جواب
عدّت کا آغاز طلاق یا خلع کے وقت سے ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میاں بیوی اس سے پہلے کتنے عرصہ سے الگ الگ رہ رہے ہیں ۔
جمہور فقہا (احناف، مالکیہ، شوافع اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق حنابلہ) کے نزدیک خلع کی عدّت وہی ہے جو طلاق کی ہے، یعنی جوان عورت کے لیے تین حیض اور دیگر کے لیے تین ماہ۔ بعض دیگر تابعین اور فقہا، مثلاً سعید بن المسیّب، سالم بن عبد اللّہ، سلیمان بن یسار، عمر بن عبد العزیز، حسن، شعبی، نخعی اور زہری رحمہم اللہ وغیرہ کی بھی یہی رائے ہے ۔
بعض صحابہ، تابعین اور فقہا(ایک قول کے مطابق ا حمدؒ) مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، ابن عمرؓ، ابن عباس ؓ، حضرت ابان بن عثمانؒ، اسحاقؒ اور ابن المنذرؒ کے نزدیک خلع کی عدّت ایک حیض ہے ۔
ان حضرات کی دلیل حضرت ابن عباسؓ سے مروی یہ حدیث ہے کہ جب حضرت ثابت بن قیسؓ کی بیوی نے ان سے خلع لیا تو اللہ کے رسولﷺنے ان کی عدّت ایک حیض قرار دی تھی۔ (ابوداؤد۲۲۲۹،ترمذی۱۱۸۵)
خلع کے بعد دوبارہ نکاح
سوال: کیا خلع کے بعد سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کی گنجائش رہتی ہے؟
جواب: خلع کے نتیجے میں ایک طلاق بائن پڑتی ہے، یعنی عدت کے دوران شوہر کو رجوع کرنے کا حق نہیں رہتا، لیکن عورت کو حق رہتا ہے کہ اگر اس کی مرضی ہو اور شوہر بھی چاہے تو ان کا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے عدت مکمل ہونے کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ دورانِ عدت بھی دونوں کا از سر نو نکاح ہو سکتا ہے۔