مسلمانوں کا مشترکہ نصب العین

کچھ مدت پہلے میرا یہ خیال تھا کہ صرف ہم ہندوئوں میں ہی ایک مشترکہ نصب العین نہیں ہے۔ بخلاف اس کے مسلمانوں میں اجتماعی زندگی ہے اور ان کے سامنے واحد نصب العین ہے۔ لیکن اب اسلامی سیاست کا بغور مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں کاحال ہم سے بھی دگرگوں ہے۔ میں نےمختلف مراکز فکر کے مسلم راہ نمائوں سے ان کے نصب العین اورطریقۂ کار کے بارے میں ایک متلاشیِ حق کی حیثیت سے چند ایک امور جو میرے لیے تحقیق طلب تھے،دریافت کیے۔ ان کے جوابات موصول ہونے پر میرا پہلا خیال غلط نکلا اور معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں بھی طریقۂ کار اور نصب العین کے بارے میں زبردست اختلاف پایا جاتا ہے۔ (اس موقع پر مستفسر نے جماعت اسلامی سے اختلاف رکھنے والے بعض اصحاب کی تحریروں سے چند سطور نقل کی ہیں ۔انھیں حذف کیا جاتا ہے) ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ آپ کے مشترک العقیدہ راہ نما کس شدید اختلافِ آرا میں مبتلا ہیں ۔ان ٹھوس حقائق اور واقعات کو نظر انداز کرکے محض کتابوں کے صفحات پر ایک چیز کو نظریے کی شکل میں پیش کردینا اور بات ہے اور اسے عملی جامہ پہنانا قطعاً مختلف چیز ہے۔سیاست ایک ٹھوس حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔کیا آپ میرے اس سارے التماس کو سامنے رکھ کراپنے طریقۂ کار اور راہِ عمل سے بہ تفصیل مطلع فرمائیں گے؟
جواب

آپ کایہ خیال بالکل صحیح ہے کہ اس وقت مسلمانو ں میں ایک مشترکہ مقصد اور نصب العین کا فقدان ہندوئوں سے بھی کچھ زیادہ پایا جاتا ہے۔درحقیقت یہ سب کچھ نتیجہ ہے اسلام سے بے نیاز ہوکر دنیوی معاملات کو خواہشاتِ نفس اور غیر مسلم طور طریقوں کی تقلید سے حل کرنے کی کوشش کا۔اگر مسلمان خالص اسلامی اُصول پر اپنے انفرادی واجتماعی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے تو آپ ان کو ایک ہی مقصد اور ایک ہی نصب العین کے پیچھے اپنی ساری قوتیں صَرف کرتے ہوئے پاتے۔ آپ نے مسلمانوں کے اندر خیالات اور اعمال کا جو انتشار محسوس کیا ہے اسے میں بھی ایک مدت سے دیکھ رہا ہوں اور ہماری اسلامی تحریک کے ساتھ مسلمانوں کے مختلف طبقوں کا جو رویہ ہے وہ بھی میر ی نگاہ میں ہے۔ مگر ان چیزوں سے میرے اندر کوئی بددلی پیدا نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ان باتوں کی تہ میں جو اصلی خرابی ہے ،اسے میں اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ صرف یہی نہیں کہ میں بددل نہیں ہوں بلکہ ایک بڑی حد تک پراُمیدہوں ۔جیسا کہ آپ نے خود بھی تحریر فرمایاہے ،مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرتا جارہا ہے کہ جو چیز میں پیش کررہا ہوں ، یہی اصلی اور خالص اسلام ہے۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ مسلمانوں کے موجودہ مختلف گروہ جس طرز پر کام کررہے ہیں ،اس سے ان کافلاح کی منزل تک پہنچنا تقریباًمحال ہے۔لہٰذا اس امر کا قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مسلمان نوجوان ان مختلف گروہوں سے اور ان کی سیاست سے مایوس ہوجائیں گے اور ان کے لیے خالص اسلام کے اُصولوں پر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہندوئوں میں بھی جب قوم پرستی سیاسی آزادی کی منزل پر پہنچ جائے گی تو انھیں سیاست اور معاشرت اور تمدن کی مشینری کو چلانے کے لیے کچھ اُصول درکار ہوں گے اور وہ گاندھی جی کے فلسفے میں ،یاکانگریس کی وطن پرستی اور ہندو مہا سبھا کی قوم پرستی میں نہ مل سکیں گے۔اس وقت ان کے لیے صرف دو ہی راستے ہوں گے۔ یا اشتراکیت کے اُصولوں کو اختیار کریں ، یا پھر اسلام کے اُصولوں کو قبول کر لیں ۔ اس موقع کے پیش آنے تک اگر ہم اُصولِ اسلام کے بے لاگ داعیوں کا ایک صالح گروہ منظم کرنے میں کام یاب ہوگئے تومجھے ۸۰ فی صدی اُمید ہے کہ ہم اپنے ہندو اور سکھ بھائیوں کو اشتراکیت سے بچانے اور اسلام کے اُصولوں کی طرف کھینچ لانے میں کام یاب ہوجائیں گے۔
ہمارے اس مقصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں اور ہندوئو ں کی موجودہ قومی کش مکش ہے۔مگر ہم اُ مید کرتے ہیں کہ جس طریقے پر ہم اس وقت کام کررہے ہیں ،اس سے ہم ہندوئوں اورسکھوں اور دوسری غیر مسلم قوموں کے اس تعصب کو جو وہ اسلام کے خلاف رکھتے ہیں بالآخر دور کردیں گے اور انھیں اس بات پر آمادہ کرلیں گے کہ وہ اسلام کو خالص اُصولی حیثیت سے دیکھیں نہ کہ اس قوم کے مذہب کی حیثیت سے جس کے ساتھ دنیوی اغراض کے لیے ان کی مدتوں سے کش مکش برپا ہے۔ ( ترجما ن القرآن، نومبر،دسمبر۱۹۴۴ء)