عید الاضحی میں خوشی کا پہلو
عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کی یادگار ہے، جو نصیحت کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عید میں خوشی کا کون سا پہلو ہے؟
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی (ولادت 1964ء) نے دارالعلوم ندوۃ العلماء سے عا لمیت و فضیلت اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی یو ایم ایس اور ایم ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ وہ 1994ء سے 2011ء تک ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کے رکن رہے ہیں۔ سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ کے معاون مدیر ہیں۔ اسلامیات کے مختلف موضوعات پر ان کی تین درجن سے زائد تصانیف ہیں۔ وہ جماعت اسلامی ہند کی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور شعبۂ اسلامی معاشرہ کے سکریٹری ہیں۔
عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کی یادگار ہے، جو نصیحت کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عید میں خوشی کا کون سا پہلو ہے؟
لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ان دنوں بہت عام ہوگیا ہے۔ مسجد میں نماز کے دوران امام صاحب پوری آواز کے ساتھ اس کا استعمال کرتے ہیں ، چاہے چند نمازی ہوں یا بڑا مجمع ہو۔ بعض علماء وعظ و نصیحت کے لیے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو استعمال کرتے ہیں ، جس سے مسجد کے اطراف میں رہنے والے متاثر ہوتے ہیں ، جن میں امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ، شدید بیمار لوگ اور غیر مسلم حضرات بھی ہوتے ہیں ، اسی طرح اس کا استعمال نعت خوانی اور دیگر مذہبی تقریبات کے لیے پبلک مقامات پر ہوتا ہے اور اس میں دن اور رات کی کوئی قید نہیں رکھی جاتی۔ بعض دینی جماعتیں شاہ راہوں اور چوراہوں پر اپنے کیمپ لگا کر اپنے مجو ّزہ اجتماعات یا مصیبت زدہ مسلمانوں کی امداد کی خاطر عطیات جمع کرنے کے لیے اعلانات کرتے وقت لاؤڈ اسپیکر کا پوری قوت سے استعمال کرتی ہیں ۔
بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں ۔ کیا دینی و شرعی اعتبار سے لاؤڈ اسپیکر کا اس طرح استعمال جائز ہے؟
کیا حالت سفر میں جمع بین الصلاتین کی اجازت ہے؟
ہمارے یہاں میت کی تدفین کے بعد قبر کے پاس سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے پہلے اور آخری رکوع کی تلاوت کی جاتی ہے۔ براہ کرم اس کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں ۔ کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟
میری والدہ کا پندرہ روز قبل انتقال ہوگیا۔ میں اس وقت باہر تھا۔ ان سے اپنی کوتاہیوں کی معافی نہیں مانگ سکا۔ اب کیا کروں ؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کم از کم ڈھائی فی صد (2.5%) ہے، چنانچہ اس سے زیادہ بھی نکال سکتے ہیں ، مثلاً پانچ فی صد یا دس فی صد۔ اب فرض کیجئے کہ پانچ فی صد کے حساب سے میری زکوٰۃ دو ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ رقم میں کسی جماعت یا ادارہ کو دوں تو کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ پوری رقم زکوٰۃ کی ہے، یا یہ بتانا ہوگا کہ اس میں ایک ہزار روپے زکوٰۃ کے اور ایک ہزار روپے عطیہ ہیں ؟
برادران ِوطن میں دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایک موبائل وین کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعہ دینی کتابیں شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچائی جائیں گی، دینی کتابیں اور فولڈر مفت تقسیم کیے جائیں گے اور کچھ کتابیں برائے نام قیمت پر فروخت بھی کی جائیں گی۔ ان سے جو رقم حاصل ہوگی وہ اسی کام میں صرف ہوگی، یعنی مزید کتابیں خرید کر اسی مقصد کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اس ادارہ سے کوئی نفع کمانا مقصد نہیں ہے۔ اس کا واحد مقصد دعوت دین ہے۔ کیا اس کام میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟ بہ راہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں ۔
ادھر کچھ عرصے سے مسلم نوجوانوں کی بڑی تعدادریاستی مظالم کا شکار ہے۔ انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اور ان پر بہت سے مقدمات لاد دیے جاتے ہیں ۔ ان مقدمات کی پیروی کے لیے خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے، جسے فراہم کرپانا بسا اوقات ان مظلومین کے لیے ممکن نہیں ہوپاتا۔ کیا اس کام میں زکوٰۃ کی رقم صرف کی جاسکتی ہے؟
میں نے گزشتہ سال سفر ِ حج کے لیے پیسہ اکٹھا کیا تھا، مگر میرا نام نہیں آیا۔میں نے وہ پیسہ محفوظ کردیا تھا۔ اب اس پر ایک سال گزر گیا ہے۔ کیا مجھے اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
ہمارے یہاں کی جامع مسجد میں امام صاحب نماز جمعہ سے قبل بہت تفصیل سے خطبہ دیتے ہیں ، جس میں وہ دین کی باتیں بہت اچھی طرح سمجھاتے ہیں اور قرآنی آیات اوراحادیث نبوی سے استدلال کرتے ہیں ۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نفع ونقصان کےمعاملے میں اپنے رسول کوبھی اختیار نہیں دیا ہے ۔ اسی طرح ہدایت کا معاملہ بھی اس نے اپنے پاس رکھا ہے ۔ کسی کوبھی، حتیٰ کہ کسی رسول یا کسی ولی کوبھی اس کا اختیار نہیں دیا ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم بھی اپنے ساتھ خاص رکھا ہے ۔ کل کیا ہوگا؟ اس کی کسی انسان کو خبر نہیں ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا ہے : ’’ یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کروں گا ، مگر ان شاء اللہ کہو ‘‘۔ امام صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں شرک کرنے والوں نے جن جن کومعبود بنایا ہوگا اورانہیں خدا ئی میں شریک کیا ہوگا ، روزِقیامت اللہ تعالیٰ انہیں ان کے روٗبروٗ کھڑا کرے گا اور پوچھے گا کہ کیا انہوں نے اپنے پیروکاروں کواس کا حکم دیا تھا ؟ ان میں انبیاء بھی ہوں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اور صالحین بھی۔ سب برأ ت کا اظہار کریں گے۔
نماز جمعہ کے بعد بعــض لوگوں کے درمیان چے می گوئیاں ہونے لگیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں کوئی اختیار نہیں ہے ، اسی طرح ان کی غیب دانی کا انکار کرنا ان کی توہین اوران کے حق میں گستاخی ہے۔ اسی طرح انبیاء وصلحاء کوان کے پیروکاروں کے سامنے کھڑا کرکے ان سے وضاحت طلب کرنا بھی ان کی توہین ہے۔ اس لیے امام صاحب کوایسی بات نہیں کرنی چاہیے اور انہوں نے جوکچھ کہا ہے اس پر معذرت طلب کرنی چاہیے۔
بہ راہِ کرم مطلع فرمائیں ، کیا امام صاحب نے خطبہ میں جوباتیں کہی ہیں وہ غلط ہیں اور قرآن وسنت کی تعلیمات سے ان کی تائید نہیں ہوتی۔