آج کے مسلمان کی بات تو الگ رہی، کیا آپ یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ خلافتِ راشدہ کے عہد میں اکثر وبیش تر جو لوگ اسلام لائے،وہ زیادہ تر سیاسی اقتدار کے خواہاں تھے؟
جواب
نبی ﷺ کے زمانے میں جو تمدنی انقلاب رونما ہوا اور جو نیا نظامِ زندگی قائم ہوا،اس کی بنیاد یہ تھی کہ عرب کی آبادی میں ایک طرح کا اخلاقی انقلاب(moral revolution)واقع ہوچکا تھا اور آں حضرت ؐ کی قیادت میں صالح انسانوں کاجو مختصر گروہ تیار ہوا تھا،اس کی قیادت تمام اہلِ عرب نے تسلیم کرلی تھی ۔لیکن آگے چل کر عہدِ خلافت ِ راشدہ میں جب ملک پر ملک فتح ہونے شرو ع ہوئے تو اسلام کی مملکت میں توسیع بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگی اور استحکام اتنی تیزی کے ساتھ نہ ہوسکا۔ چوں کہ اس زمانے میں نشرو اشاعت اور تعلیم وتبلیغ کے ذرائع اتنے نہ تھے جتنے آج ہیں اور نہ وسائلِ حمل ونقل موجودہ زمانے کے مانند تھے، اس لیے جو فوج در فوج انسان اس نئی مسلم سوسائٹی میں داخل ہونے شروع ہوئے،ان کو اخلاقی،ذہنی اور عملی حیثیت سے اسلامی تحریک میں مکمل طورپر جذب کرنے کا انتظام نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانو ں کی عام آبادی میں صحیح قسم کے مسلمانوں کا تناسب بہت کم رہ گیا اور خام قسم کے مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ لیکن اُصولاً ان مسلمانوں کے حقوق اور اختیارات اور سوسائٹی میں اُ ن کی حیثیت صحیح قسم کے مسلمانوں کی بہ نسبت کچھ بھی مختلف نہ ہوسکتی تھی۔اسی وجہ سے جب حضرت علیؓ کے زمانے میں ارتجاعی تحریکیں ({ FR 960 }) (reactionary movements)رونما ہوئیں تو مسلمان پبلک کا ایک بہت بڑا حصہ ان سے متاثر ہوگیا اورلیڈر شپ ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی جو ٹھیٹھ اسلامی طرز پر کام کرنے والے تھے۔اس تاریخی حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں یہ واقعہ ذرہ برابر بھی دل شکستہ نہیں کرتا کہ خالص اسلامی حکومت تیس پینتیس سال سے زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی۔ ( ترجما ن القرآن، نومبر،دسمبر ۱۹۴۴ء)

Leave a Comment