بھی وہ پائوں دھونے ہی کا ذکر فرماتے ہیں ({ FR 1632 })۔اس سے ظاہر ہے کہ روایات کا وزن تمام تر غسل قدمین کے حق میں ہے اور محض مسح کی تائید بہت ہی کم اور سنداً ومعنیً کمزور روایتیں کرتی ہیں ۔ اب عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو پائوں دھونے ہی کا عمل زیادہ معقول اور قرآن کے منشا سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ وضو میں جتنے اعضا کی صفائی کا حکم دیا گیا ہے، ان میں سب سے زیادہ گندگی اور میل کچیل لگنے کا امکان اگر کسی عضو کو ہے تو وہ پائوں ہی ہیں ۔ اور سب سے کم جس حصۂ جسم کے آلودہ ہونے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ، وہ سر ہے۔ یہ عجیب بات ہوگی کہ دوسرے سب اعضا کو تو دھونے کا حکم ہو اور پائوں مسح کے حکم میں سر کے ساتھ شامل کیے جائیں ۔ پھر پائوں پر مسح اگر وضو کے آخر میں کیا جائے تو لامحالہ گیلے ہاتھ ہی پھیرنے ہوں گے۔ اس صورت میں پائوں پر جو گرد وغبار یا میل کچیل موجود ہوگا،وہ گیلے ہاتھ پھیرنے سے اور بھی زیادہ گندا ہوجائے گا۔علاوہ بریں اگر آدمی پائوں پر صرف مسح کرے تو آیت کے دو متحمل معنوں میں سے ایک(یعنی غسل قدمین) لازماً چھوٹ جاتا ہے اور صرف ایک ہی مفہوم کی تعمیل ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی پائوں دھوئے بھی اور اچھی طرح ہاتھوں سے مل کر ان کو صاف بھی کر دے تو آیت کے دونوں مفہوموں پر بدرجۂ اتم عمل ہوجاتا ہے،کیوں کہ اس صورت میں غسل اور مسح دونوں جمع ہوجاتے ہیں ۔ البتہ مسح کے حکم پر عمل رسول اﷲ ﷺ نے اس حالت میں کیا ہے جب کہ آپﷺ موزے پہنے ہوئے تھے۔({ FR 1617 }) یہ آیت کے دوسرے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے،بکثرت روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور سراسر معقول بھی۔ مگر تعجب ہے کہ شیعہ حضرات اسے نہیں مانتے، حالاں کہ یہ ان کے اپنے مسلک سے بھی قریب تر ہے۔ (ترجمان القرآن،فروری:۱۹۵۹ء)

Leave a Comment