اس طرح کے سودے کپاس اُترنے پر ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔بعض لوگ تو کپاس اُترنے سے دو چار ماہ پیش تر ہی ایسے سودے کرنے شروع کردیتے ہیں ۔
جواب
کپاس اُترنے پر جو سودے کیے جاتے ہیں ،ان کے معاملے میں تو صحیح صورت یہ ہے کہ سیدھی طرح بیع کا معاملہ کرلیا جائے۔یعنی بائع کے پاس جتنا مال موجود ہو،وہ اسے دکھا کر مقرر نرخ پرفروخت کردے اور مشتری مال کو دیکھ کر طے شدہ نرخ پر اسے خریدے اور اپنے قبضے میں لے لے۔ (ترجمان القرآن، ستمبر۱۹۵۱ء)

Leave a Comment